آخری وقت اشاعت:  بدھ 14 ستمبر 2011 ,‭ 15:35 GMT 20:35 PST

’آور لیڈی آف ایلس بھٹی‘

اتوار کو کراچی میں مقبول و معروف ناول ’دی کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز‘ کے مصنف محمد حنیف کے نئے ناول ’آوور لیڈی آف ایلس بھٹی‘ کی تقریب رونمائی ہوئی۔ جو اپنے انداز، شرکاء اور رنگا رنگی کے اعتبار سے ان تمام تقریبوں سے مختلف تھی جو عام طور پر کراچی میں ہوتی رہتی ہیں۔

کراچی میں بنیادی طور پر فوجیوں کے لیے بنائے جانے والے اور اب با اثر اور دولت مندوں کی اکثریت کے حوالے سے پہچانے جانے والے علاقے ڈیفنس میں واقع ثقافتی مرکز ’ٹی 2 ایف یا سیکنڈ فلور‘ میں اس تقریب کے لیے مخصوص مختصر ہال کھچا کچھ بھرا ہوا تھا اور لگتا تھا کہ حنیف مردوں سے زیادہ عورتوں میں اور عورتوں سے زیادہ نوجوانوں میں مقبول ہیں۔

اس تقریب کے میزبان صحافی اور فلم ساز حسن زیدی تھے اور جب وہ محمد حنیف کے بارے میں حاضرین کو بتا رہے تھے تو حنیف اپنی مخصوص بےنیازی اور لاتعلقی کی تصویر بنے ہوئے تھے اور انداز سے یوں لگتا تھا کہ انہیں سگریٹ کی طلب زیادہ ہو رہی ہے۔

زیدی نے حنیف کے تین پہلوؤں پر اصرار کیا، ایک یہ کہ وہ تلخیص بہت اچھی کرتے ہیں، دو یہ کہ وہ انگریزی لکھتے ہوئے اردو سے پنجابی اور انگریزی میں بڑے آرام سے چلے جاتے ہیں اور تین یہ کہ حنیف کو ’لوّ سٹوریز‘ لکھنا انتہائی ناپسند ہے اور یہ ناول اسی ناپسندیدگی پر قابو پانے کی کوشش ہے۔

اس تعارف کے بعد حنیف نے ناول کا ایک مختصر حصہ پڑھ کر سنایا۔ اس میں سترہ سالہ نور ناول کے دو مرکزی کرداروں ایلس بھٹی اور ٹیڈی بٹ کے بارے میں بتا رہا ہے۔ ایلس ایک کرسچن لڑکی ہے اور جیل سے رہائی کے بعد اپنی زندگی کو پھر سے شروع کرنا چاہتی ہے۔ اسے ایک ایسے ہسپتال میں نرس کی ملازمت ملتی ہے جہاں منشیات کے عادی اور گولیوں سے زخمی ہونے والے لائے جاتے ہیں۔ یہیں پولیس کے جزوقتی ٹاؤٹ، ٹیڈی بٹ سے اس کا رومانی رشتہ شروع ہوتا ہے۔

تالیوں کی بھر پور گونج پر ختم ہونے والے خاموشی اور کبھی کبھی اُبل پڑنے والے بھرپور قہقہوں کے اس وقفے کے بعد زیدی نے حاضرین کو سوالوں کی دعوت دی۔

پہلا سوال یہ ہوا کہ ناول کے مرکزی کردار کا نام ایلس بھٹی کیوں ہے؟ حنیف کے چہرے پر ایسی مسکراہٹ پھیل گئی جو یہ کہتی تھی کہ ’مجھے پتہ تھا سب سے پہلے یہی پوچھا جائے گا‘، اس نے کرسی پر پہلو بدلا اور اور مخصوص انداز میں سر کھجاتے ہوئے کہا ’ایک تو یہ کہ پاکستان کی پنجابی کرسچن لڑکیوں میں یہ نام بہت عام ہے، پھر یہ بھی ہے کہ عام طور پر لکھنے والے بہت کچھ اپنے مطالعے سے بھی اخذ کرتے ہیں، مجھے ایلس ونڈر لینڈ چونکہ بہت پسند رہی ہے تو ہو سکتا ہے کہ یہ نام ان دونوں باتوں سے مل کر بن گیا ہو لیکن تیسری اور اہم بات یہ ہے کہ جب میں نے یہ ناول شروع کیا تو یہ کردار مجھ سے کھل کر بات نہیں کر رہا تھا پھر ایک دن میں نے اسے ایلس بھٹی کا نام دے دیا تو یوں لگا کہ جیسے اس کردار کو اسی کا انتظار تھا۔ یوں بھی میرے خاصے دوست بھٹی ہیں اور ان میں سے کچھ نے میری زندگی میں مشکلات بھی پیدا کیں لیکن یہ کردار اُس لڑکی کی بھی شبیہ ہے جسے میں نے بیس سال پہلے اس وقت دیکھا تھا جب میری والدہ ہسپتال میں تھیں وہ ان کی دیکھ بھال کے لیے آتی تھی۔ خوبصورت اور ہمیشہ تھکی تھکی سی۔ وہ تبھی سے میرے ذہن میں بیٹھی ہوئی تھی۔

لکھنے کے عمل کے بارے میں کیے جانے والے ایک اور سوال کے جواب میں حنیف کا کہنا تھا کہ انہیں مکمل طور پر تو نہیں لیکن جزوی طور پر اندازہ ہوتا ہے کہ کہانی انہیں کہاں لے جائے گی، ایکسپلوڈنگ مینگوز، میں تو مجھے کیا سبھی کو پتہ تھا کہ انجام کیا ہو گا اور ہوا (قہقہ) لیکن بالعموم ایک تجسس سا ہوتا ہے اور بوریت ہوتی ہے جو لکھواتی ہے۔

جب حسن زیدی نے یہ پوچھا کہ آپ کا پہلا ناول (دی کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز) تو واحد متکلم میں ہے لیکن اس ناول کا انداز وہ نہیں ہے تو حنیف کا کہنا تھا کہ ’واحد متکلم میں لکھنا انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے، اس کے لیے آپ کو ہر کردار میں گھسنا پڑتا ہے اور یہ تقاضے پورے کرنے کے لیے بڑی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے‘۔

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ وہ اپنے ناول کو فلم کے پس منظر میں کیسے دیکھتے اور کیسی لڑکی ایلس بھٹی کا کردار ادا کر سکتی ہے؟ تو حنیف نے ہنستے ہوئے حسن زیدی کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ اس کے بارے میں تو آپ ان سے پوچھیں، یہ فلم میکر ہیں، میں نے تو ناول لکھا ہے، میں تو بس اتنا چاہوں گا کہ لڑکی خوبصورت ہونی چاہیے۔

حنیف نے ایک اور سوال کے جواب میں بتایا کہ انہوں نے اپنا پہلا ناول ایک سیاسی تھرلر کے طور پر لکھا لیکن ان کے پبلشر نے اسے ادبی ناول کے طور پر شایع کیا تو یہ ناول انہوں نے ادبی ناول کے طور پر لکھا ہے۔

انہوں نے بتایا کے ان کے دوست ان کے پہلے ناول کا اردو میں ترجمہ کر رہے ہیں اور پھر وہ اسے سندھی میں بھی کریں گے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ان کے دوست بھی ان کی طرح سست ہیں اس لیے دیکھتے ہیں کہ یہ کام کب ہوتا ہے۔

اپنے پہلے ناول پر پیدا ہونے والے ردِ عمل کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ’اور کسی نے تو کوئی خاص ردِ عمل ظاہر نہیں کیا لیکن ایک صاحب نے انہیں مرکزی کردار (جنرل ضیا) کے بیٹے کا یہ پیغام پہنچایا کے ’میرے والد زندہ ہوتے تو پھر میں دیکھتا کہ وہ (حنیف) یہ ناول کیسے لکھتا‘۔

تقریب کے آخر میں محمد حنیف کو ناول آٹو گراف کرنے کے لیے کہا گیا اور اس وقت جتنے لوگوں نے ناول خرید کر دستخط کرنے کے لیے لائینیں لگائیں انہیں دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ انگریزی پڑھنے والے ایسے لوگوں کی اکثریت اس ناول کو ضرور پڑھنا چاہے گی۔

bbc.co.uk navigation

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔