<< پچھلا بلاگ | بلاگز | اگلا بلاگ >>

سول ایوارڈز کی بہار

اصناف:

ہارون رشید | 2011-08-15 ،16:33

یوم آذادی کے روز اخبارات میں چھپنے والے سول ایوارڈز کی فہرست دیکھی تو فورا آنکھیں ملیں کہ کہیں روزے کی وجہ سے کچھ کا کچھ اور تو نہیں پڑھ لیا۔ ایسا لگا جیسے حکمراں پیپلز پارٹی کے اہم ترین رہنماؤں کی فہرست شائع ہوئی ہے۔

لیکن ایسا کچھ نہیں تھا یہ حکمراں جماعت کے اہم ترین رہنماؤں کے نام تھے جنہیں 'ان کی اعلی کارکردگی کے پیش نظر' سول ایوارڈز سے نوازا گیا ہے۔ مجھے یقین ہے اگر جنہیں یہ ایواڈ دیئے گئے خود بھی دل ہی دل میں میں غیرجانبدارانہ تجزیہ کریں تو انہیں بھی معلوم نہیں ہوگا کہ کس بنیاد پر انہیں یہ اعزاز بخشا جا رہا ہے۔ ایک نے تو مجھ سے بات کرتے ہوئے اس کا برملا اظہار بھی کیا۔
اگر سینٹ کے چیرمین فاروق ایچ نائیک اور قومی اسمبلی کی سپیکر فہمیدہ مرزا کا اپنے عہدوں پر فرائض
سرانجام دینا اتنا ہی مشکل تھا تو پھر ماضی کے تمام سپیکر اور چیرمینوں کو بھی یہ ملنا چاہیے۔ اس مرتبہ میں ایسی کیا خاص بات تھی؟ ہاں وزیر داخلہ کی کارکردگی کے تو ہم سب معترف ہیں لہذا ان پر انگلی اٹھانے کی میں کسی کو اجازت نہیں دوں گا۔ انہوں نے تو امن عامہ کے لیے اپنا دن رات ایک کر دیا۔ کچھ بہتری آئی یا نہیں یہ سب تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

بس بھئی فراخ دلی اگر کسی نے سیکھنی ہے تو ہمارے صدر سے سیکھے۔ جس نے جو مانگا اس کو دیا۔ ناصرف اپنی قریبی ساتھیوں کو اعلی ترین وزارتیں اور عہدے دیئے بلکہ اب انہیں قومی ایوارڈ سے بھی نواز دیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت ان کی کارکردگی سے کتنی مطمئن ہے۔ عوام کی بات کون کرتا ہے اور ایسے 'پرمسرت' مواقع پر کرنی بھی نہیں چاہیے۔

لیکن اس اعلان سے مجھے ایک پریشانی سے لاحق ہوئی کہ کیا اس سال کو حکومت اپنا آخری سال تصور کر رہی ہے کہ ابھی سے اپنی ٹیم کے سب اہم اراکین کو شاباشی عطا کر دی۔ ابھی تو اس حکومت کا کم از کم ایک اور یوم آذادی باقی ہے۔ آخر اتنی جلدی کیا تھی۔ یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے بعد صدر کو ان پیپلز پارٹی رہنماؤں سے اس سے زیادہ اچھے کی امید نہیں تھی۔

دوسری پریشانی یہ تھی کہ ان ایوارڈز کی وقعت کیا رہی؟ یقینا اکثریت قابل تعریف کارکردگی کے بل بوتے پر اس کی جائز حقدار ہے لیکن ایک عاد کا نام دیکھ کر تو محض سلیکشن معیار پر 'اف' ہی کی جاسکتی ہے۔

تبصرےتبصرہ کریں

  • 1. 21:18 2011-08-15 ,گل بادشاہ پرديسی :

    پريشان ہونے کی ضرورت نہيں کيونکہ پاکستان ميں جتنے صدور آئے انہوں نے ايسا ہی کيا۔ اگر سول ايوارڈ کے ليۓ موزوں افراد کم ہوں اور ايوارڈ زيادہ ہوں تو کيا فالتو ايوارڈ صدر گدھوں کو دے؟ آخر انسانوں کو ہی دينے ہيں۔

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 2. 23:41 2011-08-15 ,Najeeb-ur-Rehman، لاہور :

    بات یہ ہے کہ شخصیات کو ایوارڈ دینا ایک فارملیٹی بن کر رہ گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایوارڈ تقریب کا انععقاد اس لیے بھی کیا جاتا ہے تاکہ دنیا کو پتہ چل سکے کہ پاکستان میں صدرِ کا عہدہ بہت ہی ‘متبرک‘ ہے اور صدرِ پاکستان کے عہدے کی لاج رکھنے کے لیے ایوارڈ تقریب منعقد کی جاتی ہے۔ اور بس یہی ان ایوارڈ کی وقعت ہے۔ حالانکہ بندہ ایوارڈ دینے اور لینے اور اس رسم کو جاری و ساری رکھنے والوں سے پوچھے کہ بقول شاعر:
    ‘لُوٹنے والے کاش میری سچائی لُوٹ کے لے جائیں
    بچے بھوکے سو جائیں تو کیا کرنا اعزازوں کو‘

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 3. 4:14 2011-08-16 ,Rashid Ashraf :

    ایوارڈ پھینکے ہیں اوروں کی طرف، بلکہ ثمر بھی
    اے خانہ برباد چمن، کچھ ‘ریوڑیاں‘ ادھر بھی

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 4. 4:27 2011-08-16 ,Younas :

    ماضی ایسی مثالوں سے بھرا پڑا ہے۔ لگتا ہے ہم ابھی تک زوال کی اس نچلی سطح تک نہیں پہنچے ہیں جہاں سے اقوام دوبارہ اپنی ترقی کا سفر شروع کرتی ہیں۔ الامان الاحفیظ

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 5. 5:25 2011-08-16 ,Ahmed Jan :

    ناصرف اعلی وزراء بلکہ کئی پروفیسروں نے کچھ نہیں کیا اور ان کے نام بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ کیا کوئی ہے جو ان کی سی وی کا جائزہ لے کہ انہوں نے ملک کے لیے کیا کیا؟

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 6. 5:33 2011-08-16 ,Maqsood :

    پیپلز پارٹی کا ایک اور تاریخی کارنامہ۔ ثابت ہوا کہ اندھا بانٹے شیرینی مڑ مڑ اپنوں کو۔
    منجانب ایک جیالا

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 7. 6:05 2011-08-16 ,تادیب خان :

    موجود حکومت کے سر جہاں ملک میں مہنگائی، بےروزگاری، دہشتگردی اور بدامنی خطرناک حد تک بڑھ جانے کا سہرا ہے وہیں سول ایوارڈ کے نام پراپنے قریبی ساتھیوں کو خوش کرنےکی روایت کا بھی آغاز کر دیا گیاہے۔ یہ سول ایوارڈ ان لوگوں کو دئےگئے ہیں جنہوں نے اپنی ذمہ داریوں کو اچھی طرح سے نبھایا۔ اس لحاظ سے تو یہ ایوارڈ پاکستانی عوام کو ملنا چاہئے تھا جس نے ان تمام چیزوں کو بخوشی نہ صرف اپنایا بلکہ اس کے عادی بھی ہوگئے۔ موجودہ جمہوری حکومت نے جن جن عجیب و غریب روایات کی داغ بیل ڈالی ہے اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ ملک و قوم کے لئے کتنی مخلص ہے۔ہارون رشید صاحب نے لکھا ہے کہ سول ایوارڈ حاصل کرنے والوں کی فہرست دیکھی تو پیپلز پارٹی کے سینئرکارکنوں کی فہرست معلوم ہوئی تو جناب جس کی لاٹھی اس کی بھینس، یا یوں کہہ لیں کہ اندھا بانٹے ریوڑیاں اپنے اپنوں میں۔۔۔۔۔قوم اب تک اس بات سے بے خبر ہے کہ سول ایوارڈ ہے کیا؟ کیوں دیئے گئے؟ کس کو دئے گئے؟ اس پر اٹھنے والے اخراجات کتنے ہیں؟ قوم بھی آخر کیا بولے، اس سے قبل کئے گئے سوالوں کے جواب اب تک نہیں ملے۔ مزید سوالوں کے جواب کے لئے کتنا انتظار درکار ہوگا یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 8. 6:06 2011-08-16 ,muhammad nadeem zuberi :

    اور تو اور میرا جی کو بھی ایوارڈ مل گیا۔ ویسے حد ہوتی ہے بےضمیری کی۔ وہ کہتے ہیں نہ کہ اگر آپ کو شرم نہیں تو کچھ بھی کرسکتے ہیں۔

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 9. 6:28 2011-08-16 ,Ayaz Ahmed :

    جیسی قوم ویسا صدر اور کیا؟؟؟؟؟؟

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 10. 8:26 2011-08-16 ,Hamid Marwat :

    ہم مغل بادشاہوں کے دور میں رہ رہے ہیں۔

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 11. 8:41 2011-08-16 ,Imran Abdul Qadir :

    مجھے سمجھ نہیں آتی کہ پاکستان میں ہر چیز کو اچھالتے کیوں ہیں؟ پاکستان میں کچھ بھی کرو صحیع یا غلط لوگوں کی باتیں سننی پڑتی ہیں۔ جس کو ملا وہ خوش جس کو نہ ملا وہ دکھ۔

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 12. 9:20 2011-08-16 ,Muhammad Anwar :

    حکومت توجہ ہٹانے کے لیے ایسے کام کرتی ہے۔ اب ایک ہفتے تک لوگ ان اعزازات پر تبصرہ کرتے رہیں گے۔ اس کے بعد کوئی نیا موضوع ہاتھ آ جائے گا۔ یہ اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 13. 9:40 2011-08-16 ,Athar Massood Wani :

    جنرل مشرف کے مارشل لاء سے پہلے کی حکومت نے پاکستان کے قومی اعزازات میں کشمیر کی ایک شخصیت کو بھی شامل کیا اور انہیں تین سال مسلسل قومی ایوارڈ دیا گیا۔ تاہم مارشل لاء کے بعد حسب قاعدہ متعلقہ سرکاری محکمے سے ایک کشمیری شخصیت کا نام قومی ایوارڈ کے لئے بھیجا گیا تو معلوم ہوا کہ مشرف حکومت نے بھارت کے کہنے پر کسی بھی کشمیری شخصیت کو قومی ایوارڈ دینا بند کر دیا ہے۔ یوم یکجہتی کشمیر (5فروری) کو بھی ایوارڈ دیئے جاتے ہیں لیکن اچھا ڈانس کرنے والوں کو، اچھی اداکاری کرنے والوں کو۔ مملکت پاکستان کے لئے بےمثال قربانیاں دینے والے کشمیریوں کے لئے پاکستان کا قومی ایوارڈ شجرہ ممنوعہ بنا دیا گیا ہے۔ قومی ایوارڈ بھی سفارش اور ذاتی پسند کی بنیاد پر دینے کے چلن سے اب ملک کا رہا سہا اعتبار بھی ختم ہو گیا ہے۔ قومی، سرکاری ادارے عوام کے اعتماد سے محروم ہو چکے ہیں۔ زرداری کی پی پی پی حکومت وہ گل کھلا رہی ہے کہ عوام مشرف کے بھیانک دور کو بھی بھول رہے ہیں۔ حکومتی عہدیدار ایک دوسرے کو ایوارڈ دے کر تاریخ میں اپنا نام ریکارڈ کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں یہ ایوارڈ نمایاں قومی مفاد پر مبنی کارکردگی کے بجائے نمایاں بدکرداری کا اعتراف بنتی جا رہی ہے۔

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 14. 11:04 2011-08-16 ,Najeeb-ur-Rehman، لاہور :

    سول ایوارڈز کی بہار تو ایک طرف سہی لیکن یہاں پر تو تبصروں کی بہار بھی کافی عرصے بعد نظر آ رہی ہے اور جس کی اغلب وجہ یہی ہے کہ بلاگ ہذا کے لکھنے والے کا نام ہارون رشید ہے۔ لہذا سمجھ تو سب ہی گئے ہوں گے کہ تبصروں کی بہار آج کیونکر ممکن ہو رہی ہے؟

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 15. 13:14 2011-08-16 ,ناصر جمال :

    اندھا بانٹے ریوڑیاں پھیر پھیر اپنے کو ہی دے

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 16. 13:21 2011-08-16 ,Najeeb Ullah Marri Baloch :

    صدر زرداری کی ایوارڈوں کی بارش نے تو لفظ ’ایواڈ’ کا مطلب ہی تبدیل کر دیا ہے۔ کیا ان پیپلز پارٹی رہنماؤں نے عوام کے ساتھ انتخاب کے وقت کئے وعدے پورے کئیے۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ چاند نہیں چاہیے بلکہ پاؤں کے نیچے پڑی چٹائی رہنے دو۔ ننگے بھوکی عوام پوچھ رہی ہے کہ ایوارڈ عوام کی جسم ڈھانپنے کے بعد دیا جاتا ہے یا ان کی چمڑی اتارنے کے بعد؟ زرداری صاحب سن رہے ہیں نا!!

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 17. 14:41 2011-08-16 ,خالد احمد :

    گل بادشاہ صاحب، ایوارڈ زیادہ اور بندے کم والی بات نہیں ہوتی، صرف اس کے قابل افراد کو ہی دیا جاتا ہے وہ ایک ہو یا ہزار ..ایوارڈ کے کوئی تعداد مقرر کر کے افراد تلاش نہیں کئے جاتے ..اور نہ ہی بندر بانٹ کے جاتی ہے جیسے اب ہوئی ہے۔ زرداری صاحب نے تو ہر ادارے اور روایت کی بےتوقیری کی قسم کھائی ہوئی ہے۔

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 18. 16:50 2011-08-16 ,siraj muhammad :

    جن کے پاس کرنے کا کچھ نہ ہو وہ ایسا ہی کرتے ہیں۔ ماضی کی قوموں کا پسندیدہ مشغلہ!

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 19. 17:29 2011-08-16 ,نديم رحمان ملک -سنا واں-مظفر گڑھ :

    عہدے دیئے بلکہ اب انہیں قومی ایوارڈ سے بھی نواز دیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت ان کی کارکردگی سے کتنی مطمئن ہے۔ زبردست ہارون رشید منفرد سوچ کے لیے۔

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 20. 18:30 2011-08-16 ,Sultan :

    اندھا بانٹے ریوڑیاں
    مڑ مڑ اپنوں کو دے

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 21. 4:49 2011-08-17 ,Abdullah :

    ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے
    انجام گلستان کیا ہوگا


    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 22. 6:46 2011-08-17 ,ATIF :

    بےشرمی کی انتہا ہے۔

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 23. 8:26 2011-08-17 ,jibran ahmad askari :

    یہ بند بانٹ پاکستان میں نئی نہیں ہے۔ ہاں اتنا ضرور کہوں گا کہ حکومت ریکارڈ ساز ہے لہذا ایک اور ریکارڈ سہی۔

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 24. 8:51 2011-08-17 ,naveed alam :

    زرداری جو بھی کرتا ہے زبردست کرتا ہے۔ بس ایک بات کا دکھ ہے اس نے اے این پی کے غلام بلور کے ساتھ ناانصافی کی۔ انہیں بھی ایوارڈ ملنا لازمی تھا وہ بھی بہت کام کر رہے ہیں ریلوے کی خدمت کرکے۔

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 25. 9:13 2011-08-17 ,Muhammad Naseer Abbasi :

    جن لوگوں نے ان افراد کو ایوارڈ کے لیے نامزد کرنا تھا انہوں نے اپنا کام کر دیا۔ اب ہمیں بےچینی سے انتظار ہے ان لوگوں کا کہ جنہیں یہ اعزاز ملا وہ کیا کہتے ہیں۔

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 26. 9:26 2011-08-17 ,ummar Rasheed :

    حضرت عمر تو یہ بھی بتایا کرتے تھے کہ ان کی قمیض کیسے بنی۔ یہاں تو خوشامدی ٹولے کو اعزازات سے نوازا جا رہا ہے۔ میرے خیال میں ان لوگوں کے بارے میں قرآن مجید میں بھی ہے کہ ان کے دلوں پر مہر ثبت کر دی گئی ہے۔

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 27. 13:34 2011-08-17 ,ساحر خان رياستہاۓ متحدہ امريکہ :

    ہارون صاحب ميں سمجھ گيا ہوں کہ آپ وزير داخلہ پر انگلی اٹھانا پسند نہيں کريں گے مگر ميں صرف ايک تجويز دينا چاہتا ہوں۔ پہلے تو سب وزراء اور حکومتی اراکين بڑے بڑے انعامات کے مستحق ہيں اور اگر سب کو نہيں تو کم از کم وزير داخلہ نشان حيدر کے تو مستحق ہيں حالانکہ يہ فوجی اعزاز ہے اور بڑے عسکری کارناموں پر ہی ديا جاتا ہے مگر جہاں باقی انعامات کے سلسلے ميں تبديلی کی گئی ہے وہاں نشان حيدر کے سلسلے ميں بھی تو تبديلی ہو سکتی ہے۔ آخر کار وزير موصوف اس ناشکری قوم کی خدمت ميں رات دن ايک کيۓ ہوۓ ہيں۔ ميں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پوری حکومتی جماعت اور ق ليگ کو بالخصوص اور باقی پارٹيوں کو بالعموم ان کے شاندار کارناموں پر مبارکباد دينا چاہتا ہوں۔ پوری دنيا ہمارے حکومتی اور غيرحکومتی سياستدانوں پر حيران ہیں کہ کس مٹی سے بنے ہيں يہ لوگ۔

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 28. 16:24 2011-08-17 ,جمال :

    بی بی سی والے ميرے تبصرے شائع نہيں کرتے؟

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 29. 18:16 2011-08-17 ,عزیز احمد :

    ہارون صاحب کبھی فوج کے بارے میں بھی لکھ دیا کریں۔ آپ نے تو بے چاری فوج کے بارے میں یہ بھی لکھ دیا تھا کہ فوج غریب ہوگئی ہے۔ اب سمجھ میں آتا ہے فوج کی اتنی پردہ داری کیوں؟

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 30. 23:58 2011-08-17 ,Shahzaman Kakar :

    ناجانے کیسے لوگ من،حب کیے ہیں جنہیں ایوارڈ دینے کے لیے لوگوں کو منتخب کرنا بھی نہیں آتا۔ ویسے یہ قصور محروم بھٹو کا ہے۔ ہم تو انڈیا سے آگے نکلنے کی کوشش میں مصروف ہیں لیکن ایوارڈز سے پتہ چلتا ہے کہ ایتھوپیا سے بھی نیچے گر گئے ہیں۔ چلیں قوم نے زرداری کا یہ کارنامہ بھی دیکھ لیا۔ شاید آئندہ لوگ ان کارناموں کو مدنظر رکھ کر لوٹ ماروں کو منتخب نہیں کریں گے۔

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 31. 0:06 2011-08-18 ,naveed ahmed :

    یہ سب عقل کے اندھے ہیں۔ آنکھوں کا اندھا تو دیکھ سکتا ہے لیکن عقل کا اندھا دیکھ کر بھی جہالت کے مظاہرے ضرور کرتا ہے۔

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 32. 2:23 2011-08-18 ,Syed Ali :

    اندھا بانٹے ریوڑیاں اپنے اپنا نوں۔

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 33. 6:29 2011-08-18 ,Ann Syedha :

    اگر چار چار بار جنگوں ميں منہ کی کھانے والے جرنيلوں کے سينے ميڈيلوں سے بھرے ہوئے ہيں تو بھائی صاحب آپ کو بےچارے نا اہل سویلين ہی دکھتے ہيں؟

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 34. 8:52 2011-08-18 ,Naresh :

    میرے خیال میں ایوارڈ لینے والوں کی کارکردگی اور کامیابیاں بتائی جانی چاہیں۔ ویسے میرا جی کو ایوارڈ کیوں مل رہا ہے؟

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 35. 9:51 2011-08-18 ,Muhammad AL Yasir :

    قسم سے بہت افسوس ہو رہا ہے۔ دل ڈوب رہا ہے۔ احساس کہاں مر گيا ہے۔ سنا ہے کسی بزرگ نے خواب ديکھا ہے کہ 2011 کے اواخر پاکستان پستيوں کی آخری سرحدوں کو چھوکر عروج کی راہ پکڑ لے گا۔ اللہ کرے يہ سچ ہو۔

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 36. 18:21 2011-08-18 ,ڈاکٹر ناصر جمال :

    جاہل کو اگر جھل کا انعام ديا جائے
    اس حادثہ وقت کو کيا نام ديا جائے
    رندون کی ہتک ہے مہخانے کی توہين ہے
    کم ظرف کی ہاتھوں ميں اگر جام ديا جائے

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 37. 5:15 2011-08-19 ,Riffat Mehmood :

    مجھے تو حيرت اس بات کی ہے کہ حکومتی اراکين کی کارکردگی ان ايوارڈز کی مستحق کسی طور پر نہيں تھی۔ ملک ميں جوتوں ميں دال بٹ رہی ہے۔ اسی طرح حکومت ايوارڈ بھی بانٹ رہی ہے۔ يہ تو جمہوريت کی خوبی ہے کہ اگر سارے متحد ہو کر ناجائز کو جائز قرار دينے کی قرارداد منظور کر ليں تو وہ صحيح تصور کيا جاتا ہے۔ اگر اسمبلی اسپيکر کو ايوارڈ ملا تو ان کی کارکردگی بھی تو کسی سے کم نہيں۔ آج تک جالی ڈگری پر ان کی معنی خيز خاموشی ان کے روئے انہيں ايوارڈ کا مستحق قرار دينے کا حکومت کے پاس جواز ہے۔ اسی طرح اور بھی لوگوں کو ايوارڈ جائز ہی ہونگے۔ عوام کو اس سے کوئی غرض نہيں وہ تو صرف اپنی جان اور عزت بچانے ميں مصروف ہيں کہ کہيں وہ بھی کسی مشکل کا شکار نہ ہو جائیں۔

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 38. 6:12 2011-08-19 ,Rashid Ashraf :

    دیکھئے صاحب
    فلم اسٹار میرا کو ایوارڈ ملنے پر ہمیں قطعا حیرت نہیں ہوئی۔ !

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 39. 7:22 2011-08-19 ,M. Amir :

    ہمیں صدر صاحب سے کچھ زیادہ کی امید نہیں کرنی چاہیے۔

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 40. 12:01 2011-08-19 ,Mohsin Ghauri :

    ’اس سال جن لوگوں کو یہ ایواڈ ملے ان میں سے کئی ایک خود بھی لاعلم ہیں کہ انہیں کس بنیاد پر یہ اعزاز بخشا گیا ہے۔’ قسم سے آپ کا یہ جملہ پڑھ کر ہنسی آگئی۔ ان ایوارڈز کو آپ سال کا لطیفہ کہہ سکتے ہیں۔

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 41. 12:26 2011-08-19 ,Ali :

    اندھا بانٹے ریوڑھی مڑ مز اپنوں کو
    خدا کے لیے زرداری گو

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 42. 13:12 2011-08-19 ,Najeeb-ur-Rehman، لاہور :

    حکومت اپنے بندوں کو اس لیے سول ایوارڈز کے لیے ترجیح دیتی ہے کہ اس کی حکومت ہوتی ہے۔ اب اگر خدانخواستہ تحریک انصاف حکومت میں آ جاتی ہے تو یہ رحمان ملک کو تو ایوارڈ نہیں دے گی، اپنے ہی کسی بندے کو دے گی۔ ‘

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 43. 15:16 2011-08-19 ,amjad :

    اس قوم کے ساتھ کچھ بھی کر لو یہ نہیں جاگے گی۔ یہ لوگ پھر منتخب ہوکر آ جائیں گے۔

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 44. 18:40 2011-08-19 ,mashhood ahmed :

    کوئی فکر کی بات نہیں جب اوبامہ کو نوبل انعام سے نوازا جاسکتا ہے تو یہ تو اپنا پاکستان ہے جہاں کچھ بھی ممکن ہے۔

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 45. 11:09 2011-08-20 ,آصف فراز :

    یہ تو اندھوں میں کانا راجہ والی بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حکمران جماعت کا شاید نعرہ ہی یہی ہے کہ
    پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔۔۔۔ جوکچھ لبھے کھائی جا

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

  • 46. 18:35 2011-08-20 ,Mohammad Ramzan. U. A .E :

    مجھے کوئی حیرت نہ ہوتی اگر یہ ۔۔۔ کو بھی ایوارڈ دے دیتے۔

    تبصرے کے بارے میں شکایت کریں  

    Virtual keyboard

    ضروری ہے

    شائع نہیں کیا جائے گا

تبصرہ کریں

آپ کے نام اور ای میل ایڈریس کا اندراج ضروری ہے (آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا)

تمام تبصرے جانچ پڑتال کے بعد شائع کیے جائیں گے

Virtual keyboard

 

ضروری ہے

شائع نہیں کیا جائے گا


bbc.co.uk navigation

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔