<?xml version="1.0" encoding="utf-8"?>
<?xml-stylesheet title="XSL_formatting" type="text/xsl" href="/blogs/shared/nolsol.xsl"?>

<rss version="2.0" xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/">
<channel>

<title>Urdu Blog</title>
<link>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/</link>
<description>یہ بی بی سی اردو کا بلاگ ہے۔ یہاں آپ مختلف موضوعات پر بی بی سی کے نامہ نگاروں کے بلاگ پڑھ سکتے ہیں۔ </description>
<language>ur</language>
<copyright>Copyright 2009</copyright>
<lastBuildDate>Sat, 21 Nov 2009 16:39:34 +0000</lastBuildDate>
<generator>http://www.sixapart.com/movabletype/?v=4.1</generator>
<docs>http://blogs.law.harvard.edu/tech/rss</docs> 


<item>
	<title>خاموشی سے وہ بھی چلے گئے</title>
	<description><![CDATA[<p>جرنلزم کے دوران میں نے یہی سیکھا ہے کہ صحافی کھری بات کہنے کا قائل ہوتا ہے گو کہ اس کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ وہ کس جگہ اور کن حالات میں کام کرتا ہے۔</p>]]><![CDATA[<p><span class="mt-enclosure mt-enclosure-image" style="display: inline;"><img alt="sufi_ghulam_mohammad.jpg" src="http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/sufi_ghulam_mohammad.jpg" width="226" height="170" class="mt-image-left" style="float: left; margin: 0 20px 20px 0;" /></span><br />
کشمیر میں اکثر صحافی جن حالات میں کام کرتے ہیں اور جن حالات سے گزرتے ہیں اس کا مجھے بخوبی احساس ہے اور کئی بار میں خود بھی ان حالات سے گزر چکی ہوں۔ مگر مجھے یہ بات کبھی ہضم نہیں ہوتی تھی کہ ہمارے بزرگ صحافی بھی دباؤ میں رہتے ہیں، دباؤ میں لکھتے ہیں اور دباؤ میں کام کرتے ہیں۔ خاص طور سے وہ صحافی جنہوں نے کشمیر میں اردو صحافت کی بنیاد ڈالی ہے اور جِن میں سرینگر ٹائمز کے ایڈیٹر صوفی غلام محمد اور آفتاب کے ایڈیٹر خواجہ ثنا اللہ قابل ذکر ہیں۔</p>

<p>اگست کے ماہ میں لندن روانہ ہونے سے پہلے میں کشمیر میں سرینگر ٹائمز کے ایڈیٹر صوفی غلام محمد کو اپنی کتاب کا مسودہ دکھانے ان کی رہائش گاہ پر گئی۔ میرا مسودہ دیکھنے کے بجائے انہوں نے اپنی کتاب کا لمبا قصہ چھیڑا اور اس کے ابواب پڑھنے لگے۔ میں سوچتی رہی کہ شاید ایک ہی ملاقات میں مجھے پوری کتاب پڑھ کر سنائیں گے۔</p>

<p>ان کی کتاب کے چند ابواب سُن کر  محسوس ہوا کہ جیسے انہوں نے کشمیری ثقافت، سیاست، تہذیب اور روایات پر مرثیہ لکھا ہے اور وہ خود مرثیہ خواں ہیں۔</p>

<p>انہوں نے کشمیر کے جس پہلو پر لکھا ہے اس پر ماتم کناں نظر آئے۔ میں نے پوچھا 'صوفی صاحب آپ کی تحریر میں اتنی افسردگی اور ناامیدی کیوں جھلک رہی ہے؟'</p>

<p>'اس لیے کہ کبھی دل کی بات صاف صاف نہیں کہہ سکا اور اب دل کھول کر لکھنا اورکہنا چاہتا ہوں۔'</p>

<p>'آپ نے تو ہمیشہ بے باک بات کہی ہے کیا آپ کو بھی کبھی 'مصلحت سے کام لینا پڑا ہے؟'</p>

<p>اُن کے چہرے پر پھیکی مسکراہٹ پھیل گئی اور کہنے لگے 'کشمیر میں 'مصلحت'  کے بغیر کوئی کام ہوتا ہے کیا؟لندن میں رہتی ہو اسی لیے ابھی اس کا تجربہ نہیں ہوا۔'</p>

<p>میں اُن کی بات پر کافی دیر تک سوچتی رہی لیکن میں نے تہیہ کیا کہ اگلے سال کشمیر جاکر ان سے 'مصلحت'  کی وضاحت کراوؤں گی۔ چند روز پہلے معلوم ہوا کہ وہ انتقال کر چکے ہیں۔ میرا دل کافی اداس ہوگیا اس لیے کہ کشمیر میں اُردو صحافت کا ایک اہم ستون گِرگیا اور پھر مرتے وقت بھی صحافت نہیں چھوڑی اور اشاروں و کنایوں میں بہت کچھ کہہ کر خاموشی سے چلے گئے۔<br />
</p>]]></description>
         <dc:creator>نعیمہ احمد مہجور </dc:creator>
	<link>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/11/post_543.html</link>
	<guid>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/11/post_543.html</guid>
	<category>بحث</category>
	<pubDate>Sat, 21 Nov 2009 16:39:34 +0000</pubDate>
</item>

<item>
	<title>&apos;مقدمہ در مقدمہ&apos;</title>
	<description><![CDATA[<p>گیارہ ستمبر کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد اور دیگر چار کے خلاف مقدمہ نیویارک میں ایک سرکس کی طرح آنے والا ہے جو امریکہ کی تاریخ کا شاید سب سے بڑا اور انتظامات کے لحاظ سے مہنگا ترین مقدمہ ہوگا۔</p>]]><![CDATA[<p>نیویارک میں جہاں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا گراؤنڈ زیرو ہے وہاں سے چند بلاکوں پر وفاقی کورٹ ہاؤس ہے جہاں یہ مقدمہ چلے گا۔  لیکن  اس مقدمے کے ساتھ ساتھ فیڈرل کورٹ کے باہر ایک بڑا مقدمہ اور بھی ہوگا۔ یعنی کہ  میڈیا ٹرائل، جو جج، استغاثہ، وکلاء اور ملزمان سے بھی آگے آگے دوڑتا چل رہا ہوگا۔ ایک اور مقدمہ یادوں اور انسانی جذبات کا ہوگا۔۔۔ اور شاید ریشتاغ مقدمے کے بعد یہ اب تک کا بڑا مقدمہ ہو۔ کورٹ روم ڈراموں میں شاید یہ براڈوے ڈراموں  سے بھی بڑا ڈرامہ ہو۔ </p>

<p>امریکی عجیب غریب لوگ ہیں۔ گراؤنڈ زیرو پر آنے والے مقامی امریکی سیاحوں سے جب مقدمے کے بارے میں پوچھا گیا تو کئی کو خالد شیخ محمد کے نام کا بھی پتہ نہیں تھا۔</p>

<p>گیارہ ستمبر کی صبح دہشت گردانہ حملے میں مارے جانے والے نہتے تین ہزار لوگوں میں امریکیوں سمیت ہر قومیت، نسل و مذہب کے لوگوں میں سے پاکستان کے چودھری محمد وسیم، سلمان ہمدانی، شعبان علی، رحیم، شبیہ احمد، محد خالد شاہد، بھارتی نژاد ہنس مکھ پرمار، وشنو رام، اور ریڈی فقط چند نام ہیں۔ ورلڈ ٹریڈ ٹاورز کے پاس لوگوں کی مدد کو جانے والا نوجوان سلمان ہمدانی کئي ماہ تک ایک 'مشتبہ'  اور پھر اپریل  دو ہزار دو میں ایک امریکی ہیرو کے طور پر مانا گیا۔</p>

<p>اور یہ جو سازشی نظریہ ہے کہ اس دن ورلڈ ٹریڈ سینٹر مییں کام کرنے والے تمام یہودی چھٹی پر تھے، اس کے برعکس مارے جانے والے یہودی عقیدے کے لوگوں میں ایک سماجی کارکن ابراہیم اولووٹز بھی تھا۔</p>

<p>یادوں کے، آنسوؤں کے بند بھی ٹوٹیں گے۔ گيارہ ستمبر کے دہشت گردانہ حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین اپنے پیاروں کی یاد میں، وہ بھی جو سمجھتے ہیں کہ یہ حملہ ایک مخصوص مذہب کے ماننے والوں نے کیا، وہ بھی جو سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی اور دہشت گردوں کا کوئي مذہب نہیں ہوتا، اور وہ بھی جو سمجھتے ہیں یہ حملہ 'انسائیڈ جاب' یا اندرونی کام تھا۔ </p>

<p>میڈیا کے اراکین اور کیمرہ مینوں کے غولوں کے غول، انسانی حقوق والے، جنگ مخالف بھی اور جنگ پرست بھی، وہ بھی جو سمجھتے ہیں کہ دنیا چکی کے دو پاٹوں کی طرح بش اور بن لادن جیسی دو انتہاؤں کے بیچ میں پھنسی ہوئي تھی/ ہے۔ جس کا شکار وہ کئي  پاکستانی بھی ہوئے جو بروکلین سے باب خیبر تک 'کرے کوئي اور بھرے کوئي' کی مثال بنے ہیں۔ سب کے قدم اور نظرین اس طرف ہونگي۔ </p>

<p>اور سب سے بڑا ٹرائل خود امریکی نظام انصاف کا ہوگا جسے ثابت کرنا ہے کہ وہ ایک 'روالوِنگ ڈور' نہیں اور نہ ہی مینہیٹن کا جزیرہ گوانتانامو بے۔۔۔ </p>]]></description>
         <dc:creator> حسن مجتییٰ </dc:creator>
	<link>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/11/post_542.html</link>
	<guid>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/11/post_542.html</guid>
	<category>پردیسی</category>
	<pubDate>Mon, 16 Nov 2009 11:25:28 +0000</pubDate>
</item>

<item>
	<title>مر کر بھی آنکھیں کُھلی رہیں</title>
	<description><![CDATA[<p>جب میں نے اپنے پڑوسی سے مُغلی کے انتقال کی خبر سنی تو میں نے اُن سے پوچھا 'کیا اس کا بیٹا مل گیا تھا؟' پڑوسی نے جواباً ایک لمبی آہ بھری۔</p>]]><![CDATA[<p>مغلی گذشتہ بیس برسوں سے اپنے اِکلوتے بیٹے کو دیکھنے کے لیے ترستی رہی جو اس کے مرنے کے بعد بھی نہیں آیا۔ اس کا بیٹا نذیر ان دس ہزار نوجوانوں کی فہرست میں شامل ہے جو انسانی حقوق کے اِداروں کے مطابق کشمیر میں آزادی کی تحریک کے دوران لاپتہ ہوگئے ہیں اور جن کے بارے میں اب تک مقامی حکومت کوئی سُراغ نہیں دے پائی ہے اور نہ ہی بھارتی سکیورٹی فورسز نے اپنی تحویل میں لینے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔</p>

<p>بھارت کی حکومت کہتی ہے کہ کشمیر میں حالات بہتر ہوگئے ہیں مگر اس کی سروسز ٹیم خدشات کے پیش نظر وہاں رانجی ٹرافی کھیلنے  سے ڈرگئی۔</p>

<p>ریاستی حکومت برطانیہ کے سیاحت کے میلے میں کشمیر کی خوبصورتی اور سازگار حالات بیان کرتے کرتے تھک گئی لیکن یورپی حکومتوں کی ایڈوائزری کو ہٹانے میں ابھی تک ناکام رہی کیونکہ یورپ والوں کو ان کی بات کا یقین نہیں ہے۔</p>

<p>میں اس مخمصے میں ہوں کہ حالات کی بہتری سے کیا مراد ہوتی ہے۔ اگر مُغلی کو اپنا بیٹا مل گیا ہوتا یا کم از کم اُس کو مرنے سے پہلے بیٹے کی ہلاکت کے بارے میں بتا دیا ہوتا تو میں ضرور یقین کرتی کہ حالات اگر بہتر نہیں تو کم از کم حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اور پھر مغلی کی آنکھیں مرنے کے بعد بھی کُھلی نہ رہتیں۔ <br />
</p>]]></description>
         <dc:creator>نعیمہ احمد مہجور </dc:creator>
	<link>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/11/post_541.html</link>
	<guid>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/11/post_541.html</guid>
	<category>بحث</category>
	<pubDate>Sat, 14 Nov 2009 13:00:13 +0000</pubDate>
</item>

<item>
	<title>&apos;جہادی&apos; کون &apos;فسادی&apos; کون۔۔۔</title>
	<description><![CDATA[<p>کسی بھی تنازعے میں ہر فریق کا سب سے بڑا ہتھیار اس کا نظریہ اور موقف ہوتا ہے۔ اسی کی بنیاد پر وہ اپنے کردار اور اعمال کو جائز قرار دیتا ہے۔ انسانی تاریخ ایسے جواز سے اٹی پڑی ہے۔</p>]]><![CDATA[<p>سویت یونین کی افغانستان میں مداخلت کا جواز ببرک کارمل کی کمیونٹسٹ حکومت کی مدد اور اس خطے میں ایران اور مغربی اثر وسروخ کو پھیلنے سے روکنا تھا۔ روسی سوچ کے مطابق یہ مداخلت نہیں افغانستان کا دفاع تھا۔ کابل میں اس وقت اگر کارمل کی جگہ امریکہ حلیف کرزئی کی حکومت ہوتی تو شاید واشنگٹن بھی یہی کرتا؟</p>

<p>ایک آزاد ملک میں غیر ملکی فوجی مداخلت آزادی کے علمبردار امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کو کیسے ہضم ہو پاتی۔ بس پھر کیا تھا، پاکستان کی فوجی قیادت کی مدد سے مغرب نے افغانستان کو روسی فوجیوں کا قبرستان بنا دیا۔ امریکہ کو سویت یونین کے خلاف اپنی سرد جنگ یہاں گرم کرنے کا موقع ملا۔ ایسا موقع شاید کسی اور کے ہاتھ لگتا تو وہ کیا اسے جانے دیتا؟ سو مغربی دنیا کا جواب بھی شاید درست تھا۔</p>

<p>پاکستانی فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کو افغانستان میں مغرب کی مدد کے صلے میں حمایت ملی۔ لہذا انہوں نے بھی اپنے مفاد کی خاطر جو کیا ان کی ذاتی بقاء کے لیے درست تھا۔</p>

<p>تاریخ کو چند دہائیاں فاسٹ فاروڈ کیجیے تو آج جنوبی وزیرستان میں لڑنے والا شدت پسند بھی اپنے نظریے کو درست مانتا ہے۔ وہ اپنے 'دفاعی جہاد' کی ایسی ایسی تشریحات پیش کرتا ہے کہ عام آدمی کے لیے ان کا مقابلہ کرنا ناممکن ہے۔ تاہم حکومتِ پاکستان انہیں 'جہادی' نہیں 'فسادی' قرار دیتی ہے۔ </p>

<p>تو آخر غلط کون ہے؟ ہم انسان کسی ایک وقت میں درست بھی ہوتے ہیں اور غلط بھی۔ خود غرضی یہ کہ درست ہم اپنے لیے لیکن بدقسمتی کہ تنگ نظر دوسروں کے لیے ہوتے ہیں۔ ہم کسی اور کی سوچ کے پس منظر کو جاننے کی یا جگہ دینے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔  </p>]]></description>
         <dc:creator>ہارون رشید </dc:creator>
	<link>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/11/post_540.html</link>
	<guid>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/11/post_540.html</guid>
	<category>پاکستان</category>
	<pubDate>Wed, 11 Nov 2009 14:42:06 +0000</pubDate>
</item>

<item>
	<title>یروشلم میں پیار</title>
	<description><![CDATA[<p>کل رات ایک محفل میں کچھ ایسے آزاد خیال یہودیوں سے ملاقات ہوئی جو فلسطینوں کے ساتھ امن، پیار و محبت چاہتے ہیں، پر صرف سیاسی لحاظ سے نہیں بلکہ جنسی طور پر بھی۔</p>]]><![CDATA[<p><span class="mt-enclosure mt-enclosure-image" style="display: inline;"><img alt="transexuals_jerusalem226.jpg" src="http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/transexuals_jerusalem226.jpg" width="226" height="170" class="mt-image-left" style="float: left; margin: 0 20px 20px 0;" /></span><br />
جگہ تھی مشرقی یروشلم کو مغربی یروشلم سے جوڑنے والی ایک سڑک پر واقع بار جہاں پیر کی شام ہم جنس پرست نوجوانوں کی ہفتہ وار محفل جمتی ہے۔<br />
 <br />
شوشان اسٹریٹ پر واقع یہ بار دنیا  کے اس مذہبی شہر میں ایک الگ ہی جگہ ہے۔ یہاں مغربی یروشلم کے یہودی لڑکے لڑکیوں اور مشرقی یروشلم  کے فلسطینی نوجوانوں  کا ملاپ ہوتا ہے۔</p>

<p>ہکاٹزے نامی اس بار میں کچھ لڑکے لڑکیوں کا میک اپ کر کے آئے ہوئے تھے تو کچھ لڑکیاں لڑکوں کا روپ اپنائے ہوئے تھیں۔ آپس میں ہنسی مذاق ہو رہا تھا، موج مستی اور گانا بجانا ہو رہا تھا۔<br />
 <br />
یوں تو اسرائیل میں ہم جنس پرست کمیونٹی خاصی متحرک ہے لیکن یروشلم جیسی مقدس جگہ میں ہم جنس پستوں کو کٹر قدامت پسند یہودی لابی سے سخت مخالفت کا سامنا رہتا ہے۔ عرب کمیونٹی میں تو ہم جنس پرستی اور بھی بڑا مسئلہ ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہودیوں اور مسلمانوں میں ویسے کتنے بھی اختلافات ہوں لیکن ہم جنس پرستی کے معاملے پر دونوں جانب کے مذہبی رہنماؤں کا رویہ ایک ہی جیسا ہے۔</p>

<p>اس بار میں نوجوانوں سے مل کر لگا کہ سیاسی، قومی اور مذہبی اختلافات سے قطع نظر، دل کے معاملات کے آگے کبھی کبھی انسان بلکل مجبور بھی ہو جاتا ہے۔ اور پھر شاید ایسے ہی نفرتوں کے سمندر کے بیچ پیار کے جزیرے ابھرنے لگتے ہیں۔<br />
</p>]]></description>
         <dc:creator>شاہ زیب جیلانی </dc:creator>
	<link>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/11/post_539.html</link>
	<guid>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/11/post_539.html</guid>
	<category>پردیسی</category>
	<pubDate>Tue, 10 Nov 2009 15:59:40 +0000</pubDate>
</item>

<item>
	<title>&apos;ہائے عروج کا وہ زمانہ۔۔۔&apos;</title>
	<description><![CDATA[<p>'آپ نے قلعہ بالا حصار کے بارے میں سنا ہوگا۔ یہ جو سامنے والی عمارت ہے، یہ ہے قلعہ بالا حصار، جو چند سو سال پہلے مغلوں کی دورِ حکرانی میں تعمیر ہوا تھا۔ ہاں یہ ہم جہاں سے گزر رہے ہیں یہ پشاور کا پوش علاقہ حیات آباد ہے۔ یہ دیکھیں سینکڑوں سال پرانا قصہ خوانی اور اس سے متصل سب سے بڑا کاروباری مرکز خیبر بازار۔ جس بازار میں اب ہم داخل ہونے والے ہیں یہ شہر کا مقبول ترین بازار صدر ہے۔ یہ دیکھو شہر کا سب سے بڑا ہوٹل پرل کانٹیننٹل۔۔۔'</p>]]><![CDATA[<p>یہ ساری باتیں پانچ سال پہلے کی ہیں جب میں پشاور میں بالکل نیا نیا وارد ہوا تھا اور باہر سے آئے ہوئے  اپنے دوستوں کو شہر کی سیر کراتے ہوئے ان مقامات کا کچھ اسی انداز سے تعارف کراتا تھا۔</p>

<p> لیکن اب پانچ سال بیت چکے ہیں۔ پرسوں اپنے بہنوئی کو گاڑی میں بٹھا کر ان سے اِنہی مقامات کا تعارف کچھ یوں کرایا۔۔۔ 'یہ دیکھو شہر کا واحد بڑا ہوٹل پرل کانٹیننٹل ہوٹل، یہ وہی جگہ ہے جہاں پر چند مہینے قبل بم دھماکہ ہوا تھا۔ اب یہ ہوٹل  بند ہے اور ہوٹل کے ملازمین داخلی گیٹ کے سامنے بیھٹے اپنی نوکریوں کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔۔۔'</p>

<p>'یہ قصہ خوانی بازار ہے۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں پیپل منڈی میں دھماکہ ہوا تھا جس میں ایک سو بیس شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔' گاڑی روک کر میں نے کہا 'یہ خیبر بازار ہے، یہ وہی جگہ ہے جہاں ایک ماہ پہلے  بارود سے بھری گاڑی لوکل بس کے ساتھ ٹکرائی تھی۔ پچاس سے زائد شہریوں کو زندگی موت کی گھاٹی میں اتارا گیا تھا۔۔۔'</p>

<p>'ہم ابھی ابھی جس علاقے میں داخل ہوئے ہیں یہ شہر کا پوش مگر سب سے 'غیر محفوظ' ایریا حیات آباد ہے۔ اگر آپ کو یاد ہو یہاں سے افغانستان کے نامزد سفیر عبدالخالق فراہی اور ایران کے بزنس اتاشی اغواء ہوئے تھے اور اس قسم کی زیادہ تر وارداتیں یہاں ہی ہوتی ہیں۔ یہی وہ علاقہ ہے جہاں میں دو سال پہلے تک بلا خوف و خطر لانگ ڈرائیو کرنے آتا تھا اور اب اتنا ڈر لگتا ہے کہ بہت عرصے بعد آپ ہی کی وجہ سے  آنا پڑا ہے۔۔۔'</p>

<p>اپنے بہنوئی کو یہ سب کچھ  بتاتے ہوئے مجھے نہ جانے اچانک ایک دھچکا سا لگا۔ اوہو، پانچ سالوں میں اتنی بڑی تبدیلی، اتنی بڑی کہ 'دہشت گردی کی جنگ' نے شہر کی تاریخی یادگاروں اور مشہور مقامات سے ان کی پہچان چھین لی ہے اور اب انکی شناخت بم دھماکوں، خودکش حملوں اور ہلاکتوں کی نسبت سے ہوتی ہے۔ بقول جوش صاحب، 'ہائے وہ عروج کا زمانہ، ہائے  زوال کے یہ دن۔۔۔'</p>]]></description>
         <dc:creator>عبدالحئی کاکڑ </dc:creator>
	<link>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/11/post_538.html</link>
	<guid>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/11/post_538.html</guid>
	<category>پاکستان</category>
	<pubDate>Tue, 10 Nov 2009 11:46:27 +0000</pubDate>
</item>

<item>
	<title>بی بی سی اور اسرائیل</title>
	<description><![CDATA[<p><span class="mt-enclosure mt-enclosure-image" style="display: inline;"><img alt="israel_226.jpg" src="http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/israel_226.jpg" width="226" height="170" class="mt-image-none" style="" /></span>اسرائیل میں یہودی اسٹیبلشمنٹ بی بی سی کو خاصا ناپسند کرتی ہے۔ اسرائیل کے کٹر قدامت پسند میڈیا کا خاصی باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں۔ </p>]]><![CDATA[<p> کٹر قدامت پسند آئے دن بی بی سی کی رپوٹوں پر جانبداری اور یہود مخالف  کوریج کے الزامات لگاتے ہیں۔</p>

<p>میری یہاں جتنے بھی پڑھے لکھے لوگوں سے بات ہوئی اُن کا خیال  ہے کہ بی بی سی فلسطینیوں کی کھلی طرف داری کرتا ہے جبکہ اسرائیلی نقطہء نظر اکثر گول کرجاتا ہے۔</p>

<p>بی بی سی کے اسرائیلی ناقدین کو شاید اندازہ نہیں کہ ہمیں تو بعض لوگ صیہونی سازش کا حصہ قرار دیتے نہیں تھکتے۔ خود میں پچھلے چند دنوں میں یروشلم سے لکھے گئے اپنے بلاگز پر بعض قارئین کی برہمی کا نشانہ بنا ہوں: کسی نے 'سابقہ پاکستانی، کہہ ڈالا تو کسی نے 'اسرائیلی ایجنٹ، قرار دے دیا!</p>

<p>لیکن اس طرح کے کاموں میں تو اس طرح ہوتا ہے۔ کبھی ادارہ تنقید کی زد میں آتا ہے تو کبھی آپ خود۔</p>

<p> میرے نزدیک ایسے حالات میں آپ کے سامنے دو ہی راستے ہوتے ہیں: لوگوں کو خوش کرنے کے لئے وہی کہیں جو وہ سُننے کے عادی ہوچکے ہیں یا پھر جتنا ممکن ہو اپنا کام اپنی صحافتی اقدار کے حساب سے کرتے جائیں۔</p>

<p>اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ہر نکتہ چینی مسترد کر دیں۔ تنقید جیسی بھی ہو اُسے کھلے ذہن کے ساتھ پرکھنا ضرور چاہئے۔اگر اُس میں دم ہو تو اگلے کا شکریہ! لیکن اگر بےجا ہو تواُسے خاطر میں نہ لانا ہی بہتر ہوتا ہے۔</p>

<p><br />
</p>]]></description>
         <dc:creator>شاہ زیب جیلانی </dc:creator>
	<link>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/11/post_537.html</link>
	<guid>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/11/post_537.html</guid>
	<category>آس پاس</category>
	<pubDate>Tue, 10 Nov 2009 07:05:17 +0000</pubDate>
</item>

<item>
	<title>برلن اور تقسیم کے زخم</title>
	<description><![CDATA[<p><span class="mt-enclosure mt-enclosure-image" style="display: inline;"><img alt="berlin_wall226.jpg" src="http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/berlin_wall226.jpg" width="226" height="283" class="mt-image-none" style="" /></span>برلن وال کے خاتمے کو پورے بیس برس ہو گئے ہیں۔  سرد جنگ کی سب سے ظاہری نشانی نے خاندانوں، قوموں  اور دنیا کی سیاسی قوتوں کو تقسیم کیا ہوا تھا۔</p>]]><![CDATA[<p>عوامی طاقت اور حذبے نے اس دیوار کو گرا تو دیا لیکن کہانی کا ایک زیادہ دلچسپ پہلو یہ ہے  کہ سرمایہ دار دنیا کے دولت مند ملک مغربی جرمنی نے اپنے کمیونسٹ اور غریب پڑوسی مشرقی جرمنی کو کس طرح سنبھالا اور وہاں کس طرح سرمایا کاری کے ذریعے ترقیاتی کام کیے۔</p>

<p>برلن میں ہر طرف آپ کو اس کی تقسیم کی تاریخ دکھائی دیتی ہے۔ کمیونسٹ ممالک والے مخصوص مجمسے اور عوامی تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ یہ علاقہ کبھی مشرقی برلن کا حصہ ہوگا۔ نئی نئی عمارتوں کی تعمیر بھی زیادہ تر شہر کے مشرق میں ہوئی۔</p>

<p>دیوار کے کھنڈرات بھی سرمایہ داروں کے نام ہو گئے۔ اس کی اینٹوں کے ٹکرے پیپر ویٹ، 'کی چین' اور دیگر شکلوں میں فروخت ہو رہے ہیں۔ کمیونسٹ جرمنی کی فوجی وردیاں بھی دیوار کی تاریخ سے وابسطہ سیاحتی کاروبار کے تماشے کا حصہ بن چکی ہیں۔</p>

<p>جرمنی کی کمیونسٹ تاریخ کو جرمن دکاندار خوب بیچ رہے ہیں۔ لیکن اس تقسیم کی اصل انسانی قیمت کا آپ کو اس سے متعلق عجائب گھر میں جا کر پتہ چلتا ہے۔</p>

<p>'دا وال میوزیم' میں جرمنی کی تقسیم کی ایک انتہائی تکلیف دہ  کہانی ظاہر ہوتی ہے جس میں سینکڑوں ہزاروں افراد نے اپنی جانیں دے دیں۔ ان افراد کی فہرستیں ہیں جو مشرق میں لا پتہ ہو گئے، جنہیں حکومت کی مخالفت کے جرم میں  ایسے کیمپوں میں لے جایا گیا جہاں سے وہ زندہ نہ لوٹے۔</p>

<p>ان لوگوں کی کہانیاں ہیں جو کسی نہ کسی طریقے سے دیوار کی دوسری طرف آنا چاہتے تھے، گاڑیوں کی ڈّگیوں میں چھپ کر، بھاگ کر یا تیر کر۔ ان لوگوں کی کہانیاں ہیں جو مشرق سے نکلنے والوں کی مدد کرتے تھے، اور جنہیں ہر وقت خطرات اور دھمکیوں کا سامنا تھا۔</p>

<p>عجائب گھر میں ظلم کی کہانیاں ہیں اور ہمت کی بھی۔ تقسیم شدہ خاندانوں کی، ٹوٹے ہوئے خوابوں کی۔اس میں آکر آپ کو صحیح اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تقسیم اس شہر ۔۔ اور ملک۔۔۔ کے لیے کتنی اذیتناک ثابت ہوئی۔</p>

<p>مجھے برلن جاکر ہی اس تکلیف دہ انسانی تاریخ کا احساس ہوا۔ لیکن ملک نے اپنے آپ کو جس طرح سنبھالا ہے وہ بھی متاثرکن ہے۔</p>]]></description>
         <dc:creator>عنبر خیری </dc:creator>
	<link>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/11/post_536.html</link>
	<guid>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/11/post_536.html</guid>
	<category>سیاست</category>
	<pubDate>Mon, 09 Nov 2009 06:45:07 +0000</pubDate>
</item>

<item>
	<title>پاکستان کے خودکُش حملے اور اسرائیلیوں کی ہمدردیاں</title>
	<description><![CDATA[<p>کل رات کا ڈنر یروشلم سے باہر ایک یہودی فیملی کے گھر کھایا۔ وہ پہلے کبھی کسی پاکستانی سے نہیں ملے۔</p>]]><![CDATA[<p>مجھے لگا کہ جتنی میری اُن کے طور طریقے جاننے میں دلچسپی تھی  اُتنی ہی دلچسپی انہیں مجھ میں اور پاکستان میں تھی۔ </p>

<p>ذکر پاکستان میں آئے دن کے خودکُش حملوں کا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسرائیلوں کو پاکستانیوں سے پوری ہمدردی ہے کیونکہ ہم سے بہتر کون جانتا ہوگا کہ خودکُش حملے روکنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ </p>

<p>ایک حد تک ان کی بات سہی بھی تھی۔ پاکستان میں خودکُش حملوں کا رواج نائن الیون کے بعد سے پڑا۔ لیکن اسرائیلی ایک لمبے عرصے سے انہیں بھگتے آئے ہیں۔ </p>

<p>کبھی فلسطینی خودکُش حملہ آوروں نے یروشلم میں عام مسافروں سے بھری بسوں کو نشانہ بنایا تو کبھی تل ابیب میں ریستوران اور ڈسکوز اُن کی کاروائیوں کا نشانہ بنے۔</p>

<p>ایک زمانہ تھا اسرائیل آئے دن اس قسم کی خبروں میں رہتا تھا لیکن اب یوں لگتا ہے جیسے پاکستان اور خودکُش حملے لازم و ملزوم ہو چکے ہیں۔<br />
میں نے اپنے  پُر خلوص اسرائیلی میزبانوں سے پوچھا کہ آپ نے کیسے خودکش حملوں پر بظاہر خاصا کنٹرول کر لیا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو شاید یہ بات پسند نہ آئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب سے اسرائیل نے فلسطینوں کی نقل و حرکت روکنے کے لئے جگہ جگہ سکیورٹی رکاوٹیں کھڑی کیں اور دیوار بنائی، اُن کا یہاں آ کر حملے کرنا ناممکن نہیں تو بے حد مشکل ضرور ہوگیا ہے۔<br />
 <br />
مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیل رقبے کے اعتبار سے پاکستان سے کئی گناہ چھوٹا لیکن مال کے اعتبار سے کافی امیر ملک ہے اس لئے وہ اس قسم کے سکیورٹی اقدامات کر سکتا ہے۔ </p>

<p>پاکستان خودکش حملہ آوروں کو روکنے کے لئے اگر دیوار کھڑی کرنے کا سوچے بھی تو آخر کہاں کہاں؟</p>

<p> آخر میں چلتے چلتے میرے یہودی میزبانوں نے کہا کہ اسرائیلی شہریوں کو جان سے مارنے والے تو اکثر فلسطینی خودکش حملہ آور رہے ہیں لیکن انہیں یہ سمجھ نہیں آتا کہ پاکستان میں مسلمان مسلمانوں کو کیوں مار رہے ہیں؟</p>

<p> میں نے کہا اس کا جواب خاصا مشکل ہے۔ بس یوں سمجھ لیجیئے کہ جب کوئی ملک اپنے پڑوسی حریف ملکوں سے نمٹنے کے لئے بیرونی امداد سے جہادی میزائیل تیار کرنے میں لگ جاتے ہیں تو وہ  کبھی کبھی  بھول جاتے ہیں کہ بعض اوقات  جہادی فیکٹریوں سے نکلنے والے میزائل آپ کے اپنے  گلے پڑ جاتے ہیں۔ <br />
</p>]]></description>
         <dc:creator>شاہ زیب جیلانی </dc:creator>
	<link>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/11/post_535.html</link>
	<guid>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/11/post_535.html</guid>
	<category>سیاست</category>
	<pubDate>Sun, 08 Nov 2009 13:53:41 +0000</pubDate>
</item>

<item>
	<title>میرا نے ایسا کیا کیا؟</title>
	<description><![CDATA[<p><span class="mt-enclosure mt-enclosure-image" style="display: inline;"><img alt="meera_226.jpg" src="http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/meera_226.jpg" width="226" height="283" class="mt-image-none" style="" /></span>چند روز سے انٹرنیٹ پر اداکارہ میرا کی ایک وڈیو گردش کر رہی ہے جس میں وہ کسی پروگرام سے پہلے ریہرسل میں مصروف ہیں۔ وڈیو پاکستان کے انٹرنیٹ صارفین میں بہت مقبول ہوئی ہے اور بظاہر ان کے لیے انتہائی تفریح کا باعث بنی ہے۔</p>]]><![CDATA[<p>وڈیو پر لوگوں کے تبصروں سے اندازہ ہوا کہ اسے دیکھتے ہی یقیناً اکثر پر ہنسی کے دورے پڑے ہوں گے۔ کچھ نے بے ساختہ توبہ استغفار کا ورد شروع کیا ہوگا اور زیادہ تر نے اس بات پر شکر ادا کیا ہو گا کہ انہیں انگریزی آتی ہے۔ </p>

<p>وڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ میرا پروگرام ریکارڈ کروا رہی ہیں جس میں انہوں نے انگریزی زبان میں کسی مہمان کا انٹرویو کرنا ہے۔ میرا کی مشکل یہ ہے کہ انہیں انگریزی کے سوال یاد نہیں ہو رہے اور وہ جب بھی کوئی جملہ بولنے کی کوشش کرتی ہیں ان کی انگریزی غلط ہو جاتی ہے۔</p>

<p>اس غلطی کی پاداش میں لوگوں نے وڈیو کے لنک کے ساتھ تبصروں کے لیے مخصوص جگہ پر 'میرا تیرا خانہ خراب'، 'دماغ گھوم گیا'، 'ہا ہا ہا ہا'، 'اف خدایا'، 'کیا بکواس ہے' جیسے بیانات کی یلغار کر دی ہے۔ کچھ ناقابل اشاعت  باتیں بھی لکھی گئی ہیں۔ میرے خیال میں باتیں صرف اس کو سنائی جانی چاہیے تھیں جس نے ریہرسل کی یہ وڈیو عام کیں۔</p>

<p>انٹرنیت پر جو وقت گزارتے ہیں اور تبصرے لکھتے ہیں انہوں نے سکول کالج کا منہ تو یقیناً دیکھا ہوگا اور عام ترکیب میں انہیں تعلیم یافتہ بھی کہا جاتا ہوگا۔ ان کے تعلیمی معیار کا اندازہ ان کے تبصروں سے بخوبی ہو سکتا ہے۔ </p>

<p>دنیا کے کامیاب معاشروں میں علم کو فوقیت دی جاتی ہے اور پاکستان میں یہ مقام انگریزی زبان کو دیا گیا ہے۔ ٹی وی کے اکثر اردو کے پروگرام صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنہیں انگریزی زبان سے واقفیت ہے۔ کئی پروگراموں میں معلومات ہوں نہ ہوں انگریزی کا تڑکا ضرور رہتا ہے۔</p>

<p>مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں کسی بھی شعبے میں کامیابی کا دروازہ انگریزی زبان کے بغیر نہیں کھلتا اور اچھے انگریزی میڈیم سکول کی تعلیم کا خرچ آٹے میں نمک برابر لوگ ہی اٹھا سکتے ہیں۔ ایک ایسا نظام قائم ہو چکا ہے جس میں صرف انگریزی ہی آپ کو ممتاز کر سکتی ہے۔ اور بظاہر ان لوگوں کے نزدیک غلط انگریزی سے بڑی کوئی غلطی نہیں۔</p>

<p>میرا کے قصے کی اہم بات یہ ہے کہ ان کی وِڈیو پر تبصروں کا نشانہ تو صرف مِیرا خود تھیں، لیکن معیار اگر انگریزی بولنے کی صلاحیت ہے تو مِیرا کو دیے گئے تمام اچھے برے القابات پاکستان کی ایک غالب اکثریت پر صادق آتے ہیں۔</p>]]></description>
         <dc:creator>اسد علی  </dc:creator>
	<link>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/11/post_534.html</link>
	<guid>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/11/post_534.html</guid>
	<category>فن اور فنکار</category>
	<pubDate>Sat, 07 Nov 2009 16:40:02 +0000</pubDate>
</item>

<item>
	<title>یہودیوں کا &apos;سبت&apos;</title>
	<description><![CDATA[<p>دنیا کے لگ بھگ سبھی ملکوں میں لوگ ہفتہ وار چھٹی مناتے ہیں۔ لیکن اسرائیل میں یہودیوں کا انداز شاید سب سے نِرالا ہے۔ اب یروشلم میں میرے پچھلے چوبیس گھنٹے ہی لیجیے۔  <br />
</p>]]><![CDATA[<p>یہاں آنے سے پہلے میں یہ تو جانتا تھا کہ یروشلم یہودیوں اور فلسطینوں، مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان ایک منقسم شہر ہے۔ لیکن کسی حد تک اس کا بہتر اندازہ یہاں پہنچ کر ہوا۔ شہر کے مشرقی مسلم حصے میں باہر بازار کھلے ہوئے ہیں اور گہما گہمی ہے۔ لیکن یروشلم کا مغربی یہودی حصہ کل شام سے سُنسان و ویران ہے۔ بتایا گیا کہ جمع کی شام سے آج سنیچر کی شام تک یہودی اپنی ہفتہ وار تعطیل 'سبت' منا رہے ہیں۔</p>

<p>ِان چوبیس گھنٹوں کے دوران یہودیوں کی اکثریت اپنے تمام کام چھوڑ دیتی ہے۔ اس دوران آپ کو سڑکوں پر کوئی گاڑی چلاتا نظر نہیں آتا، بسیں وغیرہ بند ہو جاتی ہیں۔ گھر میں چولہا نہیں جلایا جاتا اور کھانے وغیرہ پہلے سے تیار کر لیے جاتے ہیں۔ بجلی کا استعمال ترک کر دیا جاتا ہے اور رات کو موم بتیوں پر گزارا کیا جاتا ہے۔ ٹی وی، ریڈیو، کمپیوٹر غرض کہ ہر ہفتے ایک دن کے لیے ساری الیکٹرانک اشیاء بند رکھی جاتی ہیں۔<br />
اگر آپ میری طرح یہاں اجنبی ہوں اور آپ کو 'سبت'  کے آداب سے آگہی نہ ہو تو کافی مسئلہ بھی ہوسکتا ہے۔ اگر آپ اس دوران انجانے میں یہودیوں سے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اول تو آپ کو ان کے فون بند ملتے ہیں، لیکن اگر اتفاق سے کوئی فون اٹھا لیتا ہے تو آپ کو 'سبت'  کے دوران تنگ کرنے پر ان کی کھری کھری سُننی پڑتی ہے۔</p>

<p>یہودی عقیدے میں سبت کی اہمیت کے بارے میں ہمارے آفس میں ایک مقامی  لڑکی ڈینیئلا پرتم نے یہ وضاحت کی:'دراصل سبت کا وقت گھر والوں کے ساتھ آرام اور عبادت کا وقت ہے اور اس دوران معمول کے سارے کام چھوڑ دیے جاتے ہیں اور کسی بھی ایسے کام سے اجتناب کیا جاتا ہے جس میں تخلیق کا عنصر شامل ہو' (جیسا کہ بجلی کےاستعمال سے انرجی پیدا کرنے کا عمل)۔</p>

<p>ایسے میں میں یہاں اپنے جس کام سے آیا ہوں اس میں میرے پاس اب سبت ختم ہونے کے انتظار کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ <br />
</p>]]></description>
         <dc:creator>شاہ زیب جیلانی </dc:creator>
	<link>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/11/post_533.html</link>
	<guid>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/11/post_533.html</guid>
	<category>پردیسی</category>
	<pubDate>Sat, 07 Nov 2009 11:47:25 +0000</pubDate>
</item>

<item>
	<title>&apos;ویلکم ٹو اسرائیل&apos;</title>
	<description><![CDATA[<p>کل رات اُردن سے اسرائیلی سرحد پار کرتے ہوئے امیگریشن کا تجربہ خوب رہا۔ میرے ساتھ برازیل کے لوگوں اور دوسروں کو ایک انٹرویو کے بعد جانے دیا گیا لیکن میرے برطانوی پاسپورٹ پر جائے پیدائش کا مقام اسرائیلوں کی کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ پوچھا 'یہ سکھر کہاں ہے؟، میں نےجواب دیا: پاکستان میں۔</p>]]><![CDATA[<p>امیگریشن ڈیسک پر بیٹھی لڑکی کی بھنوئیں فوراً اونچی ہوگئیں اور اس نے اپنے برابر بیٹھی ساتھی امیگریشن آفیسر کو معنی خیز انداز میں دیکھتے ہوئے عبرانی زبان میں کچھ بڑبڑایا۔ پھر سوالات کی بوچھاڑ شروع ہوگئی: 'ماں کا نام؟، 'باپ کا نام، 'فلسطینیوں کے ساتھ کوئی تعلق؟ وہ سوال کرتے گئے اور میں سیدھے سیدھے جواب دیتا گیا۔</p>

<p> پھر ایک دوسرے کمرے میں بٹھا دیا گیا کہ ایک اور آفیسر آ کر آپ سے تفصیلی پوچھ گچھ کریں گے۔ کوئی آدھے گھنٹے بعد سویلین کپڑوں میں ایک صاحب نمودار ہوئے اور چھوٹتے ہی کہا: 'سانپوں میں آپ کی کوئی خاص دلچسپی ہے؟ میں کچھ سٹ پٹا سا گیا اور کہا 'جی نہیں تو۔ پوچھا:'پھر بیروت میں آپ نے سانپوں سے بھرا وہ فلیٹ کیسے ڈھونڈ نکالا؟ مجھے پہلے تو حیرانی ہوئی کہ انہیں کچھ ماہ پہلے کی گئی اس سٹوری کا کیسے علم ہوا؟ پھر خیال آیا کہ انٹرنیٹ اور گوگل کا زمانہ ہے، انہوں نے  تفتیش سے پہلے نام سے سرچ کر کے دیکھا ہوگا کہ بندہ واقعی بی بی سی کا نمائندہ ہے یا نہیں۔</p>

<p>بہرحال انہوں نے ٹھیک ٹھاک پوچھ گچھ کی لیکن خوشگوار انداز میں۔ اور کوئی تین گھنٹوں کی اس کارروائی اور تلاشیوں کے بعد مجھے بلآخر یہ کہتے ہوئے جانے دیا گیا، 'ویلکم ٹو اسرائیل!' </p>

<p>اب میں یروشلم کے مشرقی حصے میں مسجد اقصیٰ کے برابر میں قریب واقع اپنے ہوٹل پہنچا ہوں۔<br />
</p>]]></description>
         <dc:creator>شاہ زیب جیلانی </dc:creator>
	<link>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/11/post_532.html</link>
	<guid>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/11/post_532.html</guid>
	<category>پردیسی</category>
	<pubDate>Fri, 06 Nov 2009 16:48:15 +0000</pubDate>
</item>

<item>
	<title>&apos;کیا امریکی سودائی ہیں&apos;</title>
	<description><![CDATA[<p>یہ خبر تو آپ نے سن ہی لی ہوگی کہ ایک اطالوی عدالت نے امریکی سی آئی اے کے تئیس اور اطالوی خفیہ کے دو ایجنٹوں کو ایک مصری عالم ابو عمر کو اطالوی شہر میلان سے اغوا  کر کے مصر منتقل کرنے کے جرم میں تین سے آٹھ برس تک قید اور دو دو ملین یورو جرمانے کی سزا سنائی ہے۔</p>]]><![CDATA[<p> اگرچہ مجرم قرار دیے گئے امریکی ایجنٹ بہت پہلے اٹلی چھوڑ  کر اپنے ملک جا چکے ہیں لیکن دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں لاقانونیت کو لگام دینے کے تعلق سے مذکورہ فیصلے کی زبردست علامتی اہمیت بتائی جا رہی ہے۔</p>

<p>مگر اس اطالوی عدالتی کے فیصلے سے 'بے وفائی' اور 'احسان فراموشی'  کی بو بھی آ رہی ہے کیونکہ امریکہ وہ ملک ہے جس نے دوسری عالمی جنگ میں اٹلی کو مسولینی کے فاشزم سے نجات دلوائی  اور بعد ازاں جنگ زدہ اٹلی کی تعمیرِ نو کے لیے مارشل پلان کے تحت کروڑوں ڈالر کی امداد دی۔ امریکی سی آئی اے نے سرد جنگ کے دوران اٹلی کو کیمونسٹوں کے سیلاب سے محفوظ رکھنے کے لیے دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کو بھاری رقوم فراہم کیں۔ ناٹو میں اٹلی کو شامل کیا گیا اور اس یارِ وفادار پر اندھا اعتماد کرتے ہوئے چھٹے امریکی بحری بیڑے کا ہیڈ کوارٹر اطالوی ساحلی شہر نیپلز میں قائم کیا گیا۔ جبکہ اطالوی عدلیہ نے امریکہ کے  تاریخی لگاؤ اور محبت کا صلہ سی آئی اے کے تئیس ایجنٹوں کو سزا سنا کر دیا۔</p>

<p>اٹلی سے تو کہیں اچھا پاکستان ہے جس نے نہ صرف امریکہ کو یکطرفہ طور پر اڈے دیے، سرد جنگ میں سرخوں کے خلاف امریکہ کا رضاکارانہ اتحادی بنا۔ افغان جنگ میں روس کو شکست دینے کے لیے سی آئی اے کے لیے نہ صرف اپنے گھر کے دروازے بلکہ کھڑکیاں اور روشن دان تک کھول دیے۔ امریکہ نے جتنی بھی امداد دی اسے صبر شکر کے ساتھ دعا دیتے ہوئےقبول کرلیا۔ رمزی یوسف سے ایمل کانسی تک اور افغان سفیر ملا ضعیف سے عافیہ صدیقی تک امریکہ نے جس جس پاکستانی یا غیر پاکستانی کو مجرم جانا اسے نمک خواروں نے خود اغوا کر کے منہ پر نقاب پہنا، ڈنڈا ڈولی کر جہاز پر چڑھایا۔ سینکڑوں لوگوں کو غائب کروا دیا  گیا۔ بلکہ یہاں تک اہتمام کیا کہ کوئی پاکستانی ادارہ یا عدالت کسی مغربی پر بالعموم اور امریکی پر بالخصوص ہاتھ نہ ڈالے چاہے وہ بلا اجازت پاکستان کے کسی بھی حصے میں جاکر کسی بھی سیاسی و غیر سیاسی شخص سے ملے یا حساس مقامات کی تصاویر بنائے یا سادہ کپڑوں میں پاکستان کی سڑکوں پر اسلحہ لے کر دندنائے ۔</p>

<p>اگر کسی سرپھرے نے اسٹیبلشمنٹ کی توجہ اس جانب لانے کی کوشش بھی کی تو انشا جی کے شعر میں (تھوڑا سا تصرف کرتے ہوئے) یہ کہہ کر سمجھا دیا گیا</p>

<p>یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، جو لوگوں نے پھیلائی ہیں<br />
تم 'امریکہ'  کا نام نہ لو، کیا 'امریکی' سودائی ہیں!<br />
</p>]]></description>
         <dc:creator>وسعت اللہ خان </dc:creator>
	<link>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/11/post_531.html</link>
	<guid>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/11/post_531.html</guid>
	<category>سیاست</category>
	<pubDate>Fri, 06 Nov 2009 15:42:34 +0000</pubDate>
</item>

<item>
	<title>&apos;یہودیوں سے بچ کے رہنا&apos;</title>
	<description><![CDATA[<p>لبنان میں چار ماہ گذارنے کے بعد میں بیروت سے یروشلم کے سفر پہ نکلا ہوں۔ اسرائیل اس خطے کا سب سے بڑا وِلن تصور کیا جاتا ہے اور مشرقِ وسطیٰ  کی رپورٹنگ میں اس ولِن کے کلیدی کردار کو جاننا اور سمجھنا میری پیشہ وارنہ ضرورت رہی ہے اور دلی آرزو بھی۔</p>]]><![CDATA[<p>مسئلہ یہ ہے کہ لبنان سے آپ سیدھے اسرائیل نہیں جا سکتے کیونکہ دونوں ملک ایک دوسرے کو دشمن تصور کرتے ہیں۔ اس لیے اسرائیل جانے کے لیے مجھے پہلے اردن کے دارالحکومت عمان آنا پڑا ہے۔ یہاں سے آج شام سڑک کے راستے شاہ حسین پُل سے اسرائیلی سرحد عبور کرنے کا ارادہ ہے۔</p>

<p>پاکستان میں کل ایک خیر خواہ کو اپنی اس اسرائیل یاترا  کے بارے میں بتایا تو اس کا مشورہ یہ تھا: 'کچھ بھی ہو، بس یہودیوں سے بچ کر رہنا۔ یہ لوگ کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے۔' بھلا ایسا ہو سکتا ہے کہ بندہ اسرائیل جائے اور یہودیوں سے بچ کے رہے؟ بلکہ میں تو جا ہی اس لیے رہا ہوں کہ ان سے گپ شپ میں شاید اس 'صیہونی سازش'  کے بارے میں کچھ پتہ لگ جائے جس کے بارے میں ہم سنتے تو بہت کچھ آئے ہیں پر کبھی کر کچھ نہیں سکے۔ </p>

<p>لیکن میں ذہنی طور پر اس مشکل سفر کے لیے تیار ہوں۔ یروشلم میں بی بی سی کے ساتھیوں نے پہلے سے خبردار کر رکھا ہے کہ چونکہ میرے تانے بانے پاکستان سے ملتے ہیں اس لیے اسرائیلی حکام کے الٹے سیدھے تفتیشی سوالات کے لیے تیار رہوں۔'وہ شاید آپ کا مذاق اڑائیں اور طیش دلانے کی بھی کوشش کریں۔ لیکن کچھ بھی ہو جائے ٹھنڈے رہنا اور فالتو کی کسی بحث میں مت الجھنا۔' اگر واقعی ایسا سلوک ہوا تو پیشہ وارانہ زندگی میں میرے ساتھ ایسا پہلی بار نہیں ہوگا۔ </p>

<p>اسرائیل اندر سے کیسا ہے؟ وہاں کے لوگ کیا سوچتے ہیں؟ اگر آپ کے ذہن میں بھی ایسے سوال ہوں یا کوئی تبصرہ یا مشورہ ہو تو بلاتکلف لکھ بھیجیں اور میں آنے والے دنوں میں آپ کو اس بلاگ کے ذریعے آگاہ کرتا رہوں گا۔</p>]]></description>
         <dc:creator>شاہ زیب جیلانی </dc:creator>
	<link>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/11/post_530.html</link>
	<guid>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/11/post_530.html</guid>
	<category>پردیسی</category>
	<pubDate>Thu, 05 Nov 2009 17:19:35 +0000</pubDate>
</item>

<item>
	<title>سوچ رہا ہے پاکستان</title>
	<description><![CDATA[<p>انٹرنیٹ پر ایک نظم ملی ہے جو آپ کے لیے تھوڑے سے تصرف کے ساتھ۔۔۔</p>]]><![CDATA[<p>سوچ رہا ہے پاکستان<br />
نہ کوئی دھندا نہ کوئی کام<br />
بم دھماکے، ٹریفک جام<br />
جیتا مرتا ہے گمنام<br />
ہو سکے نہ دونوں رام<br />
طالبان، القاعدہ ادغام<br />
مدرسے بند، تعلیم ابہام<br />
این آر او صیاد کا دام<br />
ساری تدبیریں ناکام<br />
دنیا بھر میں پھر بدنام<br />
ہوگا اس کا  کیا انجام؟<br />
سوچ رہا ہے پاکستان<br />
</p>]]></description>
         <dc:creator>ہارون رشید </dc:creator>
	<link>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/11/post_529.html</link>
	<guid>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/11/post_529.html</guid>
	<category>نظم</category>
	<pubDate>Thu, 05 Nov 2009 12:14:41 +0000</pubDate>
</item>


</channel>
</rss>

