Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Saturday, 29 august, 2009, 20:11 GMT 01:11 PST

’جیکسن کی موت غیرطبعی تھی‘

مائئکل جیکسن

موت کے وقت جیکسن کی عمر پچاس برس تھی

ممتاز پاپ اسٹار مائیکل جیکسن کی موت طبعی نہیں تھی بلکہ ان کی ہلاکت نشہ آور دوا ’پروپوفل‘ کی زیادہ مقدار لینے کی وجہ سے ہوئی ہے۔

یہ فیصلہ ان کی موت کی جانچ کرنے والے سرکاری ڈاکٹر لاس اینجلس کے کنٹری کورونر نے جمعہ کے روز سنایا ہے۔

کورونر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مائیکل جیکسن کی ہلاکت کی بنیادی وجہ ان کے جسم میں نشہ آور ادویات، پروپوفل اور لورازیپام کی بڑی مقدار کی موجودگی تھا۔ ان کے جسم میں دیگر کئی ادویات کا سراغ بھی ملا ہے۔

گو امریکی ذرائع ابلاغ میں پہلے ہی یہ قیاس آرائیاں سامنے آرہی تھیں کہ مائیکل جیکسن کی ہلاکت کی وجہ نشہ آور ادویات تھیں، تاہم کورونر کی یہ رپورٹ ان قیاس آرائیوں کی پہلی سرکاری تصدیق ہے۔

مائیکل جیکسن پچیس جون کو لاس اینجلس میں اپنی رہائیش گاہ میں مشتبہ حالات میں مردہ پائے گئے تھے، جس کے بعد سے پولیس ان کی ہلاکت کی وجوہات جاننے کے لئے تفتیش کر رہی ہے۔

پولیس کی تفتیش کا محور مائیکل جیکسن کے ذاتی ڈاکٹر کورنرڈ مرے اور بعض دیگر ڈاکٹر رہے ہیں جن کے وہ زیر علاج تھے۔ پولیس نے ڈاکٹر مرے کے ہسپتال اور دفتر کی ایک سے زائد مرتبہ تلاشی لی ہے اور بتایا ہے کہ وہ ان کی ہلاکت میں زیر تفتیش ہیں۔

ڈاکٹر مرے اس بات کی سختی سے تردید کرتے ہیں کہ انہوں نے کوئی غیر قانونی کام کیا ہے یا وہ مائیکل جیکسن کی ہلاکت میں کسی طرح بھی ملوث ہیں۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق ڈاکٹر نے پولیس کو بتایا ہے کہ وہ مائیکل جیکسن کو بے خوابی کے عارضے کی وجہ سے ادویات دے رہے تھے تاہم ڈاکٹر کے مطابق مائیکل ان ادویات کے عادی بن گئے تھے اور وہ کوشش کر رہے تھے مائیکل کی یہ عادت چھڑا سکیں۔

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔