BBCi Home PageBBC World NewsBBC SportBBC World ServiceBBC WeatherBBC A-Z
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
South Asia News
BBCHindi.com
BBCPersian.com
BBCPashto.com
BBCArabic.com
BBCBengali.com
Learning English
 
 
  جنید ضیاء کا شارٹ کٹ؟
 
 
  حبیب البشر: ہاری فوج کا سپاہی
 
 
  تاریخ کا دوسرا بیٹسمین
 
 
  لیما: افغان اسپورٹس کی خاتون اول
 

سچن: فیراری کے چکر میں
 

خواتین کرکٹ کا جھگڑا
 

 

وسیم کےکیریئر پر ایک نظر
 
 
  جنگ، محبت اور کھیل
 
 
  کھیل، سیاست الگ الگ
 
 
  کوبی برائنٹ پر مقدمہ
 
:تازہ خبریں
 
کرکٹ رابطوں کا خیرمقدم
بنگلہ دیش کی شکست
انگلستان، سیریز برابر
پاک ہند جونیئر کرکٹ
راڈک یوایس اوپن کے فاتح
بنگلہ دیش کا ادھورا خواب
انجو کی تاریخی چھلانگ
جنوبی افریقہ پاکستان: انکارواصرار
کشمیر: کرکٹ کی واپسی؟
اظہر ہار گئے
ہاکی میں کانسی کا تمغہ
لیانڈر پیس ہسپتال میں
کبیرعلی: ٹیسٹ پرنظر
گرینچ 13:41 - 19/08/2003
کبیرعلی: ٹیسٹ پرنظر
انگلینڈ کی کاؤنٹی ٹیم ووسٹر شائر کے بالر کبیر علی کو امید ہے کہ اگر انہیں جمعرات کو جنوبی افریقہ کے خلاف شروع ہونے والے چوتھے ٹیسٹ کے لئے منتخب کیاگیا تو وہ انگلینڈ کے نئے سیم باؤلروں کی کامیابیوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

کبیر علی اور کاؤنٹی ٹیم سری کے سینئیر کھلاڑی

مارٹن بکنیل کو چوتھے ٹیسٹ کے لئے انگلینڈ کی ممکنہ ٹیم میں شامل کیا گیا ہے، اور اس بات کا کافی امکان ہے کہ ان میں سے ایک کو تو کھلایا جائےگا۔ خاص طور پر اگر سٹیو ہارمیسن ٹانگ کی چوٹ کی وجہ سے نہیں کھیل پاتے ہیں۔

ٹرینٹ برِج میں کھیلے جانے والے تیسرے ٹیسٹ میں جیمز کرٹلی نے، جو اپنا پہلا ٹیسٹ کھیل رہے تھے، چونتیس رن دے کر چھ وکٹ حاصل کئے۔ اور سمرسیٹ کے رچرڑ جانسن نے اس سال کے اوائل میں زمبابوے کے خلاف تینتیس رن دے کر چھ وکٹ حاصل کئے تھے۔

ووسٹر شائر کے کرکٹ ڈائریکٹر ٹام موڈی کا خیال ہے کہ بین الاقوامی سطح پر علی کا مستبقل روشن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ’جب تک وہ اپنے آپ کو ’شاپ ونڈو‘ پر رکھیں گے اور اپنے کھیل میں بہتری لاتے رہیں گے، تو سلیکٹر حضرات ایک ایسی پوزیشن میں ہونگے کہ ان کے پاس (علی کو) منتخب کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔‘

علی کوگزشتہ ماہ زمبابوے کے خلاف ایک روزہ میچ

بکنیل اور علی
کے لئے منتخب کیا تو گیا تھا تاہم وہ میچ بارش کی نظر ہوگیا۔ اس کے بعد سے علی بہترین فارم میں رہے ہیں اور انہوں نے کاؤنٹی سیزن میں دو مرتبہ ایک اننگز میں آٹھ وکٹ لیے ہیں۔

علی کا کہنا ہے کہ ’انگلینڈ کی ایک روزہ ٹیم میں شامل کیا جانا ایک اچھا تجربہ تھا، حالانکہ میچ میں شرکت نہ کرنا تھوڑا سا مایوس کن۔ لیکن امید ہے کہ آئندہ مجھے اور بھی مواقع ملیں گے اور ٹیسٹ میچ میں کھیلنا بہت اچھا ہوگا۔‘

علی کرکٹ کے علاوہ ماڈلِنگ بھی کرتے رہے ہیں۔

علی کے مقابلے میں مارٹن بکنیل بہت تجربہ کار ہیں لیکن انہو ں نے بین الاقوامی سطح پر تقریباً دس برس سے نہیں کھیلا ہے۔ بکنینل نے کہا کہ ’دو یا تین برس قبل میرے نام کا ذکر توکیاگیا اور میرا خیال تھا مجھے موقعہ مل جائے گا لیکن نہیں ملا اور میں نے سوچا اب کوئی چانس نہیں ہے۔‘

’مجھ تک جب خبر پہنچی تو بڑی حیرت ہوئی، ایسا لگا کہ کسی نے مذاق کیا ہے۔ ہاں اگر میں پچ پر اتر جاؤں تو امید ہے مجھے اپی کارکردگی پر فخر ہوگا۔‘
 
 

 urdu@bbc.co.uk
 
 
 
 < عالمی خبریں 43 زبانوں میںواپس اوپر ^^ BBC Copyright