Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Thursday, 22 october, 2009, 08:07 GMT 13:07 PST

شکاری بھیڑیے کی تصویر کو پہلا انعام

ایک شکاری بھیڑیے کی تصویر کو جنگلی حیات کی تصاویر کے لیے دیا جانے والا ویولا ایوارڈ 2009 ملا ہے۔

فوٹوگرافر خوسے لویز رودریگیز نے اس فوٹو کی منصوبہ بندی کئی سالوں سے کی ہوئی تھی۔

کلِک ویولا ایوارڈ یافتہ تصاویر

ان کا کہنا ہے کہ ’میں اس بھیڑیے کو شکار کرتے ہوئے دکھانا چاہتا تھا لیکن خونی انداز میں نہیں‘۔

انہوں نے گھنٹوں تک بھیڑیے کا مشاہدہ کیا اور پھر کیمرے کو ایک حرکات کے سینسر اور انفرا ریڈ ٹریپ کے ساتھ جوڑا تاکہ تصویر اسی وقت کِھنچ جائے جب بھیریا شکار کے لیے اچھلے۔

’آئبیریئن وولف‘ نسل کا یہ جانور سپین کے شمالی علاقوں میں رہتا ہے۔ فوٹوگرافر کا کہنا تھا کہ وہ اپنی تصویر میں اس جانور کی خوبصورتی اور حرکات کی دلاویزی دکھانا چاہتے تھے۔

ایوارڈ کے ججوں نے اس تصویر کا انتخاب مقابلے میں بھیجی گئیں تینتالیس ہزار فوٹوز میں سے کیا۔

جنگلی حیات کی تصاویر کا یہ فوٹو مقابلہ پچھلے پینتالیس سال سے ہو رہا ہے اور یہ لندن میں نیچرل ہسٹری میوزیئم اور بی بی سی کا جنگلی حیات سے متعلق جریدہ ’وائلڈ لائف‘ کے احتمام سے کرایا جاتا ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔