Advertisement
آخری وقت اشاعت:  Sunday, 28 june, 2009, 13:38 GMT 18:38 PST

کمیٹی سےکمیٹی تک

آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی

بِل کا مقصد صدر اور وزیر اعظم کے اختیارات میں توازن قائم کرنا ہے

گیلانی حکومت کے برسرِاقتدار آنے کے پندرہ ماہ اور صدر زرداری کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے دو بار خطاب کے بعد بالآخر قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے تمام پارلیمانی جماعتوں پر مشتمل وہ ستائیس رکنی کمیٹی کامیابی سے تشکیل دے لی جو آئین میں صدر مشرف کی شامل کردہ سترہویں ترمیم کا تفصیلی جائزہ لے کر اس میں ایسی تبدیلیوں کی سفارشات مرتب کرے گی جن کے نتیجے میں صدر اور وزیرِ اعظم کے اختیارات کو متوازن بنایا جاسکے۔

اگرچہ ستائیس رکنی کمیٹی کا ایک کنوینر بھی نامزد کردیا گیا ہے۔ ہوسکتا ہے اگلے اجلاس میں اس کا سربراہ بھی منتخب ہوجائے لیکن ایک بات واضح نہیں ہے کہ یہ کمیٹی کتنے عرصے میں اپنی سفارشات مرتب کرنے کی پابند ہوگی۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ سترہویں ترمیم کی بارہ شقوں کے جائزے کا کام زیادہ سے زیادہ بارہ ماہ میں مکمل کر کے اگلے سال جولائی تک پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے سامنے پیش کردیا جائے، اور یہ اجلاس زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ ماہ تک بحث کرنے کے بعد چودہ اگست دوہزار دس تک آئین میں اٹھارہویں ترمیم کا بل منظور کر کے قوم کے سامنے سرخرو ہوجائے لیکن وہ کام ہی کیا جو سیدھے سبھاؤ بغیر استادی کے ہو جائے۔

لہذا کچھ عجب نہ ہوگا اگر اس پورے عمل کو انتہائی کھٹن آئینی مشق ثابت کرنے کے لیے کمیٹی کے کئی اجلاس نازک ملکی حالات یا کورم کی کمی کے سبب منعقد نہ ہوسکیں کبھی اکٹھے چار ارکان بیمار ہوجائیں۔کبھی تین کو غیرملکی دورے پر جانا پڑ جائے۔کبھی پانچ ارکان کو ناگزیر ذاتی مصروفیات لاحق ہوجائیں تو کبھی چھ لوگ کسی سے خفا ہو کر واک آؤٹ کرجائیں یا کبھی ایک پوری جماعت ہی کمیٹی کی کارروائی کا بائیکاٹ کر دے۔

کچھ عجب نہ ہوگا اگر اس پورے عمل کو انتہائی کھٹن آئینی مشق ثابت کرنے کے لیے کمیٹی کے کئی اجلاس نازک ملکی حالات یا کورم کی کمی کے سبب منعقد نہ ہوسکیں۔کبھی اکٹھے چار ارکان بیمار ہوجائیں۔کبھی تین کو غیرملکی دورے پر جانا پڑ جائے۔کبھی پانچ ارکان کو ناگزیر ذاتی مصروفیات لاحق ہوجائیں تو کبھی چھ لوگ کسی سے خفا ہو کر واک آؤٹ کرجائیں یا کبھی ایک پوری جماعت ہی کمیٹی کی کارروائی کا بائیکاٹ کر دے

۔

اور جو اجلاس ہوں بھی تو ان میں ایک ایک شق پر ایسی ایسی درفنتنیاں چھوڑی جائیں کہ اگلا اجلاس بلانا ہی بذاتِ خود ایک کارِ محال ہوجائے اور پھر ڈیڈلاک دور کرنےاور آئینی گتھیوں کو سلجھانے کے لیے جید ماہرینِ قانون کو اجلاس میں بلایا جائے، اور یہ ماہرین کسی شق کے حق میں یا خلاف اتنے لمبے دلائیل دیں کہ ان کے لیے ایک سے زائد اجلاسوں کی ضرورت پڑتی چلی جائے۔ پھر اسی ستائیس رکنی کمیٹی میں سے متعدد ذیلی کمیٹیاں بنا دی جائیں جو اپنی اپنی سفارشات مرتب کر کے اصل کمیٹی کے سامنے رکھیں اور پھر ان سفارشات پر ستائیس ارکان کے درمیان ایک اور طویل بحث چھڑ جائے۔

مختصراً یہ کہ مذکورہ نسخے کو اگر آزمایا جائے تو یہ کام باآسانی ڈھائی برس کے عرصے تک پھیلایا جاسکتا ہے۔اور اسکےبعد موجودہ پارلیمنٹ کی مدت میں صرف چھ ماہ باقی رہ جائیں گے۔چنانچہ یہ کام مجبوراً اگلی پارلیمنٹ کو منتقل کیا جاسکتا ہے۔

جب نئی پارلیمنٹ وجود میں آئے گی تو اس کے کچھ عرصے بعد صدر زرداری کی موجودہ مدتِ صدارت بھی ختم ہوچکی ہوگی۔اس دوران نئی پارلیمنٹ ایک نئی ستائیس رکنی آئینی کمیٹی بنا سکتی ہے۔اس نئی کمیٹی کی رفتار کا دارومدار اس بات پر ہوسکتا ہے کہ موجودہ صدر دوسری بار بھی ایوانِ صدر میں رہنا چاہیں گے یا نہیں۔

اگر میرے یہ سب مفروضے غلط ثابت ہوجائیں تو مجھ سمیت سولہ کروڑ لوگوں کو بہت خوشی ہوگی۔لیکن یہاں اب تک کتنے ایسے کام ہوئے ہیں جن سے سولہ کروڑ لوگوں کو خوشی ہوئی ہو ؟

بی بی سی کو جانیں

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔