سول ایوارڈز کی بہار
یوم آذادی کے روز اخبارات میں چھپنے والے سول ایوارڈز کی فہرست دیکھی تو فورا آنکھیں ملیں کہ کہیں روزے کی وجہ سے کچھ کا کچھ اور تو نہیں پڑھ لیا۔ ایسا لگا جیسے حکمراں پیپلز پارٹی کے اہم ترین رہنماؤں کی فہرست شائع ہوئی ہے۔
لیکن ایسا کچھ نہیں تھا یہ حکمراں جماعت کے اہم ترین رہنماؤں کے نام تھے جنہیں 'ان کی اعلی کارکردگی کے پیش نظر' سول ایوارڈز سے نوازا گیا ہے۔ مجھے یقین ہے اگر جنہیں یہ ایواڈ دیئے گئے خود بھی دل ہی دل میں میں غیرجانبدارانہ تجزیہ کریں تو انہیں بھی معلوم نہیں ہوگا کہ کس بنیاد پر انہیں یہ اعزاز بخشا جا رہا ہے۔ ایک نے تو مجھ سے بات کرتے ہوئے اس کا برملا اظہار بھی کیا۔
اگر سینٹ کے چیرمین فاروق ایچ نائیک اور قومی اسمبلی کی سپیکر فہمیدہ مرزا کا اپنے عہدوں پر فرائض
سرانجام دینا اتنا ہی مشکل تھا تو پھر ماضی کے تمام سپیکر اور چیرمینوں کو بھی یہ ملنا چاہیے۔ اس مرتبہ میں ایسی کیا خاص بات تھی؟ ہاں وزیر داخلہ کی کارکردگی کے تو ہم سب معترف ہیں لہذا ان پر انگلی اٹھانے کی میں کسی کو اجازت نہیں دوں گا۔ انہوں نے تو امن عامہ کے لیے اپنا دن رات ایک کر دیا۔ کچھ بہتری آئی یا نہیں یہ سب تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
بس بھئی فراخ دلی اگر کسی نے سیکھنی ہے تو ہمارے صدر سے سیکھے۔ جس نے جو مانگا اس کو دیا۔ ناصرف اپنی قریبی ساتھیوں کو اعلی ترین وزارتیں اور عہدے دیئے بلکہ اب انہیں قومی ایوارڈ سے بھی نواز دیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت ان کی کارکردگی سے کتنی مطمئن ہے۔ عوام کی بات کون کرتا ہے اور ایسے 'پرمسرت' مواقع پر کرنی بھی نہیں چاہیے۔
لیکن اس اعلان سے مجھے ایک پریشانی سے لاحق ہوئی کہ کیا اس سال کو حکومت اپنا آخری سال تصور کر رہی ہے کہ ابھی سے اپنی ٹیم کے سب اہم اراکین کو شاباشی عطا کر دی۔ ابھی تو اس حکومت کا کم از کم ایک اور یوم آذادی باقی ہے۔ آخر اتنی جلدی کیا تھی۔ یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے بعد صدر کو ان پیپلز پارٹی رہنماؤں سے اس سے زیادہ اچھے کی امید نہیں تھی۔
دوسری پریشانی یہ تھی کہ ان ایوارڈز کی وقعت کیا رہی؟ یقینا اکثریت قابل تعریف کارکردگی کے بل بوتے پر اس کی جائز حقدار ہے لیکن ایک عاد کا نام دیکھ کر تو محض سلیکشن معیار پر 'اف' ہی کی جاسکتی ہے۔
تبصرےتبصرہ کریں
پريشان ہونے کی ضرورت نہيں کيونکہ پاکستان ميں جتنے صدور آئے انہوں نے ايسا ہی کيا۔ اگر سول ايوارڈ کے ليۓ موزوں افراد کم ہوں اور ايوارڈ زيادہ ہوں تو کيا فالتو ايوارڈ صدر گدھوں کو دے؟ آخر انسانوں کو ہی دينے ہيں۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
بات یہ ہے کہ شخصیات کو ایوارڈ دینا ایک فارملیٹی بن کر رہ گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایوارڈ تقریب کا انععقاد اس لیے بھی کیا جاتا ہے تاکہ دنیا کو پتہ چل سکے کہ پاکستان میں صدرِ کا عہدہ بہت ہی ‘متبرک‘ ہے اور صدرِ پاکستان کے عہدے کی لاج رکھنے کے لیے ایوارڈ تقریب منعقد کی جاتی ہے۔ اور بس یہی ان ایوارڈ کی وقعت ہے۔ حالانکہ بندہ ایوارڈ دینے اور لینے اور اس رسم کو جاری و ساری رکھنے والوں سے پوچھے کہ بقول شاعر:
‘لُوٹنے والے کاش میری سچائی لُوٹ کے لے جائیں
بچے بھوکے سو جائیں تو کیا کرنا اعزازوں کو‘
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
ایوارڈ پھینکے ہیں اوروں کی طرف، بلکہ ثمر بھی
اے خانہ برباد چمن، کچھ ‘ریوڑیاں‘ ادھر بھی
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
ماضی ایسی مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔ لگتا ہے ہم ابھی تک زوال کی اس نچلی سطح تک نہیں پہنچے ہیں جہاں سے اقوام دوبارہ اپنی ترقی کا سفر شروع کرتی ہیں۔ الامان الاحفیظ
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
ناصرف اعلی وزراء بلکہ کئی پروفیسروں نے کچھ نہیں کیا اور ان کے نام بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ کیا کوئی ہے جو ان کی سی وی کا جائزہ لے کہ انہوں نے ملک کے لیے کیا کیا؟
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
پیپلز پارٹی کا ایک اور تاریخی کارنامہ۔ ثابت ہوا کہ اندھا بانٹے شیرینی مڑ مڑ اپنوں کو۔
منجانب ایک جیالا
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
موجود حکومت کے سر جہاں ملک میں مہنگائی، بےروزگاری، دہشتگردی اور بدامنی خطرناک حد تک بڑھ جانے کا سہرا ہے وہیں سول ایوارڈ کے نام پراپنے قریبی ساتھیوں کو خوش کرنےکی روایت کا بھی آغاز کر دیا گیاہے۔ یہ سول ایوارڈ ان لوگوں کو دئےگئے ہیں جنہوں نے اپنی ذمہ داریوں کو اچھی طرح سے نبھایا۔ اس لحاظ سے تو یہ ایوارڈ پاکستانی عوام کو ملنا چاہئے تھا جس نے ان تمام چیزوں کو بخوشی نہ صرف اپنایا بلکہ اس کے عادی بھی ہوگئے۔ موجودہ جمہوری حکومت نے جن جن عجیب و غریب روایات کی داغ بیل ڈالی ہے اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ ملک و قوم کے لئے کتنی مخلص ہے۔ہارون رشید صاحب نے لکھا ہے کہ سول ایوارڈ حاصل کرنے والوں کی فہرست دیکھی تو پیپلز پارٹی کے سینئرکارکنوں کی فہرست معلوم ہوئی تو جناب جس کی لاٹھی اس کی بھینس، یا یوں کہہ لیں کہ اندھا بانٹے ریوڑیاں اپنے اپنوں میں۔۔۔۔۔قوم اب تک اس بات سے بے خبر ہے کہ سول ایوارڈ ہے کیا؟ کیوں دیئے گئے؟ کس کو دئے گئے؟ اس پر اٹھنے والے اخراجات کتنے ہیں؟ قوم بھی آخر کیا بولے، اس سے قبل کئے گئے سوالوں کے جواب اب تک نہیں ملے۔ مزید سوالوں کے جواب کے لئے کتنا انتظار درکار ہوگا یہ تو وقت ہی بتائے گا۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
اور تو اور میرا جی کو بھی ایوارڈ مل گیا۔ ویسے حد ہوتی ہے بےضمیری کی۔ وہ کہتے ہیں نہ کہ اگر آپ کو شرم نہیں تو کچھ بھی کرسکتے ہیں۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
جیسی قوم ویسا صدر اور کیا؟؟؟؟؟؟
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
ہم مغل بادشاہوں کے دور میں رہ رہے ہیں۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ پاکستان میں ہر چیز کو اچھالتے کیوں ہیں؟ پاکستان میں کچھ بھی کرو صحیع یا غلط لوگوں کی باتیں سننی پڑتی ہیں۔ جس کو ملا وہ خوش جس کو نہ ملا وہ دکھ۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
حکومت توجہ ہٹانے کے لیے ایسے کام کرتی ہے۔ اب ایک ہفتے تک لوگ ان اعزازات پر تبصرہ کرتے رہیں گے۔ اس کے بعد کوئی نیا موضوع ہاتھ آ جائے گا۔ یہ اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
جنرل مشرف کے مارشل لاء سے پہلے کی حکومت نے پاکستان کے قومی اعزازات میں کشمیر کی ایک شخصیت کو بھی شامل کیا اور انہیں تین سال مسلسل قومی ایوارڈ دیا گیا۔ تاہم مارشل لاء کے بعد حسب قاعدہ متعلقہ سرکاری محکمے سے ایک کشمیری شخصیت کا نام قومی ایوارڈ کے لئے بھیجا گیا تو معلوم ہوا کہ مشرف حکومت نے بھارت کے کہنے پر کسی بھی کشمیری شخصیت کو قومی ایوارڈ دینا بند کر دیا ہے۔ یوم یکجہتی کشمیر (5فروری) کو بھی ایوارڈ دیئے جاتے ہیں لیکن اچھا ڈانس کرنے والوں کو، اچھی اداکاری کرنے والوں کو۔ مملکت پاکستان کے لئے بےمثال قربانیاں دینے والے کشمیریوں کے لئے پاکستان کا قومی ایوارڈ شجرہ ممنوعہ بنا دیا گیا ہے۔ قومی ایوارڈ بھی سفارش اور ذاتی پسند کی بنیاد پر دینے کے چلن سے اب ملک کا رہا سہا اعتبار بھی ختم ہو گیا ہے۔ قومی، سرکاری ادارے عوام کے اعتماد سے محروم ہو چکے ہیں۔ زرداری کی پی پی پی حکومت وہ گل کھلا رہی ہے کہ عوام مشرف کے بھیانک دور کو بھی بھول رہے ہیں۔ حکومتی عہدیدار ایک دوسرے کو ایوارڈ دے کر تاریخ میں اپنا نام ریکارڈ کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں یہ ایوارڈ نمایاں قومی مفاد پر مبنی کارکردگی کے بجائے نمایاں بدکرداری کا اعتراف بنتی جا رہی ہے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
سول ایوارڈز کی بہار تو ایک طرف سہی لیکن یہاں پر تو تبصروں کی بہار بھی کافی عرصے بعد نظر آ رہی ہے اور جس کی اغلب وجہ یہی ہے کہ بلاگ ہذا کے لکھنے والے کا نام ہارون رشید ہے۔ لہذا سمجھ تو سب ہی گئے ہوں گے کہ تبصروں کی بہار آج کیونکر ممکن ہو رہی ہے؟
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
اندھا بانٹے ریوڑیاں پھیر پھیر اپنے کو ہی دے
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
صدر زرداری کی ایوارڈوں کی بارش نے تو لفظ ’ایواڈ’ کا مطلب ہی تبدیل کر دیا ہے۔ کیا ان پیپلز پارٹی رہنماؤں نے عوام کے ساتھ انتخاب کے وقت کئے وعدے پورے کئیے۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ چاند نہیں چاہیے بلکہ پاؤں کے نیچے پڑی چٹائی رہنے دو۔ ننگے بھوکی عوام پوچھ رہی ہے کہ ایوارڈ عوام کی جسم ڈھانپنے کے بعد دیا جاتا ہے یا ان کی چمڑی اتارنے کے بعد؟ زرداری صاحب سن رہے ہیں نا!!
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
گل بادشاہ صاحب، ایوارڈ زیادہ اور بندے کم والی بات نہیں ہوتی، صرف اس کے قابل افراد کو ہی دیا جاتا ہے وہ ایک ہو یا ہزار ..ایوارڈ کے کوئی تعداد مقرر کر کے افراد تلاش نہیں کئے جاتے ..اور نہ ہی بندر بانٹ کے جاتی ہے جیسے اب ہوئی ہے۔ زرداری صاحب نے تو ہر ادارے اور روایت کی بےتوقیری کی قسم کھائی ہوئی ہے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
جن کے پاس کرنے کا کچھ نہ ہو وہ ایسا ہی کرتے ہیں۔ ماضی کی قوموں کا پسندیدہ مشغلہ!
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
عہدے دیئے بلکہ اب انہیں قومی ایوارڈ سے بھی نواز دیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت ان کی کارکردگی سے کتنی مطمئن ہے۔ زبردست ہارون رشید منفرد سوچ کے لیے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
اندھا بانٹے ریوڑیاں
مڑ مڑ اپنوں کو دے
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے
انجام گلستان کیا ہوگا
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
بےشرمی کی انتہا ہے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
یہ بند بانٹ پاکستان میں نئی نہیں ہے۔ ہاں اتنا ضرور کہوں گا کہ حکومت ریکارڈ ساز ہے لہذا ایک اور ریکارڈ سہی۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
زرداری جو بھی کرتا ہے زبردست کرتا ہے۔ بس ایک بات کا دکھ ہے اس نے اے این پی کے غلام بلور کے ساتھ ناانصافی کی۔ انہیں بھی ایوارڈ ملنا لازمی تھا وہ بھی بہت کام کر رہے ہیں ریلوے کی خدمت کرکے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
جن لوگوں نے ان افراد کو ایوارڈ کے لیے نامزد کرنا تھا انہوں نے اپنا کام کر دیا۔ اب ہمیں بےچینی سے انتظار ہے ان لوگوں کا کہ جنہیں یہ اعزاز ملا وہ کیا کہتے ہیں۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
حضرت عمر تو یہ بھی بتایا کرتے تھے کہ ان کی قمیض کیسے بنی۔ یہاں تو خوشامدی ٹولے کو اعزازات سے نوازا جا رہا ہے۔ میرے خیال میں ان لوگوں کے بارے میں قرآن مجید میں بھی ہے کہ ان کے دلوں پر مہر ثبت کر دی گئی ہے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
ہارون صاحب ميں سمجھ گيا ہوں کہ آپ وزير داخلہ پر انگلی اٹھانا پسند نہيں کريں گے مگر ميں صرف ايک تجويز دينا چاہتا ہوں۔ پہلے تو سب وزراء اور حکومتی اراکين بڑے بڑے انعامات کے مستحق ہيں اور اگر سب کو نہيں تو کم از کم وزير داخلہ نشان حيدر کے تو مستحق ہيں حالانکہ يہ فوجی اعزاز ہے اور بڑے عسکری کارناموں پر ہی ديا جاتا ہے مگر جہاں باقی انعامات کے سلسلے ميں تبديلی کی گئی ہے وہاں نشان حيدر کے سلسلے ميں بھی تو تبديلی ہو سکتی ہے۔ آخر کار وزير موصوف اس ناشکری قوم کی خدمت ميں رات دن ايک کيۓ ہوۓ ہيں۔ ميں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پوری حکومتی جماعت اور ق ليگ کو بالخصوص اور باقی پارٹيوں کو بالعموم ان کے شاندار کارناموں پر مبارکباد دينا چاہتا ہوں۔ پوری دنيا ہمارے حکومتی اور غيرحکومتی سياستدانوں پر حيران ہیں کہ کس مٹی سے بنے ہيں يہ لوگ۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
بی بی سی والے ميرے تبصرے شائع نہيں کرتے؟
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
ہارون صاحب کبھی فوج کے بارے میں بھی لکھ دیا کریں۔ آپ نے تو بے چاری فوج کے بارے میں یہ بھی لکھ دیا تھا کہ فوج غریب ہوگئی ہے۔ اب سمجھ میں آتا ہے فوج کی اتنی پردہ داری کیوں؟
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
ناجانے کیسے لوگ من،حب کیے ہیں جنہیں ایوارڈ دینے کے لیے لوگوں کو منتخب کرنا بھی نہیں آتا۔ ویسے یہ قصور محروم بھٹو کا ہے۔ ہم تو انڈیا سے آگے نکلنے کی کوشش میں مصروف ہیں لیکن ایوارڈز سے پتہ چلتا ہے کہ ایتھوپیا سے بھی نیچے گر گئے ہیں۔ چلیں قوم نے زرداری کا یہ کارنامہ بھی دیکھ لیا۔ شاید آئندہ لوگ ان کارناموں کو مدنظر رکھ کر لوٹ ماروں کو منتخب نہیں کریں گے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
یہ سب عقل کے اندھے ہیں۔ آنکھوں کا اندھا تو دیکھ سکتا ہے لیکن عقل کا اندھا دیکھ کر بھی جہالت کے مظاہرے ضرور کرتا ہے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
اندھا بانٹے ریوڑیاں اپنے اپنا نوں۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
اگر چار چار بار جنگوں ميں منہ کی کھانے والے جرنيلوں کے سينے ميڈيلوں سے بھرے ہوئے ہيں تو بھائی صاحب آپ کو بےچارے نا اہل سویلين ہی دکھتے ہيں؟
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
میرے خیال میں ایوارڈ لینے والوں کی کارکردگی اور کامیابیاں بتائی جانی چاہیں۔ ویسے میرا جی کو ایوارڈ کیوں مل رہا ہے؟
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
قسم سے بہت افسوس ہو رہا ہے۔ دل ڈوب رہا ہے۔ احساس کہاں مر گيا ہے۔ سنا ہے کسی بزرگ نے خواب ديکھا ہے کہ 2011 کے اواخر پاکستان پستيوں کی آخری سرحدوں کو چھوکر عروج کی راہ پکڑ لے گا۔ اللہ کرے يہ سچ ہو۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
جاہل کو اگر جھل کا انعام ديا جائے
اس حادثہ وقت کو کيا نام ديا جائے
رندون کی ہتک ہے مہخانے کی توہين ہے
کم ظرف کی ہاتھوں ميں اگر جام ديا جائے
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
مجھے تو حيرت اس بات کی ہے کہ حکومتی اراکين کی کارکردگی ان ايوارڈز کی مستحق کسی طور پر نہيں تھی۔ ملک ميں جوتوں ميں دال بٹ رہی ہے۔ اسی طرح حکومت ايوارڈ بھی بانٹ رہی ہے۔ يہ تو جمہوريت کی خوبی ہے کہ اگر سارے متحد ہو کر ناجائز کو جائز قرار دينے کی قرارداد منظور کر ليں تو وہ صحيح تصور کيا جاتا ہے۔ اگر اسمبلی اسپيکر کو ايوارڈ ملا تو ان کی کارکردگی بھی تو کسی سے کم نہيں۔ آج تک جالی ڈگری پر ان کی معنی خيز خاموشی ان کے روئے انہيں ايوارڈ کا مستحق قرار دينے کا حکومت کے پاس جواز ہے۔ اسی طرح اور بھی لوگوں کو ايوارڈ جائز ہی ہونگے۔ عوام کو اس سے کوئی غرض نہيں وہ تو صرف اپنی جان اور عزت بچانے ميں مصروف ہيں کہ کہيں وہ بھی کسی مشکل کا شکار نہ ہو جائیں۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
دیکھئے صاحب
فلم اسٹار میرا کو ایوارڈ ملنے پر ہمیں قطعا حیرت نہیں ہوئی۔ !
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
ہمیں صدر صاحب سے کچھ زیادہ کی امید نہیں کرنی چاہیے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
’اس سال جن لوگوں کو یہ ایواڈ ملے ان میں سے کئی ایک خود بھی لاعلم ہیں کہ انہیں کس بنیاد پر یہ اعزاز بخشا گیا ہے۔’ قسم سے آپ کا یہ جملہ پڑھ کر ہنسی آگئی۔ ان ایوارڈز کو آپ سال کا لطیفہ کہہ سکتے ہیں۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
اندھا بانٹے ریوڑھی مڑ مز اپنوں کو
خدا کے لیے زرداری گو
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
حکومت اپنے بندوں کو اس لیے سول ایوارڈز کے لیے ترجیح دیتی ہے کہ اس کی حکومت ہوتی ہے۔ اب اگر خدانخواستہ تحریک انصاف حکومت میں آ جاتی ہے تو یہ رحمان ملک کو تو ایوارڈ نہیں دے گی، اپنے ہی کسی بندے کو دے گی۔ ‘
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
اس قوم کے ساتھ کچھ بھی کر لو یہ نہیں جاگے گی۔ یہ لوگ پھر منتخب ہوکر آ جائیں گے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
کوئی فکر کی بات نہیں جب اوبامہ کو نوبل انعام سے نوازا جاسکتا ہے تو یہ تو اپنا پاکستان ہے جہاں کچھ بھی ممکن ہے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
یہ تو اندھوں میں کانا راجہ والی بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حکمران جماعت کا شاید نعرہ ہی یہی ہے کہ
پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔۔۔۔ جوکچھ لبھے کھائی جا
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
مجھے کوئی حیرت نہ ہوتی اگر یہ ۔۔۔ کو بھی ایوارڈ دے دیتے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard