وقتِ ارسال 15:08 ،
2006-01-13
آراء (1)
سپین کے وزیرِ دفاع ہوزے بونو نے بری فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ہوزے مینا اگوادو کو اختتامِ ہفتہ اپنے دفتر میں طلب کیا اور ان سے کہا کہ آپ کو فوری طور پر فوج کی سربراہی سے برطرف کرکے آٹھ روز کے لیے آپ ہی کے گھر میں نظربند کیا جارہا ہے۔ کیونکہ آپ نے یہ سیاسی بیان دے کر فوجی ڈسپلن پامال کیا ہے کہ اگر سپین کے علاقے کیتولونیا نے زیادہ خودمختاری حاصل کرلی تو سپین کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے اور ایسی صورت میں فوج مداخلت کرنے پر مجبور ہوسکتی ہے۔ وزیرِ دفاع نے بری فوج کے سربراہ سے کہا کہ جو کام سیاستدانوں اور حکومت کے سوچنے کا ہے اس میں آپ کو ٹانگ اڑانے اور بیان بازی کا کوئی حق نہیں تھا۔
میں سوچ رہا ہوں کہ اگر سپین کی بری فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ہوزے مینا اگوادو کا نام ایوب خان، یحیی خان، ضیا الحق، اسلم بیگ، عبدالوحید کاکڑ، جہانگیر کرامت یا پرویز مشرف ہوتا تو ان کے حق میں کتنا اچھا ہوتا۔
وسعت اللہ خان  |

"یا پھر پاکستان کا نام سپین ہوتا۔۔۔"
ازطرف پردیسی، متحدہ عرب امارات وقتِ ارسال 04:41 ، 2006-01-14
| |
|