
’عالمی برادری کی مشکل یہ ہے کہ انہیں زرداری حکومت کی کریڈبلٹی پر شک ہے‘
کہتے ہیں کہ جب غیر منقسم ہندوستان پر انگریز کی حکومت تھی تو تب وڈیرہ یا چودھری جب سالانہ دورے پر آئے ہوئے وائسرائے یا ’لاٹ صاحب‘ کی سلامی پر جاتے تھے تو اپنی جیبوں میں اپنے گھر سے چلغوزے یا دیگر خشک میوہ چھپا کر لے جاتے تھے۔ مختصر ملاقات وڈیرہ کے کھڑے پیروں ’ڈسمس‘ ہو جاتی تھی لیکن وڈیرہ باہر منتظر اپنے نوکر کو لاٹ صاحب کی ان سے بے تکلفی کے قصےگھڑ گھڑ کر سناتا تھا کہ کس طرح لاٹ صاحب انہیں جانے نہیں دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ بڑے دنوں کے بعد مل رہے ہو۔ کھانا کھائے بغیر تمہیں جانے نہیں دوں گا۔ میں نے کہا صاحب پیچھے زمینوں کا خیال رکھنا ہے،گھر میں اکیلائي ہے تب جا کر لاٹ صاحب مجھے جانے دینے پر رضا مند ہوئے لیکن کہا کہ ’وڈیرہ! چلو اگر کھانا نہیں کھاتے تو یہ میوہ جات ہی راستے کیلیے لیتے جاؤ‘۔
یہی حال آصف علی زرداری کے ’فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان‘ اور اس کے گذشتہ جمعرات کو نیویارک کے ہونے والے اجلاس کا ہے جو ہوٹل والڈروف اسٹوریا کے چوتھے فلور پر ایک گھنٹے کے اندر مبارک مبارک کے ہر طرف ڈھول تاشوں سے ختم ہوا۔ گئے تو پاکستان کے لیے پہلے والے ’پلیجز‘ پر عمل کروانے تھے لیکن کیری لوگر بل کی شکل میں پہلے سے ہی جیب میں پڑا خشک میوہ لے کر آئے۔
جیسے اسی دن وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کہہ رہے تھے کہ’چھپن سالہ تاریخ میں کبھی کسی لیڈر کی آنکھوں میں پاکستان کی قیادت کیلیے اتنے جذبات نہیں دیکھنے میں آئے جتنے صدر آصف علی زرداری کی حکومت کے بارے میں دیکھنے میں آئے‘۔ صدر زرداری کے وفد میں شامل ایک اور وزیر رحمان ملک نے تو نیویارک کے کوئنز میں پاکستانیوں کے ایک استقبالیے میں فرینڈز آف پاکستان میں شریک بیس ممالک کی طرف سے صدر زرداری کی حکومت کی سیاسی حکومت کے حمایت کے حوالے سے کہا کہ ’فرانس کے صدر سرکوزی نے زرداری صاحب سے کہا مسٹر زرداری میں کل بھی آپکے ساتھ تھا، میں آج بھی آپکے ساتھ ہوں اور ہمیشہ آپ کیساتھ رہوں گا‘۔ برطانیہ کے وزیراعظم گورڈن براؤن نے پچاس ملین اسٹرلنگ پاؤنڈ پاکستان کو برطانیہ کی طرف سے دینے کا وعدہ کرتے ہوئے اسے ’پاکستانیوں کے لیے عید کا تحفہ‘ قرار دیا۔
’فرینڈز آف پاکستان‘ ہے کیا؟ اگرچہ کہا جاتا ہے کہ ’فرینڈز آف پاکستان‘ صدر آصف علی زرداری کی اپنی تخلیق ہے جو انہوں نے گذشتہ سال دو ہزار آٹھ میں پاکستان کا عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد پہلی بار جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے موقع پر ایک عرب دوست ملک (غالباً متحدہ عرب امارات) کی مدد سے قائم کیا تھا اور جس کا مقصد پاکستان کیلیے دوست ممالک کی طرف سے اقتصادی امداد اور سیاسی حمایت حاصل کرنا تھا۔
لیکن اصل میں ’فرینڈز آف پاکستان‘ دو ہزار آٹھ میں اس وقت معرض وجود میں آیا جب پاکستان میں سخت افراط زر آیا ہوا تھا اور پاکستان کے چین اور سعودی عرب جیسے دیرینہ دوستوں نے بھی ، ترتیب وار، کیش اور تیل دینے سے معذرت کر لی تھی۔ تو ایسے کڑکے میں صدر زرداری ’نگری نگری پھرا مسافر‘ کی مصداق ملکوں ملک دورے کرتے رہے لیکن کوئی بھی ملک پیسہ دینے کیلیے تیار نہ تھا جبکہ اوپر سے آئی ایم ایف کے قرضوں کے تقاضے بڑھتے جاتے تھے۔ چار بلین ڈالر کے پہلے ہی مقروض اور چھ بلین ڈالر کا قرضہ آئي ایم ایف اپنی شرطوں پر دینا چاہتا تھا۔ تو ایسے حالات میں پاکستان کے دوست چاہے ڈونر ممالک نے پاکستان کیلیے ایک ’بیل آؤٹ' پروگرام‘ فرینڈز آف پاکستان کے نام پر قائم کیا جس کا مقصد پاکستان کو براہِ راست امداد نہیں پر ان ملکوں سے منصوبوں کے ذریعے دینا تھی۔
لیکن پاکستانی حکومت اور ڈونر یا ’فرینڈز آف پاکستان‘ کو اصل مسئلہ ’ کریڈیبلٹی‘ کا ہے۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جب مصیبت میں گھرے ہوئے مار کھاتے ہوئے شخص کی چیخ و پکار سن کر ’ آیا بھائي آيا‘ تو سب دوست کہتے ہیں لیکن حقیت میں مدد کو نہیں آتے۔
فرینڈز آف پاکستان کے نیویارک سے لے کر ابوظہبی، ترکی اور جاپان میں ہونیوالے اجلاسوں میں وعدے وعید تو پانچ بلین ڈالر تک کےہوئے لیکن اب تک ایک ڈالر بھی نہیں مل سکا۔ دوست ممالک اور عالمی برادری کی مشکل یہ ہے کہ انہیں زرداری حکومت کی کریڈبلٹی پر شک ہے جبکہ زرداری حکومت کا مسئلہ پاکستان کی مشکلات سے زیادہ ان کی حکومت کی مضبوطی یا معیاد حکومت کی گارنٹیز کی ضرورت ہے۔
اگر یہ امداد پاکستانی حکومت کی خواہشوں کے برعکس غیر سرکاری سیکٹر کے ذریعے دی بھی جائے بھی تو مسئلہ یہ ہے کہ ڈونر ایجنسیوں کو شاید یہ پتہ ہو کہ سرکاری شعبے کی طرح اب نوالہء تر غیر سرکاری سیکٹر بھی بنتا جا رہا ہے۔ اچھی بات ہے کہ پاکستان میں تعلیم یافتہ نوجوان جو اس سے پہلے سرکاری سروسز کے سیکٹر میں جاتے تھے اب پاکستان میں یو ایس ایڈ جیسے اداروں میں نوکریوں اور گرانٹوں کی دراخواستیں دے رکھی ہیں۔
اسی لیے تو کچھ دن پہلے واشنگٹن میں کیری لوگر بل پر کچھ ڈیموکریٹک چاہے ر پبلکلن پارٹی کے سینیٹرز نے دو طرفہ اعتراضات یہ کیے تھے کہ اس کی کیا گارنٹی ہے کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے پاکستان میں ایسی قیادت کے ہاتھوں میں جائیں گے جن پر مسٹر دس فیصد ہونے کا الزام ہے اور اس کی کیا گارنٹی ہے کہ پیسے سوئس بنکوں میں ذاتی اکاؤنٹس میں نہیں جگہ پائیں گے۔ یہ ایسی باتیں ہیں جو امریکہ سمیت عالمی برداری کو امداد دینے سے پہلے دو دفعہ سوچنے پر مجبور کریں گی۔
فرینڈز آف پاکستان کے نیویارک اجلاس میں برطانیہ کے وزیراعظم گورڈن براؤن کی تجویز پر ’ملٹی نینشنز ٹرسٹ فنڈ‘ قائم کیا گيا ہے جو ایشیائی ترقیاتی بنک کے ذریعے فاٹا اور ديگر قبائلی علاقوں میں ترقی کے منصوبوں کی صورت میں جاری کیا جائے گا۔ برطانیہ نے اسی فنڈ کے لیے پچاس ملین اسٹرلنگ پونڈ کی رقم دینے کا وعدہ کیا ہے۔ روبن رافیل جیسی بیوروکریٹ کو اس فنڈ کا ’ کو آر ڈینیٹر‘ مقرر کیا گیا ہے۔ ایک سینئر تجزیہ نگار کے مطابق’اوورسیئر‘ کا مہذبانہ نام ’کوآرڈینیٹر‘ رکھا گیا ہے۔ یعنی کہ پیسے بہت کم جائیں گے لیکن پروجیکٹس کی صورت میں۔
’فرینڈز آف پاکستان‘ سے ’فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان‘ میں بدلنے کی ضرورت اس فورم کو موجودہ پی پی پی حکومت کی سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لیے کیا گيا وگرنہ چین سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا ’ڈیموکریسی‘ سے کیا لینا دینا۔ نیویارک میں منعقدہ اجلاس پلیجنگ اجلاس نہیں بلکہ زرداری حکومت کی سیاسی حمایت کے لیے تھا۔ مائنس ون فارمولے جیسی باتوں کے بیچ موجودہ حکومت کو یقیناً ’لیز آف لائف‘ مل گئي ہے لیکن پیسے نہیں ملے۔
© MMIX