Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Tuesday, 27 october, 2009, 08:30 GMT 13:30 PST

شدت پسندی:عوامی حمایت کے لیے ڈرامہ سیریل

ڈرامہ خدا زمین سے گیا نہیں

سولہ اقساط پر مشتمل اس ڈرامے کی کہانی سوات اور قبائلی علاقوں میں سرگرم ایک شدت پسند راہنما کے گرد گھومتی ہے

ایک نجی کمپنی نے پاکستان میں شدت پسندی کے رواج اور اس کے خاتمے کے لیے حکومت اور پاکستانی فوج کی حکمت عملی کے بارے میں ایک ڈرامہ سیریل تیار کیا ہے۔ فوج کے تعاون سے تیار کیے گئے اس ڈرامے کا بظاہر مقصد قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان سمیت مختلف علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائیوں پر عوامی حمایت کا حصول ہے۔

’خدا زمیں سے گیا نہیں ۔ پاکستان کی جنگ، انجام تک‘ کے خالق خاور اظہر کا کہنا ہے کہ ’ڈرامے کا موضوع تو شدت پسندی، اس کی وجوہات اور خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششیں ہیں جن میں فوجی کارروائیاں بھی شامل ہیں لیکن اس کہانی پر کام ایک برس قبل شروع کیا گیا تھا لہٰذا یہ محض اتفاق ہے کہ یہ ایک ایسے وقت میں عوام کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے جب وزیرستان میں فوجی کارروائی شروع ہوئی ہے۔‘

سولہ اقساط پر مشتمل اس ڈرامے کی کہانی سوات اور قبائلی علاقوں میں سرگرم ایک شدت پسند رہنما کے گرد گھومتی ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے تعاون سے اس میگا سیریل کی شوٹنگ میں پاکستانی فوج کے ہیلی کاپٹرز اور جوانوں نے شرکت کی ہے۔ پاکستانی فوج کے ایک میجر کو بھی اس ڈرامے میں اہم کردار دیا گیا ہے۔

دو برس قبل واہ فیکٹری میں خودکش حملے کے موقع پر گرفتار ہونے والا تیسرا خودکش حملہ آور جس نے بعد میں تحقیقاتی اداروں کی بہت مدد کی، اس کے کردار کو بھی اس ڈرامے میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کردار کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ شدت پسند کس طرح گمراہ کن خیالات کے ذریعے نوجوانوں کو خودکش بمبار بننے پر مجبور کرتے ہیں اور ان کے پیچھے اصلی محرکات کیا ہوتے ہیں

خاور اظہر

’پاکستانی فوج کے تعاون کے بغیر یہ ڈرامہ بنانا ناممکن تھا کیونکہ اس کہانی میں جتنی بڑی تعداد میں فوجی جوانوں کو جس نوعیت کی کارروائیاں کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے اس کے لیے سہولیات صرف فوج ہی فراہم کر سکتی ہے۔‘ ڈرامے میں گزشتہ برسوں کے دوران ملک میں دہشت گردی کی متعدد وارداتوں اور کرداروں کی حقیقی کہانیوں کو ڈرامائی شکل دی گئی ہے۔

خاور اظہر نے بتایا کہ دو برس قبل واہ فیکٹری میں خودکش حملے کے موقع پر گرفتار ہونے والا تیسرا خودکش حملہ آور جس نے تحقیق کے دوران اہم انکشافات کیے، اس کے کردار کو بھی اس ڈرامے میں شامل کیا گیا ہے۔ ’اس کردار کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ شدت پسند کس طرح گمراہ کن خیالات کے ذریعے نوجوانوں کو خودکش بمبار بننے پر مجبور کرتے ہیں اور ان کے پیچھے اصلی محرکات کیا ہوتے ہیں۔‘

اس کے علاوہ سوات کی ایک بیوہ سکول ٹیچر کی کہانی بھی اس ڈرامے میں شامل کی گئی ہے جو حقیقی زندگی کا ہی ایک کردار ہے جنھیں سوات کے شدت پسندوں نے علاقے سے نکل جانے کا حکم ماننے سے انکار پر اغوا کر لیا تھا۔

اس سیریل میں ملک میں شدت پسندی کو رواج دینے میں صوبہ پنجاب بلخصوص اس کے جنوبی اضلاع کے کردار کو بھی خاص طور پر موضوع بنایا گیا ہے جہاں ایک خاندان غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنے بچے کو ایک مدرسے میں داخل کرواتے ہیں جسے بعد میں لڑائی کی تربیت دی جاتی ہے۔

ڈرامے کا آغاز گزشتہ برس راولپنڈی میں ہونے والی دہشت گردی کی اس بڑی واردات سے ہوتا ہے جس میں سابق صدر پرویز مشرف کی رہائش گاہ کو بارود سے بھری گاڑیوں سے اڑانے کا منصوبہ پاکستانی فوج ایک کمانڈو ایکشن کے ذریعے ناکام بناتی ہے۔’جتنا سسپنس اور ایکش اس ڈرامے میں شامل کیا گیا ہے، اس سے پہلے کسی پاکستانی ڈرامے میں اس سے پہلے آپ کو دیکھنے کے لیے نہیں ملے گا۔‘

ڈرامہ

ملک میں دہشت پھیلانے والوں کے عزائم اور انجام کے بارے میں عوام میں ایک آگہی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے:اصغر ندیم سید

ڈرامے کے کہانی نویس اصغر ندیم سید نے بتایا کہ انہوں نے ملک میں دہشت پھیلانے والوں کے عزائم اور انجام کے بارے میں عوام میں ایک آگہی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔’شدت پسند اپنے نظریات کے پرچار کے لیے مذہب کا نام استعمال کر کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کی اصلاح اب صرف ان کے ساتھ سختی کے ساتھ نمٹنے ہی سے ممکن ہے۔‘

سولہ اقساط میں متعدد مقامات پر ملک میں دہشت گردی کی وارداتوں کے پیچھے کارفرما ایک خفیہ کردار کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ اس کردار کا نہ تو پورے سیریل میں چہرہ دکھایا گیا ہے اور نہ ہی اسے کوئی نام دیا گیا ہے۔ ’خفیہ ہاتھ‘ سے تعبیر اس کردار کا کام ڈرامے کے ویلن شدت پسند رہنما کو ٹیلی فون پر دہشت گردی کی وراداتوں کی ہدایات دینا اور اس کا معاوضہ پہنچانا بتایا گیا ہے۔

یہ میگا ڈرامہ سیریل ایک بڑے نجی ڈرامہ چینل کے علاوہ ملک کے سرکاری پاکستانی ٹیلی وژن سے بیک وقت نشر کیا جا رہا ہے۔

خاور اظہر نے بتایا کہ اس سیریل کی پشتو اور انگریزی ترجمے کا کام بھی جاری ہے اور ان دو زبانوں میں بھی یہ ڈرامہ جلد دستیاب ہو گا۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔