
سہراب سندھی، سرائکی، پنجابی اور اردو زبانوں میں گاتے تھے
سندھ کے معروف صوفی گلوکار سہراب فقیر کا پچھتر برس کی عمر میں طویل علالت کے بعد کراچی کے ایک ہسپتال میں جمعہ کے روز انتقال ہو گیا۔ فالج کی وجہ سے ان کی وہ آواز ختم ہو چکی تھی جسے سننے کے لیے لوگ دور دراز علاقوں سے درازہ (درازہ اس گاؤں کا نام ہے جہاں سائیں سچل مدفو ن ہیں) آتے تھے۔
سہراب فقیر کے انتقال کے ساتھ ہی صوفیوں کا کلام گانے والا ایک اور نامور فنکار کم ہو گیا۔ ان کی کمی پوری کرنے کے لیے مستقبل قریب میں کوئی نظر نہیں آتا ہے۔ اسی طرح جیسے علن فقیر کا مقام حاصل کرنے کے لیے ابھی تک کوئی سامنے نہیں آسکا ہے۔
سہراب کو، جن کا پورا نام فقیر سہراب خاصخیلی تھا، سائیں سچل سرمست کا کلام خصوصاً سنگ گانے کا ملکہ حاصل تھا۔
سہراب کو، جن کا پورا نام فقیر سہراب خاصخیلی تھا، سائیں سچل سرمست کا کلام خصوصاً سنگ گانے کا ملکہ حاصل تھا
انہوں نے آٹھ برس کی عمر سے صوفیوں کا کلام گانا شروع کیا تھا اور سار ی زندگی یہی کام کیا جو ان کا ذریعہ معاش تو تھا ہی لیکن محبوب مشغلہ بھی تھا۔
یہ فن انہیں ورثہ میں ملا تھا۔ ان کے والد ہمل فقیر خود اپنے وقت کے بڑے گائک تھے اورتھری میر واہ میں مدفون بزرگ شاعر خوش خیر محمد ہسبانی کے مرید تھے۔ کچھ بیٹے کو انہوں نے تربیت دی تو کچھ بیٹے کا شوق جس نے سہراب خاصخیلی کو سہراب فقیر بنا دیا۔
یہ سہراب کی اپنے فن پر گرفت اور مقبولیت ہی تھی جو حکومت کو مجبور کرتی تھی کہ انہیں طائفہ کے ساتھ بیرونی ممالک میں بھیجا جائے۔ برطانیہ ، بھارت، ناروے، سعودی عرب اور دیگر کئی ممالک میں جا کر انہوں نے سامعین سے داد وصول کی تھی۔
سائیں سچل ہفت زبان شاعر تھے اور سہراب سندھی، سرائکی، پنجابی اور اردو زبانوں میں گاتے تھے کہ جس زبان میں گایا ایسا لگا کہ یہ ان کی ہی زبان ہے۔
وہ سائیں سچل کے علاوہ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی، حضرت سلطان باہو، سا ئیں بھلے شاہ اور دیگر شعراء کا کلام بھی گایا کرتے تھے۔
© MMIX