
نیویارک میں تاریخی اپولو تھیٹر کے سامنے سوگواروں کا مجمع
امریکہ کے صدر جان ایف کینیڈی، اداکارہ مارلن منرو، پاپ سنگر ایلوس پریسلے اور راک اسٹار جان لینن کی اموات کے بعد یہ مشہور عالم پاپ سنگر مائیکل جیکسن ہی ہیں کہ جن کی موت کی خبر سن کر امریکہ کے کئي شہروں میں لوگ سڑکوں پر نکل کر سوگ منا رہے ہیں۔
ماتم کناں سوگواروں کا سب سے بڑا مجمع نیویارک کے علاقے مینہیٹن کے تاریخی اور افریقی نژاد امرکیوں یا سیاہ فام امریکیوں کے علاقے تاریخی ہارلیم میں دیکھنے میں آیا۔
ہارلیم کے تاريخی ’اپولو تھیٹر‘ میں مرد عورتیں اور بچے مائيکل جیکسن کی موت کی خبر سن کر اپنے سر پیٹتے اور سینہ کوبی کرتے نظر آئے۔ بلکل ایسے جسے کبھی کراچی کے لیاری کے لوگ بھٹوؤں کی موت کا سوگ مناتے نظر آتے تھے۔

نیویارک کا تاريخی اپولو تھیٹر وہ موسیقی کا تھیٹر ہے جہاں انیس سو بیس کی دہائي سے لےکر آج تک مائیکل جیکسن سمیت سیاہ فام یا افریقی امریکی نژاد و دیگر فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔
ادھر لاس اینجلس کے ہسپتال کے باہر جہاں مائیکل جیکسن کی موت کا اعلان کیا گیا کے ہزاروں لوگ جمع ہوئے۔
لاس اینجلس کے مشہور ماہر امراض قلب اور ماؤنٹ سینائی کارڈیيک انسٹیٹیوٹ کے سربراہ ڈاکٹر پی کے شاہ نے لیری کنگ لائیو شو میں بتایا ہے کہ پچاس سالہ مائیکل جیکسن کی موت کی وجہ دل کی حرکت بند ہونے سے واقع ہونے کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
مائیکل جیکسن کے ڈاکٹر اور وکیل نے بھی مقامی میڈیا کو بتایا ہے کہ مائیکل جیکسن کے موت ان کی کنٹرول شدہ لیکن ڈاکٹروں کی دی ہوئی ادویات کے استعمال سے ہوجانے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
نیویارک سمیت اور امریکہ میں یہ سب سے بڑی اداس شام کے طور پر دیکھی جار ہی ہے جس میں پاکستانیوں سمیت کئي اقوام اور مذاہب کے لوگ معروف پاپ سنگر کی موت کا سوگ منا رہے ہیں۔
© MMIX