<?xml version="1.0" encoding="utf-8"?>
<rss version="2.0">
   <channel>
      <title>BBC Urdu</title>
      <link>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/</link>
      <description>بی بی سی اردو بلاگ</description>
      <language>ur</language>
      <copyright>Copyright 2009</copyright>
      <lastBuildDate>Sat, 26 Sep 2009 16:04:39 +0000</lastBuildDate>
      <generator>http://www.sixapart.com/movabletype/?v=4.1</generator>
      <docs>http://blogs.law.harvard.edu/tech/rss</docs> 

      
      <item>
         <title>&apos;فسانۂ جنگِ یورپ&apos;</title>
         <description><![CDATA[<p><span class="mt-enclosure mt-enclosure-image" style="display: inline;"><img alt="subamrine_226.jpg" src="http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/subamrine_226.jpg" width="226" height="170" class="mt-image-none" style="" /></span><br />
لندن کی برٹش لائبریری کے کروڑوں مسودوں میں ایک بوسیدہ سی جلد بھی محفوظ ہے جس میں ہندوستان میں پہلی جنگ عظیم کے دوران شائع ہونے والے اردو زبان کے چند کتابچے موجود ہیں۔</p>]]>
        <![CDATA[<p>ان میں ایک کتابچہ 'فسانۂ جنگ یورپ' بِشن سہائے آزاد اور پیارے موہن کی تصنیف ہے اور 'حقیقتِ جنگ'  واعظ لال جوئیل کی۔ ان کتابچوں میں ہندوستان کے ایک طبقے کے نمائندگی کی گئی ہے جو یورپ کی کامیابیوں سے متاثر تھے لیکن صنعتی انقلاب کے بعد پہلی عالمی جنگ میں ہونے والی تباہی نے انہیں شدید مایوسی کا شکار کر دیا۔</p>

<p>بیسویں صدی کے آغاز پر جنگ کے دنوں میں واعظ لال جوئیل لکھتے ہیں کہ ہمیں فخر تھا کہ اخلاقیات اس معیار پر پہنچ گئی ہے کہ اب دنیا میں خونریزی ممکن نہیں اور آئندہ جدید سوچ اور فلسفہ قوموں کے درمیان ایسا تعلق قائم کرے گا کہ قیمتی انسانی خون دوبارہ کبھی نہیں بہایا جائے گا۔</p>

<p>جوئیل لکھتے ہیں کہ کسے معلوم تھا کہ اسی یورپ میں جو قوموں کا رہنما تھا ایسا طبل جنگ بجے گا کہ سننے والے کانپ اٹھیں گے اور یہ ہر کسی کو دہشت زدہ کر دے گا۔ </p>

<p>'فسانۂ جنگ یورپ' کے مصنفین نے کہا کہ یورپ کی مثال اس مور کی سی ہے جو اپنے حسن کے نشے میں ناچ رہا ہے لیکن جیسے ہی اس کی نظر اپنے پیروں پر پڑتی ہے اس کی آنکھیں بھر آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپ جتنی بھی ترقی کر لے جب تک سورج طلوع و غروب ہو رہا ہے یہ جنگ اس کی تاریخ میں ایک بد نما داغ ہے۔ </p>

<p>انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ کیا تباہی لاتی ہے یہ لعنت ختم نہیں ہو سکی۔ پھر خود ہی کہا کہ اس کا سیدھا سا جواب ہے۔ 'دنیا کی تمام بڑی قومیں مہذب تو ہو رہی ہیں لیکن درندگی ختم کرنے میں وقت لگتا ہے۔</p>

<p>'انسانوں کو مکمل طور پر مہذب ہونے کے لیے طویل وقت درکار ہے۔' انہوں نے کہا کہ انسانوں کو یہ باور کروانے کے لیے اور بھی زیادہ وقت چاہیے کہ ان کے خیالات اور احساسات کے بدلنے کے ساتھ ان کے اعمال میں بھی تبدیلی ضروری ہے۔</p>

<p>مصنفین کے یورپ اور مغرب کے خلاف مقدمے کی بنیاد جرمنی کے ساتھ اختلافات پر امن طریقے سے حل کرنے کی ناکامی تھی۔</p>

<p>المختصرا ان کا کہنا تھا کہ تاریخ میں جب بھی جنگ ہوئی ہے فریقین نے اپنے آپ کو حق پر سمجھا، اتنا ہی حق پر جتنا یورپ میں ممالک جرمنی کے خلاف جنگ کرنے میں اپنے آپ کو حق پر سمجھ رہے تھے۔ تہذیب کی چھلانگ یہ ہوتی کہ معاملات بغیر جنگ کے حل ہو جاتے۔</p>

<p>ان مصنفین کو اپنی باتیں کہے ایک عرصہ بیت چکا ہے۔ اب اکیسویں صدی کا آغاز ہے۔ لیکن جنگی حکمت عملی بین الاقوامی تعلقات کا ابھی بھی اہم جزو ہے، بلکہ اب اس میں مشرق بھی برابر کا شریک ہے۔ بڑی طاقتیں معاملات کے حل کے لیے ہیبت(shock and awe) کا سہارا لیتی ہیں۔</p>

<p>دنیا بھر میں اسلحے کی دوڑ جاری ہے۔ ایسے میں جوہری اسلحہ کا پھیلاؤ روکنے اور تخفیف اسلحہ کے لیے قراردادیں مہذب سوچ کا ثبوت ہیں اور ان کے بعد اب امید کرنی چاہیے کہ انسان 'درندگی' سے بھی جلد نجات پا لے گا۔ یہ  سمجھنے میں کتنی دیر اور لگ سکتی ہے کہ مہذب نظریات مہذب عمل کے بغیر بے معنی ہیں۔ <br />
</p>]]></description>
         <link>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/09/post_507.html</link>
         <guid>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/09/post_507.html</guid>
         <category>آس پاس</category>
         <pubDate>Sat, 26 Sep 2009 16:04:39 +0000</pubDate>
      </item>
      
      <item>
         <title>دوسرے کی مان لو۔۔۔</title>
         <description><![CDATA[<p>حکومت پاکستان نے امریکی ڈرون حملوں کے خلاف بار بار احتجاج کی بےاثری کو دیکھتے ہوئے اب اس بابت ان سے بظاہر تعاون شروع کر دیا ہے۔</p>]]>
        <![CDATA[<p>ملکی خودمختاری کے احترام کا جملہ آخری مرتبہ کس وزیر کے منہ سے سنا گیا کسی کو یاد ہے؟</p>

<p>اپنے تحقیقاتی اداروں پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے، ماضی کی ایک حکومت نے سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے قتل کی پہلے سکاٹ لینڈ یارڈ اور اب موجودہ حکومت نے اقوام متحدہ کے ماہرین کی مدد سے تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔ عوامی پیسے کے زیاں کے علاوہ ان اقدامات سے کیا حاصل ہوا؟ نہ تو قاتل ملا اور نہ شاید آگے چل کر کبھی سامنے آ پائے۔</p>

<p>مالاکنڈ میں شدت پسندوں کے خلاف تین ماہ کی قدرے کامیاب کارروائی کے بعد اب حکومت نجی لشکروں کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ بچا کھچہ کام اب ان لشکروں کی ذمہ داری ٹھہری۔ </p>

<p>وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے 'چینی مافیا' کو سدھارنے کی بجائے خود ہتھیار ڈالتے ہوئے اپنے ہاں میٹھی ڈشوں کی تیاری پر پابندی عائد کر دی۔ خود لاکھوں ایکڑ اراضی زیر کاشت لانے میں ناکامی کے بعد اسے امیر خلیج ممالک کو لیز کی جا رہا ہے۔</p>

<p> سرحد کی حکومت نے مسجد قاسم علی خان کے علماء کی طرف سے غیرسرکاری رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس منعقد نہ کرنے پر ناکامی کے بعد خود ہتھیار ڈالتے ہوئے عید الفطر انہیں کے حکم کی تابعداری میں منانے کا اعلان کر دیا۔ </p>

<p> یہ ہے آج کل کا انداز حکمرانی۔ جہاں اپنی نہ چلے وہاں بہتری اسی میں ہے کہ دوسرے کی مان لو۔ </p>]]></description>
         <link>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/09/post_506.html</link>
         <guid>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/09/post_506.html</guid>
         <category>پاکستان</category>
         <pubDate>Fri, 25 Sep 2009 12:29:23 +0000</pubDate>
      </item>
      
      <item>
         <title>زرداری کی &apos;لاٹری&apos;</title>
         <description><![CDATA[<p>'پاکستان میں کئی لوگ زرداری سے ایسے جلتے ہیں جیسے یہاں امریکہ میں لوگ اس لاطینی امریکی تارک وطن سے حاسد ہیں جس کی حال ہی میں تین سو تیس ملین ڈالر  کی لاٹری نکل آئی ہے۔' زرداری سے نفرت - محبت کے ملے جلے خیالات رکھنے والے میرے ایک دوست نے مجھ سے کہا۔</p>]]>
        <![CDATA[<p>مجھے میرے دوست کا پاکستان کے حالات و حادثات کے پروردہ صدر زرداری کا موازنہ امریکہ میں ایک ایسے شخص سے کرنا جس کی اتنی بڑی لاٹری نکل آئی ہو اچھا  لگا۔ </p>

<p>مجھے پاکستانی ٹرکوں، بسوں اور رکشوں پر لکھا ہوا یہ بھی اچھا لگا  'محنت کر حسد نہ کر۔' میں نے سوچا اس شخص نے کتنی محنت کی ہے۔ جارج بش سینئر کے دنوں میں وائٹ ہاؤس کے لان پر سر پر بلوچی پگڑ سجائے پاکستان میں تاریکیوں کے اس گمنام شہزادے  کا دنیا کی پریس فوٹو گرافروں کی چکا چوند کیمروں  کی توجہ اپنی طرف متوجہ کروا  کر ٹائم میگزین کے سرورق پر آنے سے لے کر وائٹ ہاؤس کے لان پر اپنے امریکی ہم منصب کے ساتھ فوٹو کھنچوانے کے سیشن کتنی محنت کا کام ہے۔ اور اس 'کمرشل وقفے' میں  کراچی سینٹرل جیل اور وزیر اعظم ہاؤس کے درمیاں جو 'راہ میں اجل تھی' اس کی بات ہم اس لیے بھی نہیں کرتے کہ وہ ان کی ذہین بیوی کے حصے میں آئی۔ کسی کو تخت ملا اور کسی کو تختہ۔ 'نصیب اپنا اپنا۔' </p>

<p>ٹرکوں پر عجیب غریب چیزیں لکھی ہوتی ہیں۔ </p>]]></description>
         <link>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/09/post_504.html</link>
         <guid>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/09/post_504.html</guid>
         <category>پاکستان</category>
         <pubDate>Tue, 22 Sep 2009 15:24:42 +0000</pubDate>
      </item>
      
      <item>
         <title>&apos; دو ملاؤں میں مرغی حرام&apos;</title>
         <description><![CDATA[<p>جس زمانے میں سیاستدانوں، جرنیلوں اور فلمی ستاروں کے ساتھ ساتھ مولوی حضرات کا مذاق اڑانے کی اجازت تھی اس زمانے میں یہ مقولہ عام تھا کہ دو ملاؤں میں مرغی حرام۔<span class="mt-enclosure mt-enclosure-image" style="display: inline;"><img alt="blo_hanif_moon_150.jpg" src="http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/blo_hanif_moon_150.jpg" width="150" height="150" class="mt-image-none" style="" /></span></p>]]>
        <![CDATA[<p>رمضان شریف کے دوران جب آٹے، چینی اور پکوڑوں کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں کے بارے میں خبریں سن سن کر لوگ تھک جاتے ہیں تو ایک بار پھر آسمان کی طرف دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ ہمارے وہ علماء حضرات جو رویت ہلال کمیٹی میں شامل ہیں انہیں عید کا چاند نظر آئے گا یا نہیں۔ صوبہ سرحد میں عید ایک دن پہلے ہوگی یا نہیں۔ نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر تک خواب دیکھنے والے یہ مرثیہ پڑھتے نظر آتے ہیں کہ دنیا کے تمام مسلمان ایک دن عید کیوں نہیں منا سکتے؟</p>

<p>بچپن سے ہم لوگ یہ منظر دیکھتے آئے ہیں کہ علماء حضرات کا ایک جتھا  کبھی حبیب بینک پلازا  کی بلڈنگ پر اور کبھی واپڈا ہاؤس کی چھت پر چڑھ کر آسمان کی طرف یوں دیکھتا ہے جیسے ان کا کچھ کھوگیا ہو۔ اگر ان حضرات میں سے کوئی آپ کو سڑک کے کنارے کھڑا نظر آئے تو آپ انہیں نابینا سمجھ کر سڑک پار کروانے کی پیشکش کریں گے۔ ان سب کو اکٹھے دیکھ کر لگتا ہے کہ اگر چاند ان کے اوپر بھی آکر گرے تو شاید نہ پہچان پائیں۔</p>

<p>اس تمام معاملے میں صرف پشاور والے مولوی حضرات اپنی من مانی کرتے ہیں، روزہ بھی ایک دن پہلے رکھتے ہیں اور رویت ہلال کمیٹی کو منہ چڑا  کر عید بھی پہلے مناتے ہیں۔ لیکن اس دفعہ ان مولانا حضرات نے یہ تجویز دی ہے کہ پورے پاکستان کو عید مکے والوں کے ساتھ مل کر منانی چاہیے اور ساتھ یہ بھی کہہ ڈالا کہ اس طرح رویت ہلال کمیٹی کی بھی ضرورت نہیں رہے گی۔</p>

<p>صوبہ سرحد میں اے این پی کی حکومت نے بھی ان کی حمایت کر ڈالی (اگلا مطالبہ غالباً یہ ہوگا کہ اگر صوبہ سرحد کا نام پختونخواہ رکھنے پر اتفاق نہیں ہوسکتا تو اس کا نام صوبہ یثرب رکھ دیا جائے)۔</p>

<p>بہرحال آٹے کی لائن میں لگے لاٹھیاں کھاتے عورتوں اور بچوں کی تصویریں دکھا دکھا کر تھک جانے والے نیوز چینلوں کو ایک ہلکا پھلکا موضوع ہاتھ آگیا۔ کیا چاند ننگی آنکھ سے دیکھنا فرض ہے؟  کیا چاند کے حساب سے کیلنڈر بن سکتا ہے؟ قرون اولیٰ  کے مسلمان عید کا فیصلہ کیسے کرتے تھے؟ ایسے موضوعات ٹی وی پر زیر بحث آتے ہیں تو لگتا ہے روزہ دار میزبان ثواب بھی حاصل کر رہے ہیں اور مزہ بھی لے رہے ہیں۔</p>

<p>ایسے میں میں نے حضرت مولانا منیب الرحمٰن کو ایک ٹی وی پروگرام میں چراغ پا ہوتے دیکھا۔ جو نہیں جانتے انہیں بتاتا چلوں کہ حضرت نہ صرف رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین ہیں بلکہ خودکش حملوں سے لے کر میرا  کی شادی تک ہر اس مسئلے پر فتویٰ دینے کے لیے تیار رہتے ہیں جو امت مسلمہ کو درپیش ہو۔</p>

<p>حضرت نے فرمایا کہ چونکہ مکے کے ساتھ عید منانے اور رویت ہلال کمیٹی کو ختم کرنے کا فتنہ پشاور کی مسجد قاسم خان سے شروع ہوا ہے اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ اس کے خلاف کارروائی کرے۔ پھر انہوں نے حکومت کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا کہ جس طرح اس نے صوبہ سرحد میں شر پسندوں کے خلاف کارروائی کی ہے اسی طرح مسجد قاسم خان والوں کے خلاف بھی کارروائی کرے۔</p>

<p>تو ہمارے سپہ سالار جنرل کیانی صاحب اپنی ڈائری میں نوٹ کرلیں کہ جب وہ مالاکنڈ اور وزیرستان کے فوجی آپریشنوں سے فارغ ہو جائیں تو مسجد قاسم خان پر توجہ دیں جہاں کچھ لوگ مفتی منیب الرحمان کی نوکری کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہوئے ہیں۔</p>]]></description>
         <link>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/09/post_503.html</link>
         <guid>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/09/post_503.html</guid>
         <category>پاکستان</category>
         <pubDate>Fri, 18 Sep 2009 15:56:25 +0000</pubDate>
      </item>
      
      <item>
         <title>عید مبارک</title>
         <description><![CDATA[<p>کیا واقعی یہ ممکن ہو سکے گا کہ ایک ہی ملک یا ایک ہی شہر کے مسلمان ساتھ عید منا سکیں گے؟</p>]]>
        <![CDATA[<p>کاش ایسا ہیں ہو۔ مجھے تو ہر سال یہی افسوس ہوتا ہے کہ ہم لوگ اتنی بےوقوی کی باریکیوں پر توجہ مرکوز کر کے اجمتماعی فائدے کو بھلا دیتے ہیں۔</p>

<p>سائنس نے بڑی ترقی کر لی ہے۔ چاند کی موجودگی کا پتہ ہم سائنسی آلات اور حساب سے لگا سکتے ہیں، یہ ضروری نہیں کہ اس کی شہادت کے لیے مخصوص مولوی حضرات اسے آسمان میں تلاش کر رہے ہوں۔ </p>

<p>لیکن ظاہر ہے کہ اگر ہم نے اس طرح کے سائنسی طریقہ کار کو آزما لیا تو ان ہی حضرات کا رعب و اثر کچھ کم ہو جائے گا، اور ظاہر ہے کہ یہ اس کے حق میں نہیں ہوں گے۔</p>

<p>عید خوشی کا موقع ہے، ہم سب کو ساتھ مل کر یہ خوشی منانی چاہیے، اور ہمیں (سائنس کے ذریعے) اس کی تاریخ بھی پہلے سے پتہ ہونی چاہیے۔ </p>

<p>اگر ہم حج کی تاریخ سعودی عرب سے ملا کر چلتے ہیں تو ہمارے سال کی ساری تاریخیں وہیں ہونی چاہئیں۔ </p>

<p>ترکی نے عقل مندی سے یہ سارا عمل سنبھال رکھا ہے۔ اول تو وہاں رمضان اور عید کی تاریخیں پہلے سے طے ہوتی ہیں۔ دوسرا یہ ہے کہ ترکی میں عید کے لیے تین دن کی نہیں بلکہ پورے ہفتے کی چھٹی ہوتی ہے۔</p>

<p>ہر سال عید کی تاریخ کا معاملہ تھوڑا سا تلخ ہوتا ہے کہ کسی اور شہر یا صوبے میں عید نہیں ہے، یا پڑوس میں کسی شخض کا ابھی بھی روزہ ہے۔ </p>

<p>لیکن اگر اس سال پورے پاکستان میں ایک ہی دن عید منائی جا سکی تو یہ واقعی ایک میٹھی عید ہوگی۔</p>

<p>عید مبارک</p>]]></description>
         <link>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/09/post_502.html</link>
         <guid>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/09/post_502.html</guid>
         <category>پاکستان</category>
         <pubDate>Fri, 18 Sep 2009 12:50:46 +0000</pubDate>
      </item>
      
      <item>
         <title>صدائے زنجیر آتی رہی۔۔۔</title>
         <description><![CDATA[<p>دیہاتی اور قصباتی بخوبی جانتے ہیں کہ بھینسیں پالنے والے بھینسیں کیسے پالتے ہیں۔</p>]]>
        <![CDATA[<p>دوپہر کو مالک کا لڑکا ان بھینسوں کو نہر یا جوہڑ پر لے جا کر نہلاتا ہے۔ بھینسیس خوشی خوشی سہہ پہر تک خوب نہا دھو کر مالشی چمک لیے باڑے میں واپس آتی ہیں، جہاں چارہ اور بنولے کی کھلی ان کے لیے سجا دی جاتی ہے۔ بھینسیں اس 'ہائی ٹی' سے لطف اندوز ہوتی رہتی ہیں۔ اس دوران ان کے تھن دوہنے کے لیے جست کی بالٹیاں دھونے کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ شام ڈھلنے سے پہلے دودھ دوہنے کا سلسلہ مکمل ہو جاتا ہے۔ اس دوران نوزائیدہ بچھڑوں کے پوٹے بھی دودھ سے تر ہو چکے ہوتے ہیں۔</p>

<p>اب ہر شے کو اندھیرے نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ مالک کے گھر جانے اور بھینسوں کو باڑھے میں پھونس کی چھت تلے باندھنے کا سمے آگیا ہے۔ مالک ایک بھاری زنجیر نکالتا ہے جس کی آواز سے بھینسوں کو پتہ چل جاتا ہے کہ اب انہیں فجر تک پا بجولاں رہنا ہے۔ لیکن زنجیر اتنی بڑی تو نہیں ہوتی کہ مالک پندرہ بھینسوں کے پاؤں میں ڈال سکے۔ مالک اس زنجیر کو چار کے پاؤں میں ڈال دیتا ہے اور باقی گیارہ بھینسوں کے گھٹنے اپنے ہاتھ سے زور سے دباتا ہوا رخصت ہوجاتا ہے۔ یہ گیارہ بھینسیں یہی سمجھتی ہیں کہ انکے پاؤں میں بھی زنجیر ڈلی ہوئی ہے اور اب وہ صبح ہی آزاد ہوں گی۔</p>

<p> آمریت کا بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ہر مارشل لا چند سو لوگوں کے پاؤں میں زنجیر ڈال دیتا ہے۔ مگر پوری قوم سمجھتی ہے جیسے وہ بھی بندھ گئی ہے۔ یکے بعد دیگرے آمرانہ ادوار کے سبب قوم کی یہ سوچ اتنی پختہ ہو جاتی ہے کہ دورِ جمہوریت میں بھی اسے اپنے پیروں سے صدائے زنجیر آتی رہتی ہے۔ یوں آرٹیکل سکس ہوتے ہوئے بھی نظر نہیں آتا۔</p>

<p>جبر سے پیدا خوئے غلامی انسان اور بھینس کو ایک سطح پر لے آتی ہے!</p>]]></description>
         <link>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/09/post_501.html</link>
         <guid>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/09/post_501.html</guid>
         <category>پاکستان</category>
         <pubDate>Thu, 17 Sep 2009 12:21:22 +0000</pubDate>
      </item>
      
      <item>
         <title>کیا مشرف اتنے سادہ ہیں؟</title>
         <description><![CDATA[<p>سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ برطانوی ویزے میں توسیع کی امید نہیں ہے۔ اسی لیے وہ شاید آج کل ایسے بیانات دے رہے ہیں جن سے ان کے ویزے میں توسیع یقینی ہو جائے۔ </p>]]>
        <![CDATA[<p>ویسے جس ملک کی ضمانت پر وہ لندن گئے ہوں وہاں انہیں ایسا کوئی مسئلہ تو نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم لارڈ نذیر کا برطانوی حکومت سے مطالبہ کہ وہ ویزے میں توسیع نہ کرے ہی ان کی راہ میں ایک رکاوٹ دکھائی دے رہی ہے۔ </p>

<p> البتہ سابق صدر کی جانب سے یکے بعد دیگرے بیانات سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ پاکستان واپس لوٹنا نہیں چاہتے ورنہ ایسے بیانات نہ دیتے جن سے ان کے اپنے ادارے یعنی فوج کو بھی تکلیف ہو اور ان کے مستقبل قریب میں کم از کم وطن واپسی کا کوئی امکان نہ رہے۔ ان کے ان بیانات سے ان کا لندن میں قیام یقیناً بڑھ سکتا ہے۔ پاکستان میں طالبان اور بڑی تعداد میں سیاستدان تو ان کے مخالف تھے ہی اب فوج کو بھی وہ چڑانے کی کوشش میں جٹے دکھائی دے رہے ہیں۔ </p>

<p>پہلے انہوں نے ایک بیان میں اعتراف کیا کہ جمہوری حکومتوں کو چلتا کرنے، مارشل لاء نافذ کرنے اور آئین کو معطل کرنے یعنی تمام غیر آئینی اقدامات میں انہیں فوج کی مکمل حمایت حاصل تھی، تمام کور کمانڈرز ان کے ساتھ تھے۔۔۔ اور اب یہ کہ فوج امریکہ یا کسی سے بھی شدت پسندوں کے خلاف استعمال کے لیے ملنے والا اسلحہ بھارت کے خلاف استعمال کر سکتی ہے۔</p>

<p>اگر ویزے میں توسیع نہیں ہوتی تو وہ حفظِ ماتقدم کے طور پر سعودی عرب سے بھی پینگیں برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ </p>

<p>اگرچہ ان کا بیان ایک سابق صدر کا بیان ہے اور اسے پالیسی بیان تو قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن پھر بھی اس کی اہمیت اس سے کم نہیں ہوتی۔ وہ صدر تو محض چھ برس رہے لیکن فوجی تمام پیشہ ورانہ زندگی تھے۔ بعض لوگوں کے مطابق انہوں نے شاید سادگی میں فوج کی 'آپریشنل ڈیٹیلز' عیاں کر دی ہیں۔ لیکن کیا وہ اتنے سادے ہیں؟</p>]]></description>
         <link>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/09/post_500.html</link>
         <guid>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/09/post_500.html</guid>
         <category>پاکستان</category>
         <pubDate>Tue, 15 Sep 2009 12:46:45 +0000</pubDate>
      </item>
      
      <item>
         <title>وائسرائے گلگت بلتستان</title>
         <description><![CDATA[<p>اکیسویں صدی کے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بھی گلگت بلتستان وہ علاقے ہیں جہاں کے بالغ عوام کو حق رائے دہی یعنی ووٹ کا بھی حق حاصل نہیں۔</p>]]>
        <![CDATA[<p>ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ گلگت و بلتستان اور اسکے ملحقہ علاقوں پر حق گلگتی و بلتی لوگوں کا مانتے ہوئے انہیں بالغ رائے دہی کا حق ملنا چاہیے تھا لیکن اسلام آباد نے ان پر ایک وائسرائے گورنر کی شکل میں نازل کر دیا۔ اسی لیے تو گلگت و بلتستان کی ایک سینئر سیاستدان کہتی ہیں 'ہم گلگت و بلتستان کے لوگ اب تک (حکمرانوں کی نظر میں) نابالغ ہیں کہ انہیں ووٹ کا بھی حق حاصل نہیں۔' </p>

<p>گلگت وبلتستان میں 'سیلف رول' کے نام پر اسلام آباد یا 'مضبوط مرکز' نے جو گورنر مقرر کیا ہے وہ بھی غیر بلتی یا غیر گلگتی لیکن صدر آصف علی زرداری کے دوست قمر زمان کائرہ ہیں۔ بالکل ایسے جیسے 'نیٹیِو' ہندوستانیوں پر ایسٹ انڈیا کمپنی اپنے گماشتے بھیجا کرتی تھی۔</p>

<p>سندھ پر مقامی گورنر عشرت العباد، پنجاب پر مقامی پنجابی سلمان تاثیر، بلوچستان پر بلوچ نواب ذوالفقار مگسی، صوبہ سرحد یا پختونخواہ پر اویس غنی لیکن بلتستان و گلگت پر گونر گوجر خان! یاروں کے یار صدر کی یار نوازی کی ایک اور عظیم مثال۔</p>

<p>گلگت و بلتستان اور شمالی علاقہ جات کو پاکستان کے اعلی سول و فوجی حکام یا جنریلوں نے اپنے لیے پولو کے میدان سے زیادہ اہمیت نہیں دی۔ یہ اور بات ہے کہ گلگت و بلتستان کے لوگوں نے پاکستان کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔۔۔ بقول شاعر:</p>

<p>'ہم جیئے بھی دنیا میں اور جان بھی دے دی</p>

<p>مگر یہ نہ کھل سکا آّپ کی خوشی کیا تھی۔۔۔' </p>

<p> آگر کسی نے محاورتاً نہیں حقیقتاً گھاس کھا کر بھی پاکستان کے لیے دنیا کے برفانی چھت والے حصے یعنی سیاچن (جہاں بقول ڈکٹیٹر ضیاء گھاس بھی نہیں اگتی تھی) کی حفاظت کی تھی تو وہ گلگت و بلتستان کے نوجوان تھے۔ اس کے جواب میں گلگت و بلتستان کا کوئی فوجی برگیڈئير کے عہدے سے شاید ہی آگے بڑھا ہو (اگر بڑھتا بھی تو کیا کرتا!)۔ یہ کشمیر کے کیس میں گروی رکھے لوگ ہیں۔۔۔  </p>

<p>'سیلف رول' کے تصور سے اس  سے زیادہ بھونڈا مذاق کیا ہوگا کہ گلگت و بلتستان پر پہلے اسلام آباد سے وفاقی وزیر وائسرائے کی طرح حکومت کرتا تھا اور اب وہ اسلام آباد کے 'کیمپ آفس' سے ہی اپنے اس غیر حاضر زمیندارے کو دیکھا کریں گے۔۔۔ </p>]]></description>
         <link>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/09/post_499.html</link>
         <guid>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/09/post_499.html</guid>
         <category></category>
         <pubDate>Mon, 14 Sep 2009 10:59:29 +0000</pubDate>
      </item>
      
      <item>
         <title>&apos;جمہوریت پر حملے&apos;</title>
         <description><![CDATA[<p>فوج نے ایک منتخب عوامی حکومت کا تختہ ایسے الٹا  کہ تینوں افواج نے اپنے ہی ملک پر پیش قدمی کی۔ جنگی طیاروں نے ایوان صدر پر بمباری کی۔ دارالحکومت میں  ٹینک چلائے اور ملک کی اہم بندر گاہ پر قبضہ کر لیا۔</p>]]>
        <![CDATA[<p>صدر نے فوجی طیارے کے ذریعے ملک چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ کچھ گھنٹوں بعد اس ہی صدر کی لاش ایوان صدر سے نکالی گئی اور پھر یہ لاش ایک بے نام قبر میں دفنائی گئی۔</p>

<p>پھر سترہ سال تک فوج نے ملک پر حکمرانی کی اور اپنے 'دشمنوں'  کے خلاف ایسی کارروائی کی کہ ہزاروں افراد لاپتہ ہوئے، تشدد کا نشانہ بنے اور ہلاک کیے گئے۔ <br />
 <br />
<a href="http://www.bbc.co.uk/dna/h2g2/A716591">گیارہ ستمبر انیس سو تہتر</a> کو چِلی میں صدر سالوادور ائیندے کی جمہوری حکومت کی اس لیے چھٹی کر دی گئی کہ وہ ایک 'مارکسِسٹ' حکومت تھی جسے 'آزاد ممالک' سرد جنگ کے زمانے میں ایک خطرہ تصور کرتے تھے۔ فوج کی اس کارروائی کو امریکہ اور برطانیہ کی پوری حمایت حاصل تھی۔</p>

<p>'جمہوری' اور 'آزادی پسند' ملکوں نے چِلی اور اس کے پڑوسی ملک آرجنٹینا میں اپنی خونی سیاست کھیل کر ان کو ایک صدی پیچھے دھکیل دیا۔ وہ اب بڑی مشکل سے اپنے جمہوری اور عدالتی نظام کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وہاں بھی بہت سے ایسے مسائل ہیں جو جنرل ضیا  کے گیارہ سالہ دور کے بعد پاکستان میں ہیں۔ </p>

<p>ظاہر ہے کہ اقتدار میں اتنے دن رہ کر آپ اپنے حامیوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں، ان کے مفادات کو اپنے سیاسی مفادات سے ملاتے ہیں۔ پھر فوجی ڈکٹیٹرشپ کے بعد ملک میں 'رائٹ وِنگ' طاقت بڑھتی ہے۔</p>

<p>اب پاکستان میں حالات کو دیکھ کر ایسا ہی محسوس ہوتا ہے جیسے  جمہوریت اور ڈکٹیٹرشپ کی جنگ میں ڈکٹیٹرز کا پلڑا بھاری ہے۔ جنرل ضیا نے وراثت میں ہمیں جہادی اسلام، نفرتیں، امتیازی قوانین اور بہت سارے دولت مند فوجی دیے۔ اپنی اولاد کو بھی (اپنے ساتھیوں کی سرپرستی میں) وہ  سیاسی میدان میں چھوڑ گئے۔</p>

<p>پاکستان بھی اس جدوجہد میں مصروف ہے جس میں چِلی مصروف ہے۔ جمہوری نظام اور سوچ کو مستحکم کرنا اور عدلیہ اور پولیس کو مضبوط بنانا۔ لیکن صورتحال کو اتنا خراب کرنے کے (بڑی حد تک) ذمہ دار مغرب کے 'جمہوری' ملک اس کوشش میں کتنا ساتھ دیں گے وہ تو دیکھا جائے گا۔<br />
غنیمت تو یہ ہے کہ اب گیارہ ستمبر کی دونوں وارداتوں، یعنی امریکہ پر سنہ دو ہزار ایک کے حملے اور چلی میں سنہ تہتر کی فوجی بغاوت کو کئی لوگ ایک ساتھ 'جمہوریت پر حملے' قرار دیتے ہیں۔ لیکن ستم ضریفی یہ ہے کہ ایک حملہ امریکہ نے کروایا تھا اور ایک میں امریکہ نشانہ بنا۔   <br />
</p>]]></description>
         <link>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/09/post_498.html</link>
         <guid>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/09/post_498.html</guid>
         <category>آس پاس</category>
         <pubDate>Fri, 11 Sep 2009 12:36:32 +0000</pubDate>
      </item>
      
      <item>
         <title>بلٹ پروف سکیورٹی</title>
         <description><![CDATA[<p>میرا ایک دوست حال ہی میں ایک امریکی غیر سرکاری تنظیم کے ساتھ  کام کرنے عراق گیا ہے۔ اس سے وقتاً فوقتاً بات چیت رہتی ہے۔ اس کے عراق پہنچنے کے کچھ عرصے بعد میں نے اس سے پوچھا  کہ حالات کیسے ہیں۔</p>]]>
        <![CDATA[<p>اس کا کہنا تھا کہ حالات یہ ہیں کہ جگہ جگہ ناکے لگے ہوئے ہیں جہاں سخت چیکنگ ہو رہی ہوتی ہے۔ جہاں بھی جانا ہو کمانڈوز ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔ وہ سفر بلٹ پروف مرسیڈیز کار میں کرتے ہیں اور ان بلٹ پروف گاڑیوں میں بھی ان کو یہ احکامات دیے گئے ہیں کہ بلٹ پروف جیکٹ پہن کر بیٹھنا ہے۔ </p>

<p>میرے دوست کے مطابق وہ ایک رہائشی کمپاؤنڈ میں اس تنظیم کے دیگر اہلکاروں کے ہمراہ رہتے ہیں۔ اسی کمپاؤنڈ میں چند دکانیں ہیں اور انہی دکانوں سے خریداری کرنی ہوتی ہے کیونکہ اس رہائشی کمپاؤنڈ سے باہر بازار میں جانے کی اجازت ایک ہفتے میں ایک ہی بار ہوتی ہے اور وہ بھی دس سے پندرہ منٹ کے لیے اور پھر واپس کمپاؤنڈ میں۔ کمپاؤنڈ سے باہر بازار میں سکیورٹی کے بغیر جانے کی اجازت نہیں ہے۔</p>

<p>پاکستان میں بھی اہم سیاسی شخصیات کے تحفظ کے لیے کئی اقدامات کیے گئے ہیں جن میں ان کی رہائشگاہوں کو جانے والے راستوں کو عام شہریوں کے لیے بند کرنا، حفاظت کے لیے پولیس کمانڈو اور اب وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق وزراء کے لیے بلٹ پروف گاڑیاں منگوائی جائیں گی۔</p>

<p>دیکھنا یہ ہے کہ بلٹ پروف جیکٹس کب آتی ہیں؟<br />
</p>]]></description>
         <link>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/09/post_497.html</link>
         <guid>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/09/post_497.html</guid>
         <category></category>
         <pubDate>Fri, 11 Sep 2009 11:59:48 +0000</pubDate>
      </item>
      
      <item>
         <title>ایک حالیہ واقعہ اور تیس سال پہلی نظم</title>
         <description><![CDATA[<p>بریگیڈئیر بلاّ جسے کچھ بھنائے ہوئے کالمسٹ بھاگڑ بلا بھی کہنے لگے ہیں ٹی وی شوز کی رونقیں بڑھانے کے بعد، پوری قوم کو آئینہ دکھانے کے بعد یا 170 ملین لوگوں کو دور فٹے منہ کہنے کے بعد آہستہ آہستہ میڈیا سے غائب ہو جائیں گے۔</p>]]>
        <![CDATA[<p>انہوں نے غلطیاں کی ہیں لیکن قوم سے معافی نہیں مانگیں گے کیونکہ اپنے ضمیر کی عدالت میں وہ بےگناہ ہے۔ جس ضمیر کی پرورش خفیہ اداروں کے خفیہ فنڈوں پر ہوئی ہو، جو ضمیر سرکاری ٹارچر سیلوں میں معصوم نوجوانوں کا خون پی کر پلا بڑھا ہو وہ ایسا ہی فیصلہ سنائے گا، اور چونکہ ان کا ضمیر فیصلہ سنا چکا اس لیے کہنے کو کچھ زیادہ نہیں بچا۔ اس لیے کراچی کے ایک نیوز روم میں پیش آنے والا ایک حالیہ واقعہ اور تیس سال پہلے لکھی گئی ایک نظم۔</p>

<p> بالی وڈ کی اصطلاح میں اپنے آپ کو ہر ٹیلیویژن چینل پر 'ایکسپوز' کرنے کے بعد جب بریگیڈئیر بلا کراچی کے ایک بڑے ٹی وی سٹیشن پر پہنچے تو انٹرویو کرنے والے صاحب نے کہا کہ 'بریگیڈئیر صاحب کوئی ایسا انکشاف کر دیں جو آپ نے پہلے نہ کیا ہو۔' بریگیڈئیر بلا نے ایسے صحافیوں کی ایک فہرست سنا دی جو ان کی ایجنسی کے پےرول پر تھے۔ اس فہرست میں پاکستان کے ایک موجودہ سفیر کا نام بھی شامل تھا۔ چینل کے مالک نے ادارتی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ فہرست رکوا دی۔</p>

<p> اگست 1980 میں کرنل امتیاز کے ہاتھوں گرفتاری، اور اس کے بعد عقوبت خانے میں موت کے بعد نذیر عباسی کے بارے میں سندھ ہائی کورٹ کو بتایا گیا، وہاں فہمیدہ ریاض بھی موجود تھیں۔ اے کاش کوئی ٹی وی میزبان بریگیڈئیرامتیاز کو ان کی یہ نظم سناتا۔</p>

<p> ایوان عدالت میں  </p>

<p>پتھرائی ہوئی آنکھیں<br />
پتھرائے ہوئے چہرے<br />
پتھرائی ہوئی سانسیس<br />
چمڑے کی زبانوں پر <br />
پتھرائی ہوئی باتیں </p>

<p>فریاد کٹہرے میں<br />
رو رو کے تڑپتی تھی<br />
قانون کے رکھوالے<br />
کل لے کے گئے جس کو<br />
اب اس کو یہاں لائیں<br />
وہ نعش تو دکھلائیں ۔۔۔</p>

<p> پتھرائے ہوئے چہرے<br />
پتھرائی ہوئی آنکھیں<br />
چمڑے کی زبانوں پر<br />
لچکی ہوئی کچھ باتیں<br />
پتھر کہ جو چکنے تھے<br />
ہاتھوں سے پھسلتے تھے <br />
قانون کے نکتے تھے<br />
کیا لوگ سمجھتے تھے<br />
'سنگیں مجبوری ہے<br />
درخواست ادھوری ہے‛ </p>

<p>پتھرائے ہوئے دلوں میں تو<br />
بس ریت برستی تھی<br />
ہر آنکھ کہ پتھر تھی<br />
اشکوں کو ترستی تھی<br />
یکدم کوئی دل دھڑکا<br />
شعلہ سا کہیں بھڑکا<br />
جب تک کوئی سمجھے<br />
لو پھوٹ بہے دھارے<br />
آوازیں ملیں باہم<br />
اور گونج اٹھے نعرے <br />
معصوم سی جانوں کے <br />
بے تاب جوانوں کے  </p>

<p>کیا شور لہو کا تھا<br />
کیا گونج تھی نعروں میں<br />
ایوان عدالت میں <br />
پتھرائے ہوئے کمرے<br />
دم روک کے سنتے تھے </p>

<p>جب سرخ سلام آیا<br />
مقتول کا نام آیا<br />
گھونسہ سا لگا دل پر<br />
آنکھوں سے لہو پھوٹا<br />
جیتے رہو دل والو<br />
پتھر تو کوئی ٹوٹا<br />
</p>]]></description>
         <link>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/09/post_496.html</link>
         <guid>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/09/post_496.html</guid>
         <category>پاکستان</category>
         <pubDate>Wed, 09 Sep 2009 12:15:19 +0000</pubDate>
      </item>
      
      <item>
         <title>آزادی اور غیر کشمیری بہو</title>
         <description><![CDATA[<p>بھارتی شہر بنگلور میں ساسوں نے خود پر ولن کا لیبل ہٹانے کی جو حال ہی میں مہم شروع کی ہے بیشتر کشمیری ساسیں عنقریب اس مہم میں شامل ہونے کی جدو جہد شروع کرنے والی ہیں۔</p>]]>
        <![CDATA[<p>کشمیری ساسوں کے سامنے ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے بیٹے غیر کشمیری بہوؤں کو لا کر انہیں ایک نئے مخمصے میں ڈال رہے ہیں۔<br />
مسئلہ نہ صرف کشمیری رہن سہن کا ہے بلکہ ایڈجسمنٹ، زبان، پوشاک اور کچھ کچھ سوچ کا بھی۔</p>

<p>غیر کشمیری بہوؤں کو بیاہ کر لانے کی بنیاد آزادی نواز راہنماؤں نے ڈالی اور اب یہ ایک روایت بنتی جا رہی ہے۔</p>

<p>لبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک کی اہلیہ مشعال کے استقبال کے لیے گو کہ پورا سرینگر سڑکوں پر نکل آیا تھا مگر ہر کوئی دوسرے سے دبی آواز میں پوچھ رہا ہے کہ بھارت اور پاکستان سے آزادی کا خواہش مند رہنما شادی کرنے پاکستان کیسے پہنچا۔</p>

<p>اس سے پہلے حریت رہنما عبدالغنی لون کے صاحبزادے سجاد غنی لون نے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے ایک دھڑے کے رہنما امان اللہ خان کی بیٹی سے شادی کی تو حریت کے دوسرے حلقوں میں یہ تاثر ابھرا کہ آزادی کی تحریک کو سبوتاژ کرنے کے ساتھ ساتھ شادیاں کرانے کا کام بھی شاید خفیہ اداروں نے اپنے ذمہ لے لیا ہے۔</p>

<p>میرواعظِ کشمیر مولوی عمر فاروق کی کشمیری نژاد امریکی لڑکی سے شادی کرنے کے بعد حریت کے بعض حلقوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ تحریک کو کمزور کرنے کی کوشش میں خفیہ اداروں نے ان راہنماؤں کو ویزا  کے چنگل میں ایسا قید کیا کہ آزادی کی آوازیں اب خود بخود بند ہو جائیں گی۔<br />
</p>]]></description>
         <link>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/09/post_495.html</link>
         <guid>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/09/post_495.html</guid>
         <category></category>
         <pubDate>Tue, 08 Sep 2009 14:40:08 +0000</pubDate>
      </item>
      
      <item>
         <title>جسونت سنگھ اور جناح پور</title>
         <description><![CDATA[<p>اتنا جسونت سنگھ کی کتاب  سے زمین اور آسمان ایک نہیں ہوئے جتنا جناح پور کے نقشوں والی بات سے دھرتی تانبا بنی ہوئی ہے۔</p>]]>
        <![CDATA[<p>وہ جو کہتے ہیں نہ کہ گالیوں سے بچے پیدا نہیں ہوتے، جتنا گھمسان کا رن جھوٹ اور سچ، تردید وتصدیق، اصرار وانکار جناح پور کی نقشوں والی بات سے اٹھا ہے اس سے ایک جناح پور تو کیا کئی ملک بن جانے تھے۔</p>

<p>ابھی بھارت کے سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ کی بغیر پڑھے کتاب کی جناح کے متعلق سطروں پر پہلے پہل چائے کی پیالیوں میں اٹھا طوفان بحر ہند سے ہوتا ہوا جب بحیرہ عرب پہنچا تو وہ جناح سے جناح پور بن چکا تھا۔</p>

<p>جناح جی کی کتنی بھی جے گائي جائے، دو جمع دو پانچ ہو سکتے ہیں گاندھی جناح نہیں ہو سکتے ہیں اور  نہ ہی جناح گاندھی ہو سکتے ہیں۔ دونوں میں صرف دن رات کا ہی فرق نہیں پر گاندھی کی مارکیٹ اب بھی سلم ڈاگ ملینئیر سے بہت بڑی ہے، جبکہ مرتے وقت جناح کی جیب میں سب سکے کھوٹے تھے۔ باسٹھ برس ہوگئے اور وہ کھوٹے سکے کب کے کھرے ہوگئے۔</p>

<p>بھائي لوگوں کا بس چلے تو اسے جنرل مولانا کامریڈ قائداعظم بھٹو زرداری بنا دیں۔ یعنی کہ جو درگت، بقول میرے دوست پاکستان نے اپنے بنانے والے کی بنائي اس سے مکتی اسے جسونت سنگھ نے آکر دی ہے۔ </p>

<p>لیکن ہندوستان کی طالبان ورزن بی جے پی نے ہندوستان میں ایسے کتاب لکھنے پر اپنی پارٹی کے جسونت سنگھ سے وہی سلوک کیا جو انیس سو پچاس کے عشرے میں پاکستان اور اسکے میڈیا  نے 'آگ کا دریا' جیسا ناول لکھنے پر قرۃ العین حیدر سے کیا تھا۔ </p>

<p>  اب بھی  جھوٹ کے کھڑے گندے پانیوں میں آمریت کی باقیات اقبالی بیانات کی ڈبکیاں لگاتے ہیں اور ان پر سات خون معاف ہو جاتے ہیں۔ پاکستان کے ٹی وی چینل طوفان نوح کی کشتی بنے ہوئے ہیں۔ بنگال میں لاکھوں لوگوں کی نسل کشی، بلوچوں کے تاحال قتل عام، سندھیوں اور پختونوں پر آپریشن کا چرچا ہی نہیں ہوا۔۔۔ اس وقت یہ سورما نما اینکر کہاں تھے جب کراچي میں ڈبل سواری پر نوجوانوں کو موٹر سائیکلوں کے گرم سائلسنر چومنے کو کہا جاتا تھا اور ایس ایچ او اپنے علاقے میں بیس بال کیپ اور کاٹن کا جوڑا نہ پہننے کے اعلانات لاؤڈ سپیکروں پر کرواتے پھرتے تھے۔۔۔ جو کچھ کراچي سمیت سندھ میں ہوا اس سے جناح پور کے نقشے سچے تھے یا جھوٹے اس سے کیا فرق پڑتا ہے!</p>]]></description>
         <link>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/09/post_494.html</link>
         <guid>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/09/post_494.html</guid>
         <category>پاکستان</category>
         <pubDate>Thu, 03 Sep 2009 13:03:46 +0000</pubDate>
      </item>
      
      <item>
         <title>اہلاً و سہلاً مشرفاء!</title>
         <description><![CDATA[<p>جب تاحیات صدر ہِز ایکسیلینسی فیلڈ مارشل الحاج ڈاکٹر عیدی امین اپنی تین بیگمات، درجن سے زائد بچوں، جہاز بھر ذاتی مال و اسباب اور ملازمین کے ہمراہ تین لاکھ کے لگ بھگ لاشیں دفنانے کے بعد ایک بوئنگ طیارے میں سوار ہو کر کمپالا سے طرابلس بھاگے تو دو ہی برس میں میزبان معمر القذافی کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا۔<br />
<span class="mt-enclosure mt-enclosure-image" style="display: inline;"><img alt="blo_wusat_saudi_150.jpg" src="http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/blo_wusat_saudi_150.jpg" width="150" height="150" class="mt-image-none" style="" /></span></p>]]>
        <![CDATA[<p> اس موقع پر شاہ خالد بن عبدالعزیز نے عیدی امین کو سندیسہ بھیجا کہ آپ سعودی عرب کی روایتی میزبانی سے تاحیات لطف اٹھانے کے لیے جدہ میں مختص محل میں سیاسی آلودگی سے پاک زندگی گذار سکتے ہیں۔ عیدی امین نے پچیس برس تک مہمانی کا لطف اٹھایا اور سولہ اگست دو ہزار تین کو جدہ کے کنگ فیصل اسپتال میں جان دے دی۔ مرنے سے ایک ماہ پہلے انکی بیوی مدینہ نے یوگانڈا کے صدر یووری موسوینی سے اپیل کی کہ دادا عیدی امین کو مرنے کے لیے وطن آنے دیا جاوے۔ موسوینی نے لکھا خوش آمدید۔ لیکن آپ کے شوہر کو اترتے ہی اپنے گناہوں کا قوم کو حساب دینا پڑے گا۔ عیدی امین کو دو درجن سوگواروں نے جدہ کے رویس قبرستان میں لے جا کر دفن کر دیا۔</p>

<p>عمر عبداللہ جعفری یمن کی حزبِ اختلاف سنز لیگ پارٹی ( رے) کے قائد ہیں مگر یمنی حکومت کا تختہ الٹنے کے الزامات لگنے کے بعد نوے کے عشرے سے سعودی حکومت کے مہمان ہیں۔</p>

<p>محمد عثمان المرغانی نیشنل ڈیموکریٹک الائنس سوڈان کے صدر ہیں۔ چونکہ صدر عمر البشیر انہیں پسند نہیں کرتے اس لیے محمد عثمان کی میزبانی کا بار بھی سعودی حکومت کو اٹھانا پڑ گیا۔</p>

<p>اپریل دو ہزار سات میں سعودی حکومت نے بیگم خالدہ ضیا کو بھی کرپشن کے مقدمات سے بچانے کے لیے اہلِِ خانہ کے ہمراہ جدہ میں محلاتی رہائش کی پیش کش کی۔ خالدہ نے یہ پیش کش قبول بھی کر لی لیکن عین وقت پر جانے کیا خیال آیا کہ ارادہ ترک کردیا۔</p>

<p> نواز شریف کا قصہ تو آپ کو معلوم ہی ہے، اور اب اہلاً و سہلاً مشرفاء کی اطلاعات بھی گردش میں ہیں۔</p>

<p> کبھی یہ سننے میں نہیں آیا کہ سعودی حکومت نے 'مدینے کو جانے کو جی چاہتا ہے'  کا ورد کرنے والے کسی عام سے غیر ملکی ایرے غیرے کو اپنے ہاں پناہ دی ہو۔ جب دو ہزار تین میں عراق پر امریکہ نے قبضہ کیا تو ہزاروں اجڑے عراقیوں نے ہمسایہ ممالک کی سرحدوں پر دستک دینی شروع کی۔ کویت اور سعودی عرب واحد ہمسائے تھے جنہوں نے ان بےحال عراقیوں پر اپنے دروازے مضبوطی سے بند کر دیے۔ بلکہ سعودی عرب نے تو عراق سے متصل سرحد پر باڑھ لگانے کے لیے سات ارب ڈالر بھی خرچ کردیے۔</p>

<p>  اب تک میں نے جن شخصیات کا تذکرہ کیا ان سب میں قدرِ مشترک ایک ہی ہے کہ سب نے یا تو اپنے اپنے ممالک کے قوانین کو پامال کیا یا پھر ان پر قانون کی پامالی کا الزام لگا۔ </p>

<p>لیکن جب خود سعودی باشندے ملک کے قوانین کو پامال کرتے ہیں تو پھر گردن بچانے کے لیے انہیں مغربی ممالک کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ برطانیہ میں گذرے جولائی میں ایک سعودی شہزادی کو عدالتی پناہ دی گئی ہے، جبکہ دس دیگر سعودی باشندے سیاسی پناہ کی قطار میں کھڑے ہیں۔<br />
</p>]]></description>
         <link>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/09/post_493.html</link>
         <guid>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/09/post_493.html</guid>
         <category>پاکستان</category>
         <pubDate>Wed, 02 Sep 2009 11:47:11 +0000</pubDate>
      </item>
      
      <item>
         <title>پاکستان انڈیا بیان بازی</title>
         <description><![CDATA[<p><span class="mt-enclosure mt-enclosure-image" style="display: inline;"><img alt="india_village226.jpg" src="http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/india_village226.jpg" width="226" height="170" class="mt-image-none" style="" /></span>انڈیا پاکستان میں بیان بازی کا رکا ہوا سلسلہ جب بھی شروع ہوتا ہے دماغ میں خطرے کے سائرن بج اٹھتے ہیں۔ خدشہ یہ ہے کہ بیان بازی کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے لوگوں میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی شدید خواہش کی آبیاری شروع ہو جاتی ہے۔</p>]]>
        <![CDATA[<p>قیمتی وقت اور وسائل اپنا کام کرنے کی بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور دوسرے کی ہار کی تمنا میں ضائع ہو جاتے ہیں۔ نقصان اس میں دونوں کا ہوتا ہے، لیکن اس وقت پاکستانیوں کی نسبت انڈیا والے شاید یہ بوجھ اٹھانےکے زیادہ متحمل ہیں۔</p>

<p> سیاسی عمل جاری رہنے کی وجہ سے انڈیا کے ادارے مضبوط ہوتے گئے اور<br />
انڈیا میں اب اقتدار ان طبقات تک بھی پہنچ چکا ہے جو ہزاروں سال سے پچھڑے ہوئے تھے۔ پاکستان میں سن پچاسی کے بعد سے آٹھ بار انتخابات ہوئے لیکن ایک بار کے سوا ہمیشہ حکومت کا تختہ الٹا گیا اور کبھی لوگوں کو فیصلہ سنانے کا موقع نہیں ملا۔</p>

<p>انتخابات کی وجہ سے انڈیا میں لوگوں کو ساتھ رکھنے کے لیے سیاستدانوں نے غیر معمولی اقدامات کیے اور لوگوں کا فائدہ ہوتا چلا گیا۔  پاکستان میں بیرونی سازشوں سے نمٹنے کے نام پر لوگوں نے سیاست میں ہر مداخلت برداشت کی۔انڈیا کی مختلف ریاستوں میں فلاحی کاموں کی مختلف مثالیں ملتی ہیں۔</p>

<p>انڈیا میں انتخابات کے دوران تمل ناڈو میں مجھے بتایا گیا کہ ماضی میں قانون بنایا گیا تھا کہ ہر اس طالب علم کو جس کے گھر میں پہلے کوئی پڑھا لکھا شخص نہیں مقابلے کے امتحان میں پانچ اضافی نمبر ملیں گے۔ ایک پروفیسر نے بتایا کہ یہ قانون بعد میں ہائی کورٹ نے ختم کر دیا لیکن اس دوران ایک یا دو مقابلے کے امتحان ہوئے جس میں پچھڑی ہوئی ذاتوں کے بچوں کو بہت فائدہ ہوا۔</p>

<p>اسی طرح خواتین کی صورتحال میں بہتری کے لیے کسی ریاست میں لڑکی پیدا ہونے پر والدین کو پیسے ملتے ہیں، کہیں اس کے سکول میں داخلے پر اور کہیں شادی پر بھی پیسے دیے جاتے ہیں۔ کیرالہ میں ریاستی حکومت کی تعلیمی میدان میں مراعات کے سبب وہاں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شرح خواندگی ترانوے فیصد ہے۔ تمل ناڈو میں یہ شرح تہتر فیصد ہے۔</p>

<p>کیرالہ میں لوگوں نے بتایا کہ 'ہم ہر بار حکومت بدل دیتے ہیں تاکہ سیاستدان لاپروا نہ ہو جائیں'۔ کانگریس کی حالیہ انتخابات میں کامیابی کے لیے ان کی روزگار سکیم کا ہاتھ ہے جس کے تحت ریاست دیہات میں ہر شخص کے لیے روزگار فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے۔</p>

<p>ملک کی کسی ریاست میں ریٹائرمنٹ کی عمر میں پہنچنے پر یورپ کی فلاحی ریاستوں کی طرح لوگوں کو پنشن ملتی ہے تو کہیں انتخابی وعدے کے مطابق آٹا چاول اتنا سستا کے ہر شخص کی قوت خرید میں ہے۔ اسی طرح بچوں کو سکول میں کھانا بھی مفت ملتا ہے۔</p>

<p>انڈیا میں جہاں کسانوں کی خودکشیوں کی خبریں ملتی ہیں وہیں پنجاب میں کسانوں کے لیے بجلی پانی مفت ہے۔ پنجاب میں ایک پروفیسر نے بتایا کہ سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے کوئی حکومت یہ مراعات واپس لینے کا نہیں سوچ سکتی۔</p>

<p>انڈیا میں اقتدار کی تقسیم سیاسی میدان تک محدود نہیں بلکہ انتظامی امور میں بھی ہر طبقے کی شمولیت بنائی جا رہی ہے اور اب کئی برسوں سے وہاں سول سروس کا امتحان انگریزی کے علاوہ دوسری زبانوں میں بھی دیا جا سکتا ہے۔ اس طرح افسر بننے کے لیے انگریزی میڈیم ہونا ضروری نہیں رہا۔</p>

<p>پاکستان میں عوام کیونکہ حقیقت میں طاقت کا سرچشمہ نہیں بن سکے اس لیے انہیں کسی چیز میں حصہ نہیں ملا۔</p>]]></description>
         <link>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/08/post_492.html</link>
         <guid>http://www.bbc.co.uk/blogs/urdu/2009/08/post_492.html</guid>
         <category>پاکستان</category>
         <pubDate>Sat, 29 Aug 2009 17:01:13 +0000</pubDate>
      </item>
      
   </channel>
</rss>
