
ایک شکاری بھیڑیے کی تصویر کو جنگلی حیات کی تصاویر کے لیے دیا جانے والا ویولا ایوارڈ 2009 ملا ہے۔
فوٹوگرافر خوسے لویز رودریگیز نے اس فوٹو کی منصوبہ بندی کئی سالوں سے کی ہوئی تھی۔
کلِک ویولا ایوارڈ یافتہ تصاویر
ان کا کہنا ہے کہ ’میں اس بھیڑیے کو شکار کرتے ہوئے دکھانا چاہتا تھا لیکن خونی انداز میں نہیں‘۔
انہوں نے گھنٹوں تک بھیڑیے کا مشاہدہ کیا اور پھر کیمرے کو ایک حرکات کے سینسر اور انفرا ریڈ ٹریپ کے ساتھ جوڑا تاکہ تصویر اسی وقت کِھنچ جائے جب بھیریا شکار کے لیے اچھلے۔
’آئبیریئن وولف‘ نسل کا یہ جانور سپین کے شمالی علاقوں میں رہتا ہے۔ فوٹوگرافر کا کہنا تھا کہ وہ اپنی تصویر میں اس جانور کی خوبصورتی اور حرکات کی دلاویزی دکھانا چاہتے تھے۔
ایوارڈ کے ججوں نے اس تصویر کا انتخاب مقابلے میں بھیجی گئیں تینتالیس ہزار فوٹوز میں سے کیا۔
جنگلی حیات کی تصاویر کا یہ فوٹو مقابلہ پچھلے پینتالیس سال سے ہو رہا ہے اور یہ لندن میں نیچرل ہسٹری میوزیئم اور بی بی سی کا جنگلی حیات سے متعلق جریدہ ’وائلڈ لائف‘ کے احتمام سے کرایا جاتا ہے۔
© MMIX