
ایم ایف حسین کا کام رہتی دنیا تک یاد رکھا جائيگا
کم ہی لوگ ہوتے ہیں جن کی شخصیت میں آپ جو دیکھنا چاہیں، دیکھ سکتے ہیں۔ بھارتی آرٹ کو دنیا سے متعارف کرانے والے مقبول فدا حسین فن کے قدر دانوں کے لیے عظیم مصور اور فلم ساز تھے۔
ہندو شدت پسندوں کے لیے دشمن، اور کئی نسلوں کے لیے اس بات کی جیتی جاگتی مثال کے زندگی میں کامیابی کے لیے انسان کو اپنے فن، اپنے عقائد اور اپنے اصولوں سے سمجھوتہ کرنا ضروری نہیں۔
کلِک ایم ایف حسین کی شخصیت پر ایک نظر
حسین کا جنم انیس سو پندرہ میں پنڈھرپور(مہاراشٹر) میں ہوا تھا اور ممبئی میں فلموں کے پوسٹر بنانے والے ایک معمولی پینٹر سے لیکر ہندوستان کےمشہور ترین مصوروں میں شمار تک، ان کی زندگی کا طویل سفر کبھی دلچسپ تو کبھی متنازعہ، لیکن ہمیشہ غیر معمولی حد تک حیرت انگیز رہا۔
ہمشیہ ننگے پیر چلنے والے حسین کو اس سفر نے مجبوراً ممبئی سے پہلے دوبئی اور قطر، اور پھر لندن پہنچایا جہاں پچانوے برس کی عمر میں جمعرات کی صبح وہ انتقال کر گئے۔
اگرچہ حسین کو ملک کے کئی اعلی شہری اعزازات سے نوازا گیا لیکن وہ سن دو ہزار چھ سے خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے اور اسی دوران انہوں نے ہندوستانی شہریت چھوڑ کر قطر کی شہریت حاصل کرلی تھی۔
ہندو شدت پسند ان سے بہت ناراض رہتے تھے۔ ستر کی دہائی میں حسین نے ہندو دیویوں کی کچھ برہنہ پینٹنگز بنائی تھیں جن سے مشتعل ہوکر ان کے خلاف ملک کی کئی عدالتوں میں مقدمات قائم کیے گئے۔

حسین کو تمام طرح کے فنون میں دلچسپی تھی
کبھی ممبئی میں ان کے گھر کو نشانہ بنایا گیا تو کبھی ان کے فن پاروں کی نمائش کو روکنے کے لیے آرٹ گیلریز میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ مجبوراً حسین ملک چھوڑ کر چلے گئے۔
وہ ہمیشہ وطن لوٹنا چاہتے تھے لیکن اپنے قریبی ساتھیوں سے اکثر کہا کرتے تھے کہ وہ اپنی زندگی کا آخری وقت کورٹ کچہری کے چکر لگاکر نہیں گزارنا چاہتے۔
بحیثیت مصور انہیں ہندوستان کا پکاسو کہا جاتا تھا۔ اپنے ستر سال سے زیادہ کے کیرئر میں وہ پہلے گھوڑں کی تصاویر بنانے کے لیے زیادہ مشہور ہوئے اور کچھ عرصہ پہلے لندن کے ایک نیلامی گھر میں ان کی ایک پینٹنگ بیس لاکھ ڈالر میں فروخت ہوئی جو جنوبی ایشیائی مصور کے لیے ایک ریکارڈ تھا۔
ابتدائی زندگی کی جدوجہد کے بارے میں وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ ’ چھ فٹ بائی دس فٹ کے پوسٹر کے لیے ہمیں صرف چار یا چھ آنے ملتے تھے اور بعض لوگ تو کچھ نہیں دیتے تھے۔ جیسے ہی میرے پاس کچھ پیسے جمع ہوتے میں لینڈ سکیپ پینٹنگز بنانے کے لیے سورت، احمدآباد یا بڑودا چلا جاتا تھا‘۔
اسی جدوجہد کےدوران انہوں نے کھلونے بنانے والی ایک فیکٹری میں بھی کام کیا لیکن انیس سو سینتالیس میں اپنی پہلی نمائش کے بعد مڑ کر نہیں دیکھا۔ پچاس کی دہائی سے وہ ترقی پسند فنکاروں کے گروپ سے وابستہ رہے اور ماہرین کے مطابق ان کے کام میں جرمن پینٹر ایمل نولڈے اور آسٹریائی مصور آسکر کوکوشکا کے انداز مصوری کی جھلک نظر آتی ہے۔
ہندی فلموں کی مشہور اداکارہ مادھوری دیکشت لمبے عرصے تک ان کے دل و دماغ پر چھائی رہیں۔ مادھوری کے بے پناہ حسن کو انہوں نے اپنی کئی پینٹنگز میں قید کیا اور ان کے ساتھ ایک فلم بھی بنائی جسے زیادہ کامیابی نہیں ملی۔
لیکن انہوں نے جو کچھ بھی کیا، اخباروں کی سرخیوں سے کبھی دور نہیں رہے۔ اسی کے عشرے میں کلکتہ کے ٹاٹا سینٹر میں انہوں نے کئی روز تک عوام کے سامنے چھ ہندو دیویوں کی پینٹنگ بنائی اور پھر آخری دن ان پر سفید رنگ پھیر کر انہیں تباہ کر دیا!
حسین کو جتنا ان کی مصوری کے لیے اتنا ہی ان کی منفرد شخصیت کے لیے بھی یاد کیا جائے گا۔
BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔