Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Sunday, 4 october, 2009, 01:47 GMT 06:47 PST

چیخوف کراچی میں

نمرہ بُچّہ اور طلعت حسین سی گل کے ایک منظر میں

ضیاء محی الدین کی سربراہی میں قائم ہونے والی نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس کے مقاصد میں ناٹک اور سنگیت کا فروغ شامل تھا اور کم از کم ناٹک کی حد تک یہ ادارہ اپنے فرائض پوری تن دہی سے نباہ رہا ہے۔

ہر برس اکیڈمی کی طرف سے کم از کم چھ ڈرامے سٹیج کئے جاتے ہیں جن میں اکثریت عالمی کلاسیکی تھیٹر سے تعلق رکھنے والے ڈراموں کی ہوتی ہے، مثلاً مولیئر کا کنجوس، آغا حشر کا سفید خون، انتظار حسین کا خوابوں کے مسافر اور داریو فو کا جنگل میں منگل بازار، یا مستقبل قریب میں ہونے والا شیکسپئر کا ’ساون رین کا سپنا‘۔

اِس وقت ہم اکیڈمی کی تازہ ترین پیشکش ’سی گل‘ پہ بات کرنا چاہتے ہیں۔ سی گل چیخوف کا ایک معروف کھیل ہے۔ اگرچہ اٹھارہ سو چھیانوے میں جب یہ پہلی بار سٹیج کیا گیا تو اسے شدید ناکامی کا سامنا ہوا کیونکہ ناظرین اس طرح کے ڈرامے کے عادی نہیں تھے۔ بہر حال دو برس بعد جب اسے روسی ناٹک کے سب سے بڑے ہدایتکار سٹینسلا فسکی نے خود سٹیج کیا تو یہ کھیل تھیٹر کی عالمی تاریخ کا اہم ترین واقعہ بن گیا۔ اس کے بعد سے اب تک اسے دنیا کہ ہر ملک میں سٹیج کیا جا چکا ہے۔

1898 میں سی گل ماسکو آرٹ تھیٹر میں پیش کیا گیا اور دنیائے تھیٹر کی عظیم ترین شخصیت سٹینسلا فسکی نے اسکی ہدایات دیں

اس کی پیشکش آج بھی کسی ناٹک منڈلی کےلئے ایک کڑی آزمائش سمجھی جاتی ہے اور اس سے عہدہ برا ہونا تھیٹر کی دنیا میں ایک کامیابی شمار ہوتی ہے۔ پاکستان کے سٹینسلا فسکی ضیاء محی الدین نےبھی یہ روائتی چیلنج قبول کیا اور سی گل کو سٹیج کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ یہ کھیل کراچی آرٹس کونسل کی سٹیج پر اردو زبان میں پیش کیا گیا لیکن زبان کے علاوہ کھیل کی کوئی چیز تبدیل نہیں کی گئی تھی۔ کرداروں کے نام، مقامات کے نام اور روزمرہ زندگی کی دیگر تفصیلات عین وہی تھیں جو روسی ڈرامے میں دکھائی گئی ہیں، زمانہ بھی تبدیل نہیں کیا گیا چنانچہ کرداروں کے لباس، گھر کی آرائش، فرنیچر اور دیگر سازو سامان بھی انیسویں صدی کے آخر سے تعلق رکھتا ہے۔

چیخوف کے کھیل کی عالمی مقبولیت کا اندازہ اس امر سے ہو جانا چاہیئے کہ گزشتہ سو سال کے دوران اس کھیل کا سترہ مرتبہ انگریزی میں ترجمہ ہوا ہے۔ ارود میں اس کھیل کا ترجمہ منصور سعید نے کیا ہے جو تھیٹر سے والہانہ لگاؤ رکھتے ہیں اور اب یہ شوق اگلی نسل میں منتقل ہو کر اُن کی بیٹی ثانیہ سعید کو تھیٹر اور ٹیلی ویژن کی دنیا میں ایک نمایاں مقام تک لے آیا ہے۔

سی گل کراچی میں

اکتوبر 2009 میں چیخوف کا کھیل سی گل کراچی میں دکھایا گیا تو پاکستان کے سٹینسلا فسکی ضیاء محی الدین نے اسکی ہدایت کاری کا فریضہ انجام دیا

کراچی کی آرٹس کونسل کے سٹیج پر پیش کئے جانے والے اس کلاسیکی کھیل میں نمایاں کردار راحت کاظمی، طلعت حسین، ارشد محمود، بختاور مظہر، نائلہ جعفری اور ثاقب خان نے ادا کئے ہیں۔ دیگر اداکاروں میں اکبر اسلام، علی شیخ اور نمرہ بُچہ شامل ہیں۔ نوجوان نِینا کا کردار نوخیز اداکارہ ایمن پاریکھ نے خوش اسلوبی سے نبھایا ہے۔

عالمی شہرت کے کلاسیکی کھیل پیش کرنا ایک مستحسن اقدام ہے جس کے لئے اکیڈمی تعریف کی مستحق ہے لیکن مبصرین کا کہناہے کہ اس طرح کے کھیل بذاتِ خود اکیڈمی کا مطِمح نظر نہیں ہونے چاہیں۔ اِن غیر ملکی کلاسیکی ڈراموں کو صرف یہ فریضہ انجام دینا چاہیئے کہ پھکڑ بازی والے گھٹیا کمرشل تھیٹر سے تنگ آئے ہوئے ناظرین کو متبادل تفریح کے امکانات سے روشناس کرائے، لیکن اکیڈمی کی اصل کامیابی یہ ہوگی کہ اِن کلاسیکی ڈراموں کی نمائش سے پیدا ہونے والی فضا سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے مقامی لکھاریوں سے اعلیٰ معیار کے کھیل لکھوائے اور انہیں اسی آن بان سے پیش کرے جیسے چیخوف کا سی گل پیش کیا گیا ہے۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔