BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
آپ کی آواز - بلاگ
ساڈا پیا گھر آیا...
وقتِ ارسال 15:08 ، 2005-12-29
آراء (33)

مقامی پاکستانی میڈیا میں متحدہ عرب امارات کے نئے حکمران شیخ خالد بن زید بن سلطان النہیان کے استقبال کی جو تصویریں چھپی ہیں، جن میں صدر ، وزیر ا‏عظم اور دیگر اعلی سول و فوجی حکام یوں والہانہ خیر مقدم کررہے ہیں جیسا انہوں نے اپنے دامادوں کا بھی نہ کیا ہوگا۔ اگر پاکستانی اخباروں میں چھپی ہوئی ایسی تصاویر کی نیچے کوئی تحریر نہ بھی ہو تو ان تصویروں کے دیکھنے والے پاکستانی حکام کی 'باڈی لینگوئیج' سے یہ کیپشن با آسانی اخذ کر سکتے ہیں: 'ساڈا پیا گھر آیا۔' کہیں انکے رحیم یار خان والے محل با المعروف 'گلمرگ بنگلہ' کے راستے ائیر پورٹ پر پنجاب کے وزیر اعلی چودہری پرویز الہی انکے لیے دو بازوں کا تحفہ لیے کھڑے ہیں تو کہیں اسلام آباد میں وزیر اعظم شوکت عزیز اور صدر پرویز مشرف انکے واسطے آنکھیں فرش راہ کیے ہوئے نظر آتے ہیں-
لیکن کاش آپ نے ایک مقامی روزنامے میں ان 'اھلناً و سہلناً' نما شاھی تصاویر کے ساتھ ایک وہ تصویر بھی دیکھی ہوتی جو لاڑکانہ کے قریبی علاقے قنبر کے اس خون میں نہلاۓ ہوۓ بارہ سالہ معصوم بچے خالد سرگانی کی لاش اور اسے گود میں لیے بین کرتے ہوئے اسکے ماں باپ اور دیگر عزیزوں کی ہے- اس بچے خالد سرگانی کے خون نے متحدہ عرب امارات کے شہزادوں کے شاھی شکاری قافلےکی گاڑی کے پہیے خراب کردیے ہونگے! سندھی اخبار 'عبرت کے مطابق ، "عرب شہزادوں کا یہ قافلہ شیخ خالد بن زید بن سلطان النہیان کی سربراھی میں موہن جو دڑو ائیرپورٹ سے نواب شبیر چانڈیو کے شکار کی دعوت میں کاچھو کی طرف جا رہا تھا کہ انکے سامان کی گاڑی ایک گدھے گاڑی سے ٹکرائی جس پر (گدھ گاڑی پر) سوار بارہ سالہ بچہ خالد سرگانی موقعہ پر ہی ہلاک ہوگیا' اخبار لکھتا ہے کہ "عرب شہزادے اپنی گاڑی سے نیچے اترے، انھوں نے ایک نظر دوڑائی اور اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگئے۔"
ہاں، عرب شہزادوں کے نزدیک یہ خوں میں نہلایا ہوا بچہ بھی ان ہزاروں پاکستانی بچوں سے مختلف نہیں تھا جو متحدہ عرب امارات سمیت خلیج کی خونی اسپورٹس اونٹ دوڑ میں تیز رفتار اونٹوں سے گر کر اجل کا لقمہ بنتے رہتے ہیں- انہوں نے سوچا ہوگا 'یا شیخ! تو اپنی دیکھ' اور پھر شاہی شکار کو چل دیے-
ہمارے بچے، ہماری بچیاں ، ہمارے تلور اور ہمارے مہمان پردیسی پرندے، ان شاھی مہمانوں کے قافلوں 'اونٹوں اور انکے بندوقوں کے نشانوں تلے نجانے کب سے آتے رہے ہیں- ہمارا پیارا پاکستان عربوں کا اسلامی شاھی محلہ اور شاھی شکار گاہ جو ٹہرا اور سندھی وڈیرے تو ہیں ہی انکے قالین کے توپچی۔
کاش یہ معروضی سچ بھی 'الجزیرہ ' چینل سے نشر ہو سکیں!

حسن مجتبیٰ، سان ڈیاگو

اپنی رائے بھیجیئے

"بھائی جان کیا ہر وقت سچ بولنے کا ٹھیکا لیا ہے آپ نے۔۔۔؟"
ازطرف شاہ نواز، ڈینمارک وقتِ ارسال 22:49 ، 2005-12-29

"اپنے پیارے پاکستانیوں پر رونے والے امریکی حسن صاحب، کم از کم یہ بچہ ایک حادثے کا شکار ہوا، کوئی وجہ تو تھی۔ آپ کے پیارے ملک نے کم از کم پانچ لاکھ عراقی بچے بھوکے پیاسے مار دیے۔ کیا آپ کی ایک لاکھ باتیں آپ کے نیے ملک کی اصلیت چھپا سکتی ہیں؟ اور عربوں نے جو پاکستان کے لیے کیا ہے، آپ جیسے اجنبیوں کو کیا پتہ۔۔۔"
ازطرف حسن، لاہور، پاکستان وقتِ ارسال 23:59 ، 2005-12-29

"واہ حسن صاحب! آپ کیلیفورنیا میں بیٹھ کر ایک گیارہ سالہ بچے کے خون پر رو رہے ہیں۔ جناب یہاں پاکستان میں تو ان حکمرانوں کی گردنوں پر ہزاروں پاکستانیوں کا خون ہے۔ اور یہ سب کچھ اپنی امریکی حاکموں کو خوش کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس لیے آپ کو ایسی چھوٹی باتوں پر زیادہ سینزیٹو نہیں ہونا چاہیے۔ "
ازطرف محمد حمزہ راشد، پاکستان وقتِ ارسال 00:21 ، 2005-12-30

"میں سندھ کے لوگوں کے لیے آپ کے درد کو محسوس کر سکتا ہوں مگر کسی حد تک قصور ہمارے اپنے سندھی وڈیروں کا بھی ہے جو سندھ مخالف افراد کی حمایت کرتے ہیں۔ آپ کے بلاگ کے لیے شکریہ۔ روز روز لکھا کریں۔ ایک آپ ہی تو ہیں جو سندھ کی طرف سے آواز بلند کر سکتے ہیں۔ بہت شکریہ۔۔۔"
ازطرف سارنگ سندھی، کینیڈا وقتِ ارسال 01:42 ، 2005-12-30

"سان ڈیاگو میں بیٹھی لوگوں کو کوئی حق نہیں بنتا کہ ہمارے ملک کے بارے میں فضؤل باتیں کریں۔ آپ امریکہ اپنے پاس رکھیں اور ہمیں پاکستان اپنے پاس رکھنے دیں۔ ہم اپنے ملک سے پیار کرتے ہیں۔ ہزاروں میل دور بیٹھ کر نقص نکالنے اور فضول کی باتیں بنانے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔"
ازطرف ذولفقار، پاکستان/ہانگ کانگ وقتِ ارسال 02:06 ، 2005-12-30

"ہم پاکستانی اپنی فوج پر ناز کرتے تھے اور اسے مذہبی سمجھتے تھے مگر افسوس کہ یہ کسی بھی کام کی نہیں۔ یہ تو عربوں کی پٹھو ہے۔.

"
ازطرف سمیعہ، آسٹریلیا وقتِ ارسال 03:27 ، 2005-12-30

"حسن صاحب نے بالکل صحیح کہا، ہمارے حکمرانوں کو عوام کی بالکل پروہ نہیں۔"
pakistan
ازطرف رضوان خالد، پاکستان وقتِ ارسال 04:13 ، 2005-12-30

"ہاں، یہی آج کا سچ ہے۔ ہم عربستان کا شاہی محلہ بن کر رہ گئے ہیں۔ "
ازطرف مجید اسلم راجہ، پاکستان وقتِ ارسال 04:53 ، 2005-12-30

"الجزیرہ تو امریکی سی این این کے متبادل ہے۔ آپ ان سے ایسی توقع کیسے کر سکتے ہیں کہ وہ اس قسم کے سچ کو سامنے لائیں؟"
ازطرف ادریس بابر، ناروے وقتِ ارسال 05:02 ، 2005-12-30

"میں حسن مجتبی سے سو فیصد اتفاق کرتا ہوں۔ میرے خیال میں ان ’شاہ زادوں‘ پر قتل کا کیس درج کرنا چاہیے۔ ویسے بھی ان عربوں کے دو قانون ہوتے ہیں، بھارتی، پاکستانیوں اور بنگلہ دیشیوں کے لیے ایک اور عرب اور مغربی افراد کے لیے دوسرا۔ نہ جانے ان عربوں کو اور کتنے پیغمبروں کی ضرورت ہے۔۔۔"
ازطرف ندیم خان، نامعلوم وقتِ ارسال 06:09 ، 2005-12-30

"عرب حکمرانوں کی شکار گاہ، بین الاقوامی طاقتوں کی جنگ گاہ، ملٹی نیشنل کمپنیوں کی تجربہ گاہ۔۔۔یہی تو ہمارے دیس کا اکیسویں صدی میں بھی مقدر ہے۔"
ازطرف احمد جمیل، پاکستان وقتِ ارسال 06:58 ، 2005-12-30

"حسن صاحب آپ کے اس انکشاف نے ہمیں بہت غم زدہ کر دیا ہے۔ کاش آپ کی طرح ہمارے حکمران بھی سوچیں۔۔۔"
ازطرف راؤ عبدل جبار، پاکستان وقتِ ارسال 08:47 ، 2005-12-30

"کاش اس ملک پر کسی ’کافر‘ کی حکومت ہوتی، پھر میں دیکھتا وہ کس طرح ان ’اسلامی شاہزادوں‘ کا استقبال کرتا۔ حسن صاحب پاکستان کے عوام کا خون اتنا سستہ ہو چکا ہے کہ اخبار میں چھپنے والی ایسی تصویر کا ہمارے ’مسلم‘ حکمرانوں پر اتنا ہی اثر ہوتا ہے جتنا کہ پیٹرول کی قیمت میں چند پیسوں کا اضافہ۔ میں یہ سوچتا ہوں کہ یہ جو حکمران ہیں، چلیں یہاں پر تو ان سے کوئی حساب کتاب نہیں ہوتا، لیکن اللہ تو ان سے حساب مانگے گا۔ اس دن کیا ان کا ’مسلمان‘ ہونا انہیں بچا لے گا؟"
ازطرف صالح، راولپنڈی، پاکستان وقتِ ارسال 09:44 ، 2005-12-30

"آپ جب ایک ہی موضوص تک خود کو محدود رکھتے ہیں تو بہتر لکھتے ہیں، جیسا کہ اس بلاگ میں۔ "
ازطرف منور، جرمنی وقتِ ارسال 11:19 ، 2005-12-30

"میرے خیال میں اگر آپ انسان ہیں اور خود کو مسلمان بھی کہتے ہیں تو آپ کو شرم آنی چاہیے۔ امریکہ نے عراق میں بنا کسی وجہ لاکھوں بے گناہ بچوں اور عورتوں پر بمباری کی اور آپ خوشی خوشی ایسے ملک میں قیام پزیر ہیں۔۔۔"
ازطرف اختر، پاکستان وقتِ ارسال 11:44 ، 2005-12-30

"یہ نہایت ہی ’بولڈ‘ تحریر ہے۔ "
ازطرف آکاش، پاکستان وقتِ ارسال 12:01 ، 2005-12-30

"حسن نے پاکستانیوں کی پاکستان میں بےقدری کی طرف ایک اہم اشارہ کیا ہے لیکن ہمارے دوست اسے امریکہ کی عراق میں قتل و غارت گری سے ملا رہے ہیں۔ مانا کہ امریکہ کو عراقیوں کی پرواہ نہیں لیکن اگر دنیا میں کہیں کسی امریکی کو کچھ ہوجائے تو امریکی وہاں وقت ڈال دیتے ہیں لیکن ہمارے اپنے ملک میں پاکستانی سے زیادہ اہمیت غیرملکی کی ہے۔"
ازطرف عمران خالد، جرمنی وقتِ ارسال 14:40 ، 2005-12-30

"کاش شیخوں کی جگہ ٹونی بلیئر یا بش ہوتے، کم از کم فوراً ہسپتال تو پہنچادیتے۔ ہمرے میڈیا نے اسے رپورٹ تک نہ کیا۔ پاکستان میں سیاست اور صحافت ایک ہے۔
"
ازطرف ثناء خان، پاکستان وقتِ ارسال 16:37 ، 2005-12-30

"حسن تمہاری تحریریں دل کا بوجھ بڑھاتی رہتی ہیں۔ تمہارا اجنبی دوست۔۔۔"
.
ازطرف ظہور ندیم، ورجینیا وقتِ ارسال 16:55 ، 2005-12-30

"آپ کے نام نہاد دکھ درد کا شکریہ۔ ذرا اس بلاگ میں اپنے ہم وطن امریکیوں کو بھی لعن طعن کرلیا کریں جو عراقی اور افغان بچوں کو تلور سمجھ کر آدم خور بن گئے ہیں۔"
ازطرف محمد عبیداللہ، پاکستان وقتِ ارسال 18:44 ، 2005-12-30

"بی بی سی اچھے سے اچھا لکھنے والا لے ایے مگر اپنے یار دوست اس میں بھی کیڑے نکال لیں گے۔ امریکہ کے عراق پر حملہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ عربوں کو بےگناہ پاکستانی بچوں کی جان لینے کا پرمٹ دے دیا جائے۔"
ازطرف نوشین، یو اے ای وقتِ ارسال 19:34 ، 2005-12-30

"اسلامی شاہی محلہ اور شاہی شکار گاہ۔۔۔واہ کیا بات ہے، سارا ملک ہی یہ بن کر رہ گیا ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ہم تو پکے روشن خیال اور جدید معاشرہ بن چکے ہیں جہاں کسی کو پرواہ نہیں کہ کوئی کیا کر رہا ہے۔ کون، کہاں، کس پر اور کیوں ظلم کررہا ہے ہم نے تو یہ دیکھنا اور سننا بھی بند کردیا ہے۔ لیکن ظلم کہیں بھی ہو کسی پر بھی ظلم ہے اور میں اسکے خلاف آپ کے ساتھ ہوں۔"
ازطرف عفت سعید چوہدری، پاکستان وقتِ ارسال 21:06 ، 2005-12-30

"ڈیئر حسن، سچ تو یہ ہے کہ ہم پنجابی خودغرض لوگ ہیں۔ ہم نے اکہتر میں اپنے ہی بھائیوں پر ظلم توڑے جو نہ تو امریکی تھے، نہ بھارتی اور نہ ہندو۔ اور اب ہم وہی بلوچیوں کے ساتھ دہرا رہے ہیں۔ میں خود پنجابی ہوں لیکن ہمارا نعرہ ہے کہ ’سانوں کیہہ تے ساڈا کیہہ۔‘ ازراہِ مہربانی یہ سب لکھتے رہیے کہ آج کے اس میڈیا کے دور میں کوئی آپ کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا۔ "
ازطرف رشید پنجابی، کینیڈا وقتِ ارسال 01:00 ، 2005-12-31

"جنابِ حسن ایک اچھے کہانی کار ہیں اور انہوں نے اس کہانی میں فرض کیا ہے کہ اگر کوئی غریب ہے اور گدھا گاڑی چلاتا ہے تو ہمیشہ حق پر ہوگا۔ انہوں نے اس میں غیر مناسب زبان کا استعمال کیا ہے۔"
ازطرف طارق، کینیڈا وقتِ ارسال 01:54 ، 2005-12-31

"ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات."
ازطرف ایم شعیب، جاپان وقتِ ارسال 03:13 ، 2005-12-31

"اس حادثے کی تحقیقات ہونی چاہئیں اور قاتلوں کو قانون کے حوالے کئے بغیر پاکستان سے نکلنے کی اجازت نہہیں دینی چاہئے۔ پاکستان برصغیر کے مسلمانوں کے لئے بنا تھا نہ کہ ان لوگوں کی عیاشیوں کے لیے۔"
ازطرف زیڈ ایم ساندھو، نیوزی لینڈ وقتِ ارسال 04:18 ، 2005-12-31

"حسن صاحب، روڈ ایکسیڈنٹ پوری دنیا میں ہوتے ہیں۔ خود یواے ای کے ایک صدر بھی کچھ عرصہ قبل روڈ ایکسیڈنٹ میں ہی ہلاک ہوئے۔ دوسرے انڈس ہائی وے اور جی ٹی روڈ گدھا گاڑیوں کے لئے موزوں نہیں ہیں۔ عوام کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ اچھا تو یہی ہے کہ آپ علاقیت سے نکل کر آفاقیت پر توجہ دیں۔"
ازطرف ذیشان قمر، یو اے ای وقتِ ارسال 05:52 ، 2005-12-31

"حسنِ امریکی صاحب، اب تو لوگ بھی اپ کو پہچاننے لگ گئے ہیں۔ میں نے بی بی سی اردو پر کسی بھی مشہور پاکستانی کالم نگار کو نہیں لکھتے دیکھا جو پاکستان میں ہی رہتا ہو اور کسی اچھے اخبار کے لئے کام کرتا ہو، کیوں؟
? "
ازطرف ایم اعجاز شفیع، پاکستان وقتِ ارسال 09:09 ، 2005-12-31

"ڈئیر حسن اس میں کوئی شک نہیں کہ کہ بی بی سی اور سی این این کو آپ جیسے لوگوں کی ہی ضرورت ہے جو انٹرنیشنل کرائمز اور مسلم دنیا پر ہونے والے ظلم کو چھوڑ کر ایک اتفاقی حادثے پر مسلم امہ کو بدنام کرسکیں۔ کیا آپ کو افغانستان، عراق اور گوانتانامو نظر نہیں آتا۔."
ازطرف سرفراز، سعودی عرب وقتِ ارسال 13:11 ، 2006-01-05

"میں حسن مجتبی سے سو فیصد اتفاق کرتا ہوں۔ "
ازطرف کامران حسین، برطانیہ وقتِ ارسال 19:51 ، 2006-01-05

"کاش ہم سدھر سکیں۔ ہم ہر بات کو امریکہ سے جوڑ دیتے ہیں جیسے کل تک ہر شئے کا موازنہ انڈیا سے کرتے تھے۔ اگر کوئی بات غلط ہے تو وہ غلط ہے۔ "
ازطرف فاروق جان، امریکہ وقتِ ارسال 05:33 ، 2006-01-07

"کیا آپ کو نہیں لگتا کہ آپ ایسی زبان استعمال کرکے اپنے ہی لوگوں کو اپنے کالم پڑھنے سے منع کر رہے ہیں؟

"
ازطرف عمران، انڈیا وقتِ ارسال 14:42 ، 2006-01-08

"اپنے پاکستانی بھائیوں کی اراء پڑھ کر بہر دھچکہ لگا کیونکہ وہ حسن صاحب پر تنقید کر رہےہیں۔ کیا ان سب کو نہیں لگتا کہ ہمارے حکمران غریبوں کے ساتھ امتیازانہ سلوک کرتے ہیں؟"
ازطرف عمران عاصف، جاپان وقتِ ارسال 14:56 ، 2006-01-11

 
 اپنی رائے بھیجیئے 
نام
ملک
ای میل
آپ کی رائے
 
  
 
رائے دینے کا شکریہ۔ ادارہ آپ کی رائے پڑھنے کے بعد جلد از جلد شائع کرنے کی کوشش کرے گا۔
 
     
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد