
مائیکل جیکسن کے والد بیٹے کی وصیت سے محروم رہے
پاپ سٹار مائیکل جیکسن کے والد جو جیکسن نے اپنے بیٹے کی جائیداد سے ماہانہ وظیفے کی درخواست دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مائیکل انتقال سے پہلے کئی برس تک ان کی مدد کرتے رہے تھے۔
اکیاسی سالہ جو جیکسن کے وکیل نے لاس اینجلس کی عدالت میں ایک عرضی دی ہے جس کے مطابق ان کے ماہانہ اخراجات بیس ہزار ڈالر ہیں جبکہ حکومت انہیں صرف سترہ سو ڈالر دیتی ہے۔
اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مائیکل جیکسن کی پچیس جون کو اچانک موت کے بعد ان کی جائیداد سے تقریباً دس کروڑ ڈالر کی کمائی ہوئی ہے۔
اس عرضی پر سماعت آئندہ برس کے اوائل میں ہونے کی توقع ہے۔ لیکن مائیکل جیکسن کی جائیداد کی دیکھ بھال کرنے والے وکیل ہاورڈ وتزمین نے اس پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ ’جیکسن کی عرضی پر ویسے ہی غور کیا جائیگا جیسے مائیکل کی جائداد سے دوسری درخواستوں پر کیا گیا ہے۔‘
مائیکل جیکسن نے اپنی وصیت نامہ میں اپنے باپ کو علیحدہ رکھا تھا لیکن اپنی ماں اور بچوں کا وصیت میں ذکر کیا تھا۔
گزشتہ ماہ عدالت نے ان کی ماں کیتھرین جیکسن اور بچوں کے لیے ماہانہ وظیفہ منظور کیا تھا اور ممکن ہے کہ جو جیکسن کی عرضی پر سماعت کے بعد اس پر نظر ثانی کی جائے۔
وکیل نے عدالت میں جو کاغذات جمع کیے ہیں اس کے مطابق جو جیکسن کی کوئی باقاعدہ آمدنی نہیں ہے اور گزشتہ کئی برسوں سے وہ اپنے بیٹے کے پیسوں پر جیتے رہے ہیں جو انہیں ان کی بیوی کیتھرین کے ذریعے ملتے ہیں۔ عرضی میں مسٹر جو کی بیماریوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
© MMIX