مہرین زبیری کی پنٹنگز ’اوپین وائیڈ‘ نمائش دیکھنے والوں کی توجہ کا مرکز بنی رہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ درد اور خوبصورتی کے بیچ بات کرنے کا ڈھنگ رنگ آنا چاہیے جو بغیر کسی جگاڑ اور دھماکے کے کی جاسکتی ہے۔

فائبر گلاس کے کھونٹے پر کھڑی بھوسے سے بھری بھینس۔
’ہینگنگ فائر‘ یا لٹکتی ہوئي آگ نام ہے فن پاروں کی اس نمائش کا جو پاکستان کے ہم عصر آرٹ کے نام پر نیویارک کی ایشیا سوسائٹی میں لگي ہے جس کے ایک عجائب خانے میں پاکستان کے پندرہ آرٹسٹوں کے فن پاروں کی شکل میں پاکستان کے مصائب کو شوکیسوں میں سجا دیا گیا ہے۔
’قصائي کی دکان پر خون اور گوشت کے لوتھڑوں اور خود کش بمباری سے بنیظیر بھٹو کی کراچي آمد کے موقع پر ہونے والے حملے تک سب کو آرٹسٹ راشد رانا نے ’سرخ قالین‘ یا ریڈ کارپیٹ کے نام سے ایک منی ایچرآرٹ اور ڈیجیٹل فوٹوگرافی کی سیریز میں جوڑا ہوا ہے۔
’نیا میڈیا‘ کے نمائندہ مصور سمجھے جانے والے راشد رانا کا کہنا ہے کہ ان کا کام مظاہر (پیراڈاکسز) اور تضادات کا مرقع ہے۔ یہ وہ ہینگنگ فائر نہیں جس کی تپش کا تصور بھی پاکستان میں لاہور، کراچي اور اسلام آباد کی اشرافیہ یا ایلیٹ کےتصور کے قریب سے نہیں گذرتا لیکن پاکستان کے غریب اور مصائب اور ذلتوں کے مارے ہوئے لوگ اس سے ہر پل اور ہر روز گذرتے ہیں۔
پاکستان کی نامور مصورہ اور سابق پرنسپل نیشنل کالج آف آرٹس اس نمائش کی کیوریٹر ہیں۔
’گیٹ آؤٹ آف مائی ڈریم‘ یا ’میرے خوابوں سے نکل جاؤ‘ لندن میں رہنے والی پاکستانی نژاد مصورہ فائزہ بٹ کی وہ پینٹنگ پولیسٹر فلم پر دوات کے ساتھ وہ کام جس میں ایک خوبصورت باریش اور سفید پگڑی پوش بظاہر نازک نقوش والے، دیے گئے تعارف کے مطابق طالبان ٹائیپ نوجوان کو دکھایا گیا ہے۔ اور یہ ’ہینگنگ فائر‘ ہی کے نام سے پچاس ڈالر میں دستیاب گلاسی کاغذ پر چھپی کتاب کے سرورق سمیت ہر جگہ ایک نشان کے طور پر شائع ہو رہا ہے، گویا کہ طالبان ٹائیپ نوجوان اب پاکستانی آرٹ کے بھی آئیکن یا علامت بن گئے ہیں۔
فائزہ بٹ کا ایک اور فن پارہ ’مائي لوّ پلیز ان ہیونلی وے‘ کاغذ پر غیر معمولی مکسڈ میڈیا کام ہے۔ اس میں خطاطی اور مصوری کا سنجوگ ہے یا دوسرے الفاظ میں حسن عشق بقول مصحفی پیرہن تو پہننے ہوئے ہیں لیکن عکس کے پس منظر میں نیوکلئير میزائیل بھی ابھر رہا ہے اور راہ میں باردو بھی بچھا ہے۔ ایک ایسا فن پارہ جسے آپ مڑ مڑ کر دیکھیں گے۔
اسی طرح عمران قریشی کی ’موڈریٹ انلائيٹن منٹ‘ یا اعتدال پسند روشن خیالی کے موضوع پر بنی سلسلہ وار پینٹنگز پاکستان میں ملائیت اور موڈرنٹی کے عجیب متضاد ملاپ پر ایک گہری لیکن رنگین چوٹ ہے۔
مہرین زبیری کی پنٹنگز ’اوپین وائیڈ‘ نمائش دیکھنے والوں کی توجہ کا مرکز بنی رہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ درد اور خوبصورتی کے بیچ بات کرنے کا ڈھنگ رنگ آنا چاہیے جو بغیر کسی جگاڑ اور دھماکے کے کی جاسکتی ہے۔
لیکن آرٹسٹ مہرین زبیری جو کہتی ہیں کہ پاکستان میں زندگی اتنی آسان نہیں ہے اور ایک تنگ سا سماجی یا ذاتی سپیس ہے، وہ اپنے کام کو ’کھلا ڈلا‘ کہتی ہیں۔ ان کی پنٹنگز ’اوپین وائیڈ‘ نمائش دیکھنے والوں کی توجہ کا مرکز بنی رہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ درد اور خوبصورتی کے بیچ میں بات کرنے کا ڈھنگ رنگ آنا چاہیے جو بغیر کسی جگاڑ اور دھماکے کے کی جاسکتی ہے۔
امریکہ میں رہنے والے پاکستانی نژاد فنکار علی رضا کاکام، جس میں جلے ہوئے کاغذ اور راکھ کا استعمال کیا گیا ہے، دیکھنے والوں کی توجہ کا مرکز رہا۔ علی رضا کا کہنا ہے کہ وہ جلنے سے انسپریشن لیتے ہیں یعنی کہ ان کے آگے جل جانا صرف منفیت ہی نہیں مثبت بھی ہوتا ہے۔ اپنے عمل، فن کو پاکستان کی تاریخ اور موجوہ حالات سے جوڑ کر دکھاتے ہیں۔
علی رضا کے کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی پینٹنگ ’نو ٹو برنز آر دی سیم‘ (دو جلے ہوئے ایک سے نہیں ہوتے) بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر وکلا کی تحریک کے دوران شائع ہونے والی احتجاج کی ایک تصویر سے متاثر ہوکر تخلیق کی تھی۔ علی رضا کی ’تھرون۔ ٹو‘ جو بظاہر ایک کموڈ کرسی لگتی ہے اصل میں اخبارات میں شائع ہونے والے جلے ہوئے اشتہارات کا استعمال ہے۔ بقول آرٹسٹ کنزیومر ازم اور تخت سیاسی طاقت کی علامت ہے۔
کراچی کی آرٹسٹ نائزہ خان کی سیریز ’کانسٹیلیشن آف اٹائر‘ ہو یا ’آسمانی گہنے‘ یا عدیلہ سلمان کے بھانڈوں سے بنائے ہوئے ہلمیٹ یا مورنی اور تاج جیسے سکلپچرز اور ان کے فوٹوگرافز، یا فوٹو گرافر یا مقتول مصور اور پاکستان میں فن مصوری کے مکتب فکر جیسے فنکار ظہور الاخلاق کی ’اندر کی طرف سفر‘ کی سیریز اور انور سعید کے ’تصوارتی ساتھیوں‘ کا کاغذ پر مشترکہ میڈیا ورک یا ان کا مچھلی اور چاند کے درمیاں دوری کا گیت کے موضوع سے شاہکار فن پارہ، یا پھر پندرہ فنکاروں میں فقط ایک ہونہار سندھی نوجوان آرٹسٹ ایاز جوکھیو کے کاغذ پرتارکول کے کام پر مبنی فن پارے ’ڈپٹیک‘ تک، لاشک کہ نمائش کی کیوریٹر سلیمہ ہاشمی پاکستان سے ہر نسل کے بہتریں اور نمایاں فنکاروں میں سے فنکار لوگوں کو نیویارک کی نمائش میں لے آئي ہے لیکن پتہ نہیں اس میں تعلق کی چمک کا گمان کیوں ہوتا ہے۔
لگتا ہے کہ پاکستان میں آرٹ کی بھی اسٹبلشمنٹ ہے بلکہ آرٹ کے مخصوص اداروں کی بھی ایک ’ہٹی‘ ہے۔

نمائش میں پندرہ فن کار شریک ہیں
لیکن سلیمہ ہاشمی سوال کی سختی سے تردید کرتی ہیں کہ آرٹسٹوں کی انتخاب میں کوئي تفریق برتی گئی ہے۔ یا کوئی فرق لاہور لاڑکانہ یا لالہ موسی کے آرٹسٹ میں بھی ہے۔ لیکن بات اربن آرٹ اور دیہی سماج میں ’تضاد‘ کی بھی کی گئی۔ دنیا کو ’انڈس ویلی سولائزیشن‘ کے بھاشن دینے والوں نے ایک روڑی بھی موہن جو داڑو یا ہڑپہ کی نہیں بنائي۔
ایک دلچسپ آئٹم نیویارک کی اس نمائش کا آرٹسٹ ہما مولجی کا ٹیکسی ڈرمک یا ساہ الفاظ میں بھوسے سے بھری بھینس فائبر گلاس کے ایک کھونٹے پر کھڑی کردی گئي ہے۔ ماحولیات اور جانوروں کے حقوق والوں کے نقطہ نظر سے قطع نظر انارکلی کا آرٹ امریکہ میں لے آنے والوں نے بھینس کی شانیں بڑھا دی ہیں۔ بھاٹی گیٹ لاہور کے شان بک پائیپ بینڈ کی امریکی قومی ترانہ سیکھنے کی ریہرسل پر بانی کی بنائي ڈاکومنٹری اور عاصمہ مندرا والا کی وڈیو کو بہت دیکھا جا رہا ہے۔ ’لیکن امریکی کہتے ہیں کہ امریکی قومی ترانے پر طنز اور تنقید بھی امریکی دیکھ رہے ہیں‘۔ بانی کہہ رہی تھیں۔
پاکستان، جہاں سچ مچ کی ’ہینگنگ فائر‘ اشرافیہ کے ڈرائنگ روموں میں سجی پینٹنگز سے بہت دور ہے، جہاں سے شاذ نادر ہی خیر کی خبر آتی ہے، وہاں سے نیویارک شہر میں نمائش نہ فقط یہ بتاتی ہے کہ پاکستان کو گیدڑ بالکل نہیں کھاگئے بلکہ وہاں زندگی کھاتی پیتی آرٹ کرتی ہے۔
ہینگنگ فائر نمائش، پاکستان جیسے گلوبل گرم ’آلو‘ کو سافٹ تصور میں بدلنے کی اچھی کوشش کہا جا سکتی ہے جس میں امریکہ کی کچھ بڑی کارپوریٹ فاؤنڈیشنوں کے علاوہ دیوان مشتاق، کراچی کی ضلعی شہری حکومت، اور پی آئی اے نے بھی فنڈنگ کی ہے۔
© MMIX