Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Tuesday, 27 october, 2009, 10:13 GMT 15:13 PST

’غیرت کے نام پر قتل‘ پر فلم

بالی وڈ فلموں کے انداز میں بنائی جانے والی ایک نئی برطانوی فلم میں ایک متنازع مسئلے کو موضوع بنایا گیا ہے۔

غیرت کے نام پر کیے جانے والے قتل کا مسئلہ اس فلمی کہانی کا اہم موضوع ہے۔ یہ روایت برطانیہ کے جنوبی ایشیائی اور مشرق وسطی سے تعلق رکھنے والی برادریوں میں دیکھنے میں آئی ہے اور گزشتہ چند سالوں میں اس کے کئی خوفناک کیس سامنے آئے ہیں۔

سندیپ سنگھ

برطانوی اداکار سندیپ سنگھ فلم میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں

برطانوی پولیس کا اندازہ ہے کہ برطانیہ میں ہر سال کم سے کم بارہ افراد کا ’غیرت ‘ کے نام پر قتل ہوتا ہے اور ان میں زیادہ تر خواتین شامل ہیں۔ پولیس کا اندازہ ہے کہ برطانیہ میں ہر سال تقریباً پانچ سو لڑکیوں کی ان کی مرضی کے خلاف شادی پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دو سو کے قریب لڑکیوں کو زبردستی برطانیہ سے نکال کر ان کی شادی کرانے کے لیے ان کے والدین کے آبائی علاقے لے جایا جاتا ہے اور خیال ہے کہ ان میں سے کئی کو انکار کی صورت میں مار دیا جاتا ہے۔

بھارتی ہدایت کار اوتر بھوگل کہتے ہیں کہ وہ کئی سالوں سے غیرت کے نام پر قتل پر فلم بنانا چاہتے تھے اور جب ان کے علم میں آیا کہ یہ اب برطانیہ میں بھی مسئلہ بن چکا ہے تو انہوں نے فلم برطانیہ میں بنانے کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہناہے کہ ’اس طرح کے قتل میں غیرت یا عزت کا کوئی پہلو نہیں ہوتا ہے‘۔ اس فلم کو پنجابی، ہندی اور انگریزی میں فلمایا جا رہاہے اور اس کا پنجابی اور ہندی میں نام ہوگا’رب معاف کرے‘ ۔

زارا شیخ اور جاوید شیخ

فلم میں پاکستانی اداکارہ زارہ شیخ اور اداکار جاوید شیخ بھی ہیں

فلم کی کہانی ایک امیر سکھ خاندان کے تین نسلوں کی کہانی ہے۔ پریم چوپڑا نے اس سکھ تاجر کا کردار ادا کیا ہے جو اپنی بیٹی کو محض اس لیے قتل کر دیتا ہے کہ وہ ایک مسلمان شخص سے پیار کرتی ہے۔ اس کو اس قتل کے سلسلے میں جیل میں کئی برس تک قید کی سزا ہوتی ہے۔ لیکن تقریباً یہ ہی کہانی اگلے نسل میں دہرائی جاتی ہے جب اس خاندان کا ایک لڑکا ایک مسلمان لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ اس شخص کا کردار برطانوی اداکار سندیپ سنگھ نے ادا کیا ہے جبکہ ان کی ہیروئین کا کردار پاکستانی ماڈل اور اداکارہ زارا شیخ نے ادا کیا ہے۔ پاکستانی اداکار جاوید شیخ نے اس لڑکی کے باپ کا کردار ادا کیا ہے جبکہ لڑکے کے باپ کا کردار بالی وڈ اداکار گلشن گروور کر رہے ہیں۔

خاندان کے ایک قریبی انگریز دوست کا کردار ٹوم ایلٹر ادا کر رہے ہیں۔ ٹوم ایلٹر کے والدین امریکی مشنری تھے، ان کی پوری زندگی بھارت میں گزری ہے اور وہ ہندی اور اردو بولتے ہیں۔

ہدایتکار اوتر بھوگل

ہدایتکار اوتر بھوگل

فلم کا موضوع سنگین ہو لیکن فلم میں بالی وڈ انداز کے ناچ گانے اور مذاق شام ہیں۔ گلشن گروور کہتے ہیں کہ ظاہر ہے کہ لوگ یہ نہیں چاہتے کہ ان کو سبق سکھایا جائے۔ لیکن اگر فلم دیکھنے میں اچھی ہے اور اس سے انسان کوئی سبق اخذ کر سکے تو وہ زیادہ موثر ہوتا ہے۔

اس سلسلے میں برطانوی اداکار سندیب سنگھ کو ممبئی بھیجا گیا جہاں پر ان کو بالی وڈ رقص اور اداکاری کے دیگر طریقے سیکھنے پڑے۔

اس فلم کی شوٹنگ لندن کے ہیتھرو ائرپورٹ کے قریبی علاقے سلاؤ میں جاری ہے جہاں ایشیائی نژاد افراد کی بڑی تعداد آباد ہے۔ امکان ہے کہ یہ فلم اگلے سال ریلیز ہوگی اور پروگرام کے مطابق اس کے پریمیئر لندن، ممبئی اور لاہور میں ہونگے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔