BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  جنید ضیاء کا شارٹ کٹ؟
 
 
  حبیب البشر: ہاری فوج کا سپاہی
 
 
  تاریخ کا دوسرا بیٹسمین
 
 
  لیما: افغان اسپورٹس کی خاتون اول
 

سچن: فیراری کے چکر میں
 

خواتین کرکٹ کا جھگڑا
 

 

وسیم کےکیریئر پر ایک نظر
 
 
  جنگ، محبت اور کھیل
 
 
  کھیل، سیاست الگ الگ
 
 
  کوبی برائنٹ پر مقدمہ
 
:تازہ خبریں
 
کرکٹ رابطوں کا خیرمقدم
بنگلہ دیش کی شکست
انگلستان، سیریز برابر
پاک ہند جونیئر کرکٹ
راڈک یوایس اوپن کے فاتح
بنگلہ دیش کا ادھورا خواب
انجو کی تاریخی چھلانگ
جنوبی افریقہ پاکستان: انکارواصرار
کشمیر: کرکٹ کی واپسی؟
اظہر ہار گئے
ہاکی میں کانسی کا تمغہ
لیانڈر پیس ہسپتال میں
کبیرعلی: ٹیسٹ پرنظر
گرینچ 19:22 - 23/08/2003
لیما عظیمی: افغان اسپورٹس کی خاتون اول
تاریخی لمحہ: لیما عالمی چیمپیئن شِپ میں حصہ لیتے ہوئے
تاریخی لمحہ: لیما عالمی چیمپیئن شِپ میں حصہ لیتے ہوئے

تحریر: طفیل احمد، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پیرس میں منعقدہ عالمی اتھلیٹِکس چیمپیئن شپ میں شرکت کے بعد تئیس سالہ لیما عظیمی بین الاقوامی مقابلے میں حصہ لینے والی افغانستان کی پہلی خاتون بن گئی ہیں۔ سنیچرکو انہوں نے سو میٹر کی خواتین کی دوڑ میں حصہ لیا لیکن ان کا ذاتی اسکور اٹھارہ اعشاریہ سینتیس سیکنڈ رہا جو اس مقابلے کی تاریخ کا سب سے کم اسکور تھا۔

لیکن بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے لیما عظیمی نے کہا: ’اس مقابلے میں میرا جیتنا اہم نہیں تھا، نہ مجھے اس کی امید تھی۔ یہ میرے ملک کے لئے سب سے بڑا اعزاز ہے کہ میں اس مقابلے میں شرکت کرسکی۔‘

لیما عظیمی سترہ مارچ انیس سو اسی کو افغانستان کے

لیما عظیمی: ایک تاریخی دوڑ
دارالحکومت کابل میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد وزارت زراعت میں کام کرتے ہیں جبکہ ان کی والدہ افغانستان کے نیشنل بینک میں ملازم ہیں۔ چار بہنوں اور دو بھائیوں میں وہ سب سے بڑی ہیں۔

لیما عظیمی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اتنا بڑا اسٹیڈیم نہیں دیکھا تھا۔ سو میٹر کی دوڑ میں شرکت کے وقت وہ ٹیلی ویژن کیمروں کی توجہ کا مرکز رہیں۔ اس مقابلے میں جہاں امریکہ کی کیلی وہائٹ جیسی مشہور اتھلیٹ نیکر پہن کر حصہ لے رہی تھیں، وہیں لیما عظیمی پورے پاجامے میں ملبوس تھیں۔

لیما عظیمی نے بتایا کہ اس سے قبل پاکستان کے علاوہ انہوں نے کسی دوسرے ملک کا دورہ نہیں کیا تھا۔ ’میں آج اپنے گھروالوں سے بات کرنا چاہتی تھی لیکن یہاں پیرس میں لوگوں نے بتایا کہ مجھے ٹیلی فون کارڈ خریدنا پڑے گا۔ اور میں نہیں جانتی کہ یہ کہاں ملے گا۔‘

’میری خواہش ہے کہ میں پیرس کا آئفل ٹاور دیکھوں۔اور ایک فرانسیسی خاتون صحافی نے میری مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے اور وہ مجھے اگلے چند دنوں میں آئفل ٹاور دکھانے لے جائیں گی۔‘ لیما عظیمی کا کہنا ہے کہ طالبان کے دور میں انہیں کسی عالمی مقابلے میں شرکت کے بارے میں سوچنے کا موقع بھی نہیں ملتا۔

لیما عظیمی اس وقت کابل یونیورسٹی میں انگریزی ادب کی طالب علم ہیں۔ انہوں نے بتایا: ’طالبان کے دور میں میری تعلیم بند ہوگئی تھی۔ میں کچھ کتابیں گھر پر ہی پڑھ لیتی تھی۔‘ ان کا کہنا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں اعلی تعلیم حاصل کرنا چاہیں گی۔

انہوں نے اس مقابلے کے لئے حال ہی میں تیاری شروع کی تھی۔ انہیں کوئی اسپانسر نہیں ملا ہے تاہم وہ آنے والے دنوں میں ایسے مقابلوں میں شریک ہونا چاہیں گی۔ ’لیکن میں افغانستان میں ہی رہنا چاہوں گی تاکہ اپنے ملک کی خدمت کرسکوں۔‘
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright