
فیشن شو کا مقصد پاکستان کے مثبت پہلو کو اجاگر کرنا ہے: تہمینہ خالد
استاد نصرت فتح علی خان اور عابدہ پروین کےگیتوں اور کیمروں کی فلیش کی چکا چوند روشنی میں حسینائیں آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی آگے بڑھتی ہیں، تالیوں اور سیٹیوں سے لوگ اپنی پسند کا اظہار کرتے ہیں۔
یہ کراچی میں جاری فیشن ویک کا منظر ہے۔
اس شو میں بتیس ڈیزائنرز کی ملبوسات پیش کیے جا رہے ہیں جبکہ بائیس ماڈلز ان کے لیے کیٹ واک کر رہی ہیں۔ اس شو میں مغربی اور مشرقی لباس کے امتزاج سے بنائے گئے ملبوسات کی جھلک نظر آتی ہے جو رضوان بیگ، ماہین خان، دیپک پروانی ، ڈچ، بی بی رسل، زرمینہ خان، ارشد ترین، یاسر مرزا اور اطہر حفیظ کے تخلیق کردہ ہیں۔
اس شو کی کورآرڈینیٹر تہمینہ خالد کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد پاکستان کے مثبت پہلو کو اجاگر کرنا اور ملکی فیشن انڈسٹری کو فروغ دینا ہے تاکہ دنیا کو یہ بتایا جائے کہ پاکستان میں صرف بم حملے اور بچوں کے سکولوں کو دھماکوں سے نہیں اڑایا جارہا۔ ’یہ درست ہے کہ پاکستان دہشت گردوں سے جنگ لڑ رہا ہے مگر یہاں سب کچھ منفی نہیں ہورہا ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ اس شو کے انعقاد میں انہیں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ باہر سے کئی ڈیزائنرز اور خریداروں کو آنا تھا کسی بھی فیشن ویک کے لیے یہ ایک اہم پہلو ہوتا ہے مگر کچھ حالات ایسے ہوگئے کہ ان میں سے کچھ کو ویزہ جاری نہیں ہوئے، کچھ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے نہیں آئے اور کچھ کو ان کی حکومتوں نے روک لیا جو ایک بڑا دھچکا ہے۔

میلان فیشن شو میں پاکستانی ڈیزائنرز نے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے: ضیاء اصفہانی
منتظمین کو سکیورٹی خدشات کی وجہ سے اکتوبر میں ہونے والے اس شو کی دو مرتبہ تاریخ اور ایک مرتبہ جگہ تبدیل کرنی پڑی۔
اس شو میں پاکستان کے اعزازی سفیر ضیاء اصفہانی بھی شریک تھے۔ ان کی کوششوں سے پچھلے دنوں پاکستانی ڈیزائنرز ماہین خان، دیپک پروانی اور رضوان بیگ نے دنیا میں فیشن کے مرکز میلان شو میں شرکت کی تھی۔ ضیاء اصفہانی کے مطابق پاکستانی ڈیزائنرز نے وہاں کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے ہیں۔ ’میلان میں بھارتی ڈیزائنر اور خریدار پاکستان کے فیشن سے متاثر ہوئے۔ انہیں بھی اس شو میں آنا تھا مگر حالات کی وجہ سے نہیں آئے۔‘ ضیاء اصفہانی کا کہنا ہے کہ پاکستانی ڈیزائنرز اب لندن، پیرس اور نیویارک کے فیشن شو میں شریک ہو رہے ہیں۔
فیشن شو میں کچھ مغربی طرز کے ملبوسات بھی نمائش کے لیے پیش کیے گئے۔ ان میں سے ایک ڈیزائنر فہد حسین بھی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ملبوسات بولڈ نہیں تھے۔ ’پاکستان کا جو ایک عام تاثر ہے وہ اتنا ہی بولڈ ہے اور پاکستانی عورت دنیا کی کسی عورت سے کم نہیں ہے‘۔
نوجوان ڈیزائنر صنم آغا اور نومی انصاری کا کہنا تھا کہ یہ شو بین الاقوامی معیار کا تھا اور اس کے انعقاد کا مقصد باہر کے خریدار کو متوجہ کرنا تھا۔ نازنین طارق جیولری ڈیزائنر ہیں اور دبئی سے یہ شو دیکھنے آئی تھیں۔ انہیں سونیا باٹلا اور ماہین خان کا کام بہت پسند آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنے ڈیزائنرز کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا مذاق نہیں ہے اور پاکستان کے موجودہ حالات میں لوگ اتنا لطف اندوز ہورہے ہیں یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
© MMIX