|
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
"بھائی جان کیا ہر وقت سچ بولنے کا ٹھیکا لیا ہے آپ نے۔۔۔؟"
"اپنے پیارے پاکستانیوں پر رونے والے امریکی حسن صاحب، کم از کم یہ بچہ ایک حادثے کا شکار ہوا، کوئی وجہ تو تھی۔ آپ کے پیارے ملک نے کم از کم پانچ لاکھ عراقی بچے بھوکے پیاسے مار دیے۔ کیا آپ کی ایک لاکھ باتیں آپ کے نیے ملک کی اصلیت چھپا سکتی ہیں؟ اور عربوں نے جو پاکستان کے لیے کیا ہے، آپ جیسے اجنبیوں کو کیا پتہ۔۔۔"
"واہ حسن صاحب! آپ کیلیفورنیا میں بیٹھ کر ایک گیارہ سالہ بچے کے خون پر رو رہے ہیں۔ جناب یہاں پاکستان میں تو ان حکمرانوں کی گردنوں پر ہزاروں پاکستانیوں کا خون ہے۔ اور یہ سب کچھ اپنی امریکی حاکموں کو خوش کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس لیے آپ کو ایسی چھوٹی باتوں پر زیادہ سینزیٹو نہیں ہونا چاہیے۔ "
"میں سندھ کے لوگوں کے لیے آپ کے درد کو محسوس کر سکتا ہوں مگر کسی حد تک قصور ہمارے اپنے سندھی وڈیروں کا بھی ہے جو سندھ مخالف افراد کی حمایت کرتے ہیں۔ آپ کے بلاگ کے لیے شکریہ۔ روز روز لکھا کریں۔ ایک آپ ہی تو ہیں جو سندھ کی طرف سے آواز بلند کر سکتے ہیں۔ بہت شکریہ۔۔۔"
"سان ڈیاگو میں بیٹھی لوگوں کو کوئی حق نہیں بنتا کہ ہمارے ملک کے بارے میں فضؤل باتیں کریں۔ آپ امریکہ اپنے پاس رکھیں اور ہمیں پاکستان اپنے پاس رکھنے دیں۔ ہم اپنے ملک سے پیار کرتے ہیں۔ ہزاروں میل دور بیٹھ کر نقص نکالنے اور فضول کی باتیں بنانے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔"
"ہم پاکستانی اپنی فوج پر ناز کرتے تھے اور اسے مذہبی سمجھتے تھے مگر افسوس کہ یہ کسی بھی کام کی نہیں۔ یہ تو عربوں کی پٹھو ہے۔.
" "حسن صاحب نے بالکل صحیح کہا، ہمارے حکمرانوں کو عوام کی بالکل پروہ نہیں۔"
pakistan "ہاں، یہی آج کا سچ ہے۔ ہم عربستان کا شاہی محلہ بن کر رہ گئے ہیں۔ "
"الجزیرہ تو امریکی سی این این کے متبادل ہے۔ آپ ان سے ایسی توقع کیسے کر سکتے ہیں کہ وہ اس قسم کے سچ کو سامنے لائیں؟"
"میں حسن مجتبی سے سو فیصد اتفاق کرتا ہوں۔ میرے خیال میں ان ’شاہ زادوں‘ پر قتل کا کیس درج کرنا چاہیے۔ ویسے بھی ان عربوں کے دو قانون ہوتے ہیں، بھارتی، پاکستانیوں اور بنگلہ دیشیوں کے لیے ایک اور عرب اور مغربی افراد کے لیے دوسرا۔ نہ جانے ان عربوں کو اور کتنے پیغمبروں کی ضرورت ہے۔۔۔"
"عرب حکمرانوں کی شکار گاہ، بین الاقوامی طاقتوں کی جنگ گاہ، ملٹی نیشنل کمپنیوں کی تجربہ گاہ۔۔۔یہی تو ہمارے دیس کا اکیسویں صدی میں بھی مقدر ہے۔"
"حسن صاحب آپ کے اس انکشاف نے ہمیں بہت غم زدہ کر دیا ہے۔ کاش آپ کی طرح ہمارے حکمران بھی سوچیں۔۔۔"
"کاش اس ملک پر کسی ’کافر‘ کی حکومت ہوتی، پھر میں دیکھتا وہ کس طرح ان ’اسلامی شاہزادوں‘ کا استقبال کرتا۔ حسن صاحب پاکستان کے عوام کا خون اتنا سستہ ہو چکا ہے کہ اخبار میں چھپنے والی ایسی تصویر کا ہمارے ’مسلم‘ حکمرانوں پر اتنا ہی اثر ہوتا ہے جتنا کہ پیٹرول کی قیمت میں چند پیسوں کا اضافہ۔ میں یہ سوچتا ہوں کہ یہ جو حکمران ہیں، چلیں یہاں پر تو ان سے کوئی حساب کتاب نہیں ہوتا، لیکن اللہ تو ان سے حساب مانگے گا۔ اس دن کیا ان کا ’مسلمان‘ ہونا انہیں بچا لے گا؟"
"آپ جب ایک ہی موضوص تک خود کو محدود رکھتے ہیں تو بہتر لکھتے ہیں، جیسا کہ اس بلاگ میں۔ "
"میرے خیال میں اگر آپ انسان ہیں اور خود کو مسلمان بھی کہتے ہیں تو آپ کو شرم آنی چاہیے۔ امریکہ نے عراق میں بنا کسی وجہ لاکھوں بے گناہ بچوں اور عورتوں پر بمباری کی اور آپ خوشی خوشی ایسے ملک میں قیام پزیر ہیں۔۔۔"
"یہ نہایت ہی ’بولڈ‘ تحریر ہے۔ "
"حسن نے پاکستانیوں کی پاکستان میں بےقدری کی طرف ایک اہم اشارہ کیا ہے لیکن ہمارے دوست اسے امریکہ کی عراق میں قتل و غارت گری سے ملا رہے ہیں۔ مانا کہ امریکہ کو عراقیوں کی پرواہ نہیں لیکن اگر دنیا میں کہیں کسی امریکی کو کچھ ہوجائے تو امریکی وہاں وقت ڈال دیتے ہیں لیکن ہمارے اپنے ملک میں پاکستانی سے زیادہ اہمیت غیرملکی کی ہے۔"
"کاش شیخوں کی جگہ ٹونی بلیئر یا بش ہوتے، کم از کم فوراً ہسپتال تو پہنچادیتے۔ ہمرے میڈیا نے اسے رپورٹ تک نہ کیا۔ پاکستان میں سیاست اور صحافت ایک ہے۔
" "حسن تمہاری تحریریں دل کا بوجھ بڑھاتی رہتی ہیں۔ تمہارا اجنبی دوست۔۔۔"
. "آپ کے نام نہاد دکھ درد کا شکریہ۔ ذرا اس بلاگ میں اپنے ہم وطن امریکیوں کو بھی لعن طعن کرلیا کریں جو عراقی اور افغان بچوں کو تلور سمجھ کر آدم خور بن گئے ہیں۔"
"بی بی سی اچھے سے اچھا لکھنے والا لے ایے مگر اپنے یار دوست اس میں بھی کیڑے نکال لیں گے۔ امریکہ کے عراق پر حملہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ عربوں کو بےگناہ پاکستانی بچوں کی جان لینے کا پرمٹ دے دیا جائے۔"
"اسلامی شاہی محلہ اور شاہی شکار گاہ۔۔۔واہ کیا بات ہے، سارا ملک ہی یہ بن کر رہ گیا ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ہم تو پکے روشن خیال اور جدید معاشرہ بن چکے ہیں جہاں کسی کو پرواہ نہیں کہ کوئی کیا کر رہا ہے۔ کون، کہاں، کس پر اور کیوں ظلم کررہا ہے ہم نے تو یہ دیکھنا اور سننا بھی بند کردیا ہے۔ لیکن ظلم کہیں بھی ہو کسی پر بھی ظلم ہے اور میں اسکے خلاف آپ کے ساتھ ہوں۔"
"ڈیئر حسن، سچ تو یہ ہے کہ ہم پنجابی خودغرض لوگ ہیں۔ ہم نے اکہتر میں اپنے ہی بھائیوں پر ظلم توڑے جو نہ تو امریکی تھے، نہ بھارتی اور نہ ہندو۔ اور اب ہم وہی بلوچیوں کے ساتھ دہرا رہے ہیں۔ میں خود پنجابی ہوں لیکن ہمارا نعرہ ہے کہ ’سانوں کیہہ تے ساڈا کیہہ۔‘ ازراہِ مہربانی یہ سب لکھتے رہیے کہ آج کے اس میڈیا کے دور میں کوئی آپ کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا۔ "
"جنابِ حسن ایک اچھے کہانی کار ہیں اور انہوں نے اس کہانی میں فرض کیا ہے کہ اگر کوئی غریب ہے اور گدھا گاڑی چلاتا ہے تو ہمیشہ حق پر ہوگا۔ انہوں نے اس میں غیر مناسب زبان کا استعمال کیا ہے۔"
"ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات."
"اس حادثے کی تحقیقات ہونی چاہئیں اور قاتلوں کو قانون کے حوالے کئے بغیر پاکستان سے نکلنے کی اجازت نہہیں دینی چاہئے۔ پاکستان برصغیر کے مسلمانوں کے لئے بنا تھا نہ کہ ان لوگوں کی عیاشیوں کے لیے۔"
"حسن صاحب، روڈ ایکسیڈنٹ پوری دنیا میں ہوتے ہیں۔ خود یواے ای کے ایک صدر بھی کچھ عرصہ قبل روڈ ایکسیڈنٹ میں ہی ہلاک ہوئے۔ دوسرے انڈس ہائی وے اور جی ٹی روڈ گدھا گاڑیوں کے لئے موزوں نہیں ہیں۔ عوام کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ اچھا تو یہی ہے کہ آپ علاقیت سے نکل کر آفاقیت پر توجہ دیں۔"
"حسنِ امریکی صاحب، اب تو لوگ بھی اپ کو پہچاننے لگ گئے ہیں۔ میں نے بی بی سی اردو پر کسی بھی مشہور پاکستانی کالم نگار کو نہیں لکھتے دیکھا جو پاکستان میں ہی رہتا ہو اور کسی اچھے اخبار کے لئے کام کرتا ہو، کیوں؟
? " "ڈئیر حسن اس میں کوئی شک نہیں کہ کہ بی بی سی اور سی این این کو آپ جیسے لوگوں کی ہی ضرورت ہے جو انٹرنیشنل کرائمز اور مسلم دنیا پر ہونے والے ظلم کو چھوڑ کر ایک اتفاقی حادثے پر مسلم امہ کو بدنام کرسکیں۔ کیا آپ کو افغانستان، عراق اور گوانتانامو نظر نہیں آتا۔."
"میں حسن مجتبی سے سو فیصد اتفاق کرتا ہوں۔ "
"کاش ہم سدھر سکیں۔ ہم ہر بات کو امریکہ سے جوڑ دیتے ہیں جیسے کل تک ہر شئے کا موازنہ انڈیا سے کرتے تھے۔ اگر کوئی بات غلط ہے تو وہ غلط ہے۔ "
"کیا آپ کو نہیں لگتا کہ آپ ایسی زبان استعمال کرکے اپنے ہی لوگوں کو اپنے کالم پڑھنے سے منع کر رہے ہیں؟
" "اپنے پاکستانی بھائیوں کی اراء پڑھ کر بہر دھچکہ لگا کیونکہ وہ حسن صاحب پر تنقید کر رہےہیں۔ کیا ان سب کو نہیں لگتا کہ ہمارے حکمران غریبوں کے ساتھ امتیازانہ سلوک کرتے ہیں؟"
|
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||