|
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
"ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجامِ گلستاں کیا ہوگا!"
"یہ آرٹیکل بالکل غیر سنجیدہ ہے۔ لگتا ہے لکھنے والے کا تعلق یا تو پی ایم ایل (ن( سے ہے یا پی پی پی سے۔"
"حسن مجتبٰی بالکل صحیح بات کررہے ہیں، یہ قومی مفاد ہی جس کی وجہ سے آرمی جنرل ملک میں ہر جگہ زمینیں حاصل کرتے ہیں۔"
"ارے جناب ہماری فوج کی کیا بات ہے یہ دنیا کی واحد فوج ہے جس نے نوے ہزار سپاہیوں کے ساتھ ہتھیار ڈال دئیے تھے۔"
"مجھے حسن صاحب کی بات سے پورا اتفاق ہے اور میں اپنی فوج کے جرنیلوں سے منت کرتا ہوں کہ خدا کے لئے اس ملک پر رحم کریں۔"
"بہت اچھا حس مجتبٰی صاحب،"
"مجھے صرف یہ بتائیں کہ بی بی سی ایسے شخص کو ہی سپانسر کیوں کرتی ہے جو ہمیشہ کہانی کی صرف ایک سائیڈ ہی بتاتے ہیں۔کیا یہ بی بی سی کی ذمہ داری نہیں کہ لوگوں کو کہانی کی دوسری سائیڈ بھی بتائی جائے۔"
"واقعی آپ نے قومی مفاد پر سیر حاصل گفتگو کی ہے اور جس طرح قومت مفاد کو جملوں میں استعمال کیا ہے وہ شاندار ہے۔"
"اس بلاگ پر رائے یہی ہے کہ مسٹر حسن کی تنخواہ میں اضافہ کیا جائے۔ کم پیسوں میں ایسے بلاگ ہی لکھے جائیں گے۔"
" فوج کو کوسا آپ نے بہت شکریہ! امید ہے فوج کے خلاف آپ کے دل کی بھڑاس نکل گئی ہو گی۔ لیکن انگریز کے پٹھوؤں کی اولاد ان سیاستدانوں کا کیا کیا جائے جن کے خلاف (تاریخ کو ٹیکسٹ بکس سے ہٹ کر پڑھنے والے) کئی لوگوں کے دلوں میں اتنا غصہ جمع ہو چکا ہے کہ وہ انہیں کوس بھی نہیں سکتے۔ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ بولتے بولتے ( غیر شائستہ زبان میں گالیاں بکتے) ان کا حلق خشک ہوجائے گا لیکن دل کی بھڑاس نہیں نکلے گی۔ پاکستان پر حکمرانی کرنے والے ان چند سیاسی خاندانوں کے’’ بیک گراؤنڈ‘‘ کو کون نہیں جانتا۔ بھارت میں جمہوریت کے پنپنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ وہاں انگریزوں کی جانب سے بعض خاندانوں، افراد کو عطا کردہ جاگیریں فی الفور ضبط کر لی گئی تھیں۔
اس کے برعکس پاکستان میں ایسے لوگوں کو اقتدار کا موقع دیا گیا۔ بنگلہ دیش میں فوج نے جو کچھ کیا وہ بہت بعد کی بات ہے۔ ملک توڑنے کی بنیاد تو انیس سو اڑتالیس میں بنگالی کو قومی زبان کا درجہ نہ دینے کے اعلان سے رکھ دی گئی تھی۔ اور پھر بنگلہ دیش کی آزادی سے کچھ عرصہ قبل جب بھٹو نے کہا کہ وہ مصالحت کے لیے بنگلہ دیش جانے والے سیاستدانوں کی ٹانگیں توڑ دیں گے تو کس نے ڈھاکہ جانے کی جرات کی؟ اس پر ایک مبصر نے لکھا کہ پاکستانی سیاستدانوں نے اپنی ٹانگیں ٹوٹنے سے بچا لیں لیکن ملک کو نہیں بچا سکے۔ کالا باغ ڈیم کے خلاف شور مچانے والے لوگ کون ہیں؟ بلوچستان کی ’اوپنگ اپ` پر کس کو اعتراض ہے؟ وہی انگریزوں کے نوازے گئے چند خاندان جنہیں اپنے مفادات خطرے میں نظر آتے ہیں؟ سندھ کی زمینوں کا ایک بڑا حصہ چند خاندانوں کی ملکیت ہے جو مزارعوں، ہاریوں سے کیا سلوک کرتے ہیں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ بلوچستان کا عام آدمی کیسی زندگی گزار رہا ہے بہت لوگ جانتے ہیں۔ ڈیم بننے یا نہ بننے سے ان لوگوں کی زندگی میں کوئی فرق نہیں آنے والا۔ ہاں میڈیا سے وابستہ ہم لوگ عوام میں آگاہی پیدا کرنے کی کوئی کوشش کیے بغیر ’بنگلہ دیش جیسی صورتحال‘ کے نعرے لگاتے رہیں گے تو ان چند خاندانوں کو اپنے مفادات کے حصول کے لیے عوام کو متحرک کرنے میں مدد ضرور ملے گی۔ اور فوج کا کیا کہنا پاکستانی تاریخ نے فوجی ملازمت کو خاصا شاندار پیشہ ثابت کیا ہے، اگلے چند برسوں میں فوج پر بھی انہی Burn to Govern خاندانوں کی اولادوں کا قبضہ ہوگا۔ مجھ سے شرط لگا لیں؟ " "حسن صاحب نے مشرف صاحب کی بات نہیں سنی کہ اس ملک میں وہی ہوگا جو پنجاب چاہے گا اور یہ کہ پنجاب کی مرضی کے خلاف یہاں کوئی حکمرانی نہیں کرسکتا یعنی پنجاب دا مفاد ای قومی مفاد اے۔"
"حسن صاحب یہ فوج نہیں، ماشاءاللہ قبضہ گروپ ہے۔ لیکن اس کے خاتمے کا وقت دور نہیں اور وہ کشمیر سے ہی شروع ہوگا۔ "
"islami duniya key taqreeban tamam mamalik civil amriyaton key shaknjon main hain magar mumlakat e khuda dad PAKISTAN ke barey main kisi ney kiya khoub aur sahih kaha hai keh dinya main afwaj mulkon key liye hotey hain, yahan Pakistan fouj key liye hasil kiya lagta hai. Elawa azien establishment aur faouj key darmiyan iss mulak main kiya farq hai, Allah hee janey. Janab Angrez hukumran ki ghulami main itney badi aur ajnabiyat nahi hoo gey jitney unn key inn kaley warison key. Kanp jata hoon yeh tasawour ker key keh agar awam ba-shaour hoo gaey iss mulk ki tau iss bahadour fouj kaa kiya hoo gaa joo sirf apney awam per hee apnee taqat istamal karney key mutahammil hey. "
UK "میں حسن مجتبٰی سے پوچھتا ہوں کہ آخر کب تک اس پاکستان کے بارے میں لکھتے رہیں گے اور سندھی، بلوچی اور پشتون لوگوں کی آزادی کے بارے میں کچھ نہیں کریں گے۔"
"اعجاز احمد صاحب، کہانی کا دوسرا رخ اس سے بھی زیادہ بھیانک ہے۔"
"واہ واہ مجتبٰی صاحب آپ کی باتیں اور کالم تو سب کے سب لعل و جوہر ہیں ان کے لئے جن کی آپ بات حق کرتے ہیں لیکن ان فوجی کمانڈوز کو یہ سب ایسے لگے گیں جیسے زہر کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کے دور ِ حکومت میں کوئی حق بات کرے۔"
"حسن مجتبٰی انڈین ایجینٹ ہے۔ میں نے ان کا کبھی کوئی ایک ایسا لفظ نہیں پڑھا جو قوم کو متحد کرے یا انہیں کوئی امید دلائے۔ ان کے قالم صرف ڈس انفارمیشن اور پاکستانیوں کے درمیان پھوٹ پھیلانے کا کام کرتے ہیں۔"
"میں خود آرمی سے تعلق رکھیا ہوں اور کئی سالوں سے بلوچستان میں اور وہاں کی موجودہ صورتحال کو جتنا میں جانتا ہوں قالم نگار نہیں جانتے۔ قالم نگار کو وہاں بچے اور عورتیں تو نظر آگئے جو بقول ان کے وہاں مارے جارہے ہیں جبکہ حقیقیت اس کے برعکس ہے اور وہاں ثابت شدہ کیمپ ہیں جہاں سے پورے بلوچستان میں راکٹ باری کی جاتی ہے۔ آجکل آرمی پر تنقید کرنا فیشن بن چکا ہے اور ان کو آرمی اور ایف سی کے جوانوں کی لاشیں کیوں نظر نہیں آئیں۔ "
"واہ، بولچستان کو کس لیے کھولنا ہے؟ ڈیرہ بگتی اور کوہلو کے لوگوں کے پاس انتخاب کیا ہے؟ کیا فوج سرداروں سے بہتر ثابت ہوگی؟ پھر یہ بھی عجیب بات ہے کہ جب اسلام آباد کو گیس کی ضرورت تھی تو وہ تو انہوں نے 1952 میں بغیر کسی مشکل کے نواب بگتی کے قدموں میں سے نکال لی لیکن جب ایک سکول کھولنا ہو تو انہیں سردار کی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔ حسن صاحب عظیم تر قومی مفاد کچھ نہیں سواسیے چند مافیا باسز کے انفرادی مفادات کے۔
" |
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||