پاکستان کے خودکُش حملے اور اسرائیلیوں کی ہمدردیاں
کل رات کا ڈنر یروشلم سے باہر ایک یہودی فیملی کے گھر کھایا۔ وہ پہلے کبھی کسی پاکستانی سے نہیں ملے۔
مجھے لگا کہ جتنی میری اُن کے طور طریقے جاننے میں دلچسپی تھی اُتنی ہی دلچسپی انہیں مجھ میں اور پاکستان میں تھی۔
ذکر پاکستان میں آئے دن کے خودکُش حملوں کا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسرائیلوں کو پاکستانیوں سے پوری ہمدردی ہے کیونکہ ہم سے بہتر کون جانتا ہوگا کہ خودکُش حملے روکنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔
ایک حد تک ان کی بات سہی بھی تھی۔ پاکستان میں خودکُش حملوں کا رواج نائن الیون کے بعد سے پڑا۔ لیکن اسرائیلی ایک لمبے عرصے سے انہیں بھگتے آئے ہیں۔
کبھی فلسطینی خودکُش حملہ آوروں نے یروشلم میں عام مسافروں سے بھری بسوں کو نشانہ بنایا تو کبھی تل ابیب میں ریستوران اور ڈسکوز اُن کی کاروائیوں کا نشانہ بنے۔
ایک زمانہ تھا اسرائیل آئے دن اس قسم کی خبروں میں رہتا تھا لیکن اب یوں لگتا ہے جیسے پاکستان اور خودکُش حملے لازم و ملزوم ہو چکے ہیں۔
میں نے اپنے پُر خلوص اسرائیلی میزبانوں سے پوچھا کہ آپ نے کیسے خودکش حملوں پر بظاہر خاصا کنٹرول کر لیا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو شاید یہ بات پسند نہ آئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب سے اسرائیل نے فلسطینوں کی نقل و حرکت روکنے کے لئے جگہ جگہ سکیورٹی رکاوٹیں کھڑی کیں اور دیوار بنائی، اُن کا یہاں آ کر حملے کرنا ناممکن نہیں تو بے حد مشکل ضرور ہوگیا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیل رقبے کے اعتبار سے پاکستان سے کئی گناہ چھوٹا لیکن مال کے اعتبار سے کافی امیر ملک ہے اس لئے وہ اس قسم کے سکیورٹی اقدامات کر سکتا ہے۔
پاکستان خودکش حملہ آوروں کو روکنے کے لئے اگر دیوار کھڑی کرنے کا سوچے بھی تو آخر کہاں کہاں؟
آخر میں چلتے چلتے میرے یہودی میزبانوں نے کہا کہ اسرائیلی شہریوں کو جان سے مارنے والے تو اکثر فلسطینی خودکش حملہ آور رہے ہیں لیکن انہیں یہ سمجھ نہیں آتا کہ پاکستان میں مسلمان مسلمانوں کو کیوں مار رہے ہیں؟
میں نے کہا اس کا جواب خاصا مشکل ہے۔ بس یوں سمجھ لیجیئے کہ جب کوئی ملک اپنے پڑوسی حریف ملکوں سے نمٹنے کے لئے بیرونی امداد سے جہادی میزائیل تیار کرنے میں لگ جاتے ہیں تو وہ کبھی کبھی بھول جاتے ہیں کہ بعض اوقات جہادی فیکٹریوں سے نکلنے والے میزائل آپ کے اپنے گلے پڑ جاتے ہیں۔

~RS~q~RS~~RS~z~RS~00~RS~)
تبصرےتبصرہ کریں
اسرائیليوں کو خوش کرنے کيلۓ اپنے آپ کو بھت ذيادہ نيھچی دکھانے کی ضرورت نھيں ھے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
ہمیشہ کی طرح اسرائیلوں کا مظلومیت پہ مبنی نقطہ نظر پیش کرنے کی بی بی سی کی ایک مذید کوشش ہے۔ اس بار فرق صرف اتنا پے کہ اس دفعہ بی بی سی نے ایک سابقہ پاکستانی کے منہ سے وہ سب کچھ دہروایا ہے۔ جو وہ پہلے دوسروں سے کہلواتے آئے ہیں۔ مثال کے طور پہ فلسطینیوں کو جانائز طور پہ انھی کے ملک اور زمینوں پہ ایک نیے اپارٹ ہیڈ کے تحت محبوس کرنے کو جائز قرار دینے کی یہ بی بی سی کی اپنی سی کوشش ہے۔
ناجائز کو دنیا بھر کے کی دلیلوں سے جائز ثابت نہیں کیا جاسکتا۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
بھترين مشاھدہ ھے
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
شا ہ زیب، بہت اچھا کیا یہ دورہ کیا۔امید ہے پاکستان کے قارئین یہ تحریر ضرور پڑھیں گے تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ اسرائیل میں ہمارے جیسے ہی انسان رہتے ہیں۔ اسرائیل ایک حقیقت ہے اور ہمارے تسلیم کرنے یا نہ کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
علی ڈار
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
بدل کر بھیس ھم فقیروں کا غالب تماشاۓ اھل کرم دیکھتے ہیں
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
عوام سے عوام کی ہمدردی آپ کو اسراءيل ميں پاکستان کے لےء کيا بلکہ دنيا کے ہر خطے ميں آپ کو ملی گی ۔ عوامي ھمدردی رنگ، نسل، زبان، مذہب اور جغرافيہ سے بالاتر ہوتی ہےِِـ يہ تو ايک مخصوص ٹولہ اپنی ذاتی مقاصد کے ليے ان چيزوں کو ھتکنڈوں کے طور پر استعمال کرتے ہيںـ
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
مجھے خوشی ہوئی کہ ایک پاکستانی اسرائیل کے دورے پر ہے۔میرے خیال میں پاکستان کو اسرائیل کو تسلیم کر ہی لینا چاہیئے کیونکہ اسرائیل ایک حقییقت ہے۔
عمران قیوم
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
واہ شاہ زیب صاحب یہودیوں کانمک کھا کر آپ یہ ساری باتیں کیسے بھول گئے اور ان سے یہ سب کیوں نہیں پوچھااور آپ نے اسرائیل کو کیوں نہیں بتایا کہ موساعد پاکستان میں کیا کارروائیاں کر رہی ہے اور یہ کہ جہادی فیکٹریاں امریکہ کی بنائی ہوئی ہیں۔
اس کے علاوہ مجھے بی بی سی سے یہ ضرور کہنا ہے کہ جانے یہودیوں کے خلاف کتنے تبصروں کو آپ نے جان بوجھ کر رد کر دیا ہے تاکہ وہ چھپ نہ سکیں اورلوگوں کو مخالف نقطہ نظر کا اندازہ نہ ہو سکے لیکن اس کے باوجود ہمیں اپنی بات کہنے سے نہیں روکا جا سکتا اور ہم بی بی سی کی پالیسیوں کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے رہیں گے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
آپ کہنا کیا چاہتے ہیں کہ یہودی بہت اچھی قوم ہیں؟ ناجائز کو دنیا بھر کی دلیلوں سے جائز ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
اقبال خان
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
بهت برا لكا
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
مجھے سمجھ نہیں آتی کہ آخر ہم فلسطین کے بارے میں اتنے جزباتی کیوں ھیں یہ تو عربوں کا خاندانی مسئلہ ہے اور وہ خود بھی اسکو مانتے ھیں اور اسی لئے تو مسلمان اور عیسائی عرب اسمیں شانہ بشانہ ہیں ھم پتہ نہیں کیوں دوسروں کے مسائل میں ٹانگ اڑانے کے اتنے شوقین ھیں حالانکہ اپنے تو حل نہیں ہو ر ہے ۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
ايک بات تو طے ہے کہ ان صفحات پر ہم قارئين کو اظہار راۓ کی سہولت کی طرح آپ کا يہ دورہ بھی کسي کی تفنن طبع کے لۓ نہيں ہے - اس تمام سرمايہ کاري کا مقصد ہماري نبض پر ہاتھ رکھتے ہوۓ ہميں متوقع تبديليوں کے لۓ ہموار کرنا ہے- عالمي طاقتوں کے منصوبے تو وہي جانيں - راقم کے نزديک اس مسئلےکا سادہ اور بہترين حل اسے تينوں مذاہب کے پيروکاروں کی مشترکہ تحويل ميں دے کر يروشلم کو ايک کھلا شہر قرار دے دينا ہے -
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard