قصور ہمارا ہے یا ٹی وی کا؟
گھر میں بچوں سے کل رات لڑائی ہوگئی۔ یہ شاید آج کل ہر گھر کی کہانی ہے۔ کشیدگی یقیناً ریمورٹ پر ہوئی لیکن اس کی وجہ ان بچوں کا آج کل کا کریز ہے۔
ان پر آج کل بھارتی ٹی وی سیریز 'سی آئی ڈی' کا جنون سوار ہے۔ دن رات کئی کئی گھٹنے یہ پروگرام دکھائے جا رہے ہیں۔ بچے تو جیسے ٹی وی سکرین سے چپک جاتے ہیں۔ پہلے ہفتے میں ایک دن چلتا تھا اب روزانہ بلکہ دن میں اوپر نیچے کئی کئی گھنٹے چلتا ہے۔ کسی طرح مین کردار اے سی پی پرتومن انتہائی سنسنی خیز انداز میں قتل کے واقعات عقل سے حل کرتے ہیں۔ اس طرح کی 'گروسم' تفصیل بھی کہ کس طرح گولی سر میں لگی اور کس طرح زخمی ٹانگ کاٹی گئی۔
جب میں نے نیوز چینل دیکھنے کا اصرار کیا اور جواز یہ دیا کہ وہ کیا ہر وقت لڑائی خون خرابہ والے ڈرامے دیکھتے رہتے ہو۔ اس سے کیا سبق ملے گا؟ تو ان کا جواب تھا جو نیوز چینلز آپ دیکھتے ہیں ان پر بھی تو یہی خون خرابہ اور ہلاکتیں ہی دکھائی جاتی ہیں۔ بعض چینل کے جذباتی کیمرہ مین تو آپریشن تھیٹر میں گھس کر وہاں زخمیوں کو لگائے جانے والے ٹانکے تک دکھا دیتے ہیں۔ خودکش حملے، کار حملے، بم دھماکے سب روزانہ کا معمول بن چکے ہیں۔ میں اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ ان کو کیا جواب دیتا؟ ریمورٹ انہیں تھماتے ہوئے ہار مان لی۔ قصور ہمارا ہے یا ٹی وی کا؟

~RS~q~RS~~RS~z~RS~08~RS~)
تبصرےتبصرہ کریں
‘وقت سے پہلے بچوں نے چہروں پہ بڑھاپا اوڑھ لیا
تتلی بن کر اُڑنے والے سوچ میں ڈوبے رہتے ہیں
فارغ کیسے دَور میں یہ تاریخ ہمیں لے آئی ہے
اپنے دُکھ بھی سہتے ہیں، تاریخ کے دُکھ بھی سہتے ہیں‘
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
جناب قصور کيبل کا ہے مجھے خود اس کا تجربہ ہوا ہے بچوں اور ميرے درميان کشيدگی کا بڑا سبب چينل سليلکشن ہی تھی ليکن بھلا ہو بجلی کی کمی بيشی کا کہ ميرا ٹی وی اس کی نظر گيا اب تين ماہ سے سکون ہی سکون ہے ہم ٹی وي کے بغير بھی رہ سکتے ہيں بی بی سی ويب ساٹ اور ايف ايم پر بھی اس کی نشريات نے مجھے ٹی وی کی کمی محسوس نہيں ہونے دی بچے کمپيو ٹر گيم سے خوش ہيں لہذہ کشيدگی کی جڑ ہی ختم کر ديں.
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
سبقت لے جانے کے شوق ميں ميڈيا والوں کا بس چلے تو وہ لوگوں کے سينے چير کر دلوں کی دھڑکن بند ہوتی بھی دکھا ديں۔ ديکھو اسکو گولی لگي، يہ تڑپ رہا ہے، ديکھو اسکا خون بہہ رہا ہے، ديکھو اسکے دل کو خون نہيں مل رہا ہےـ ديکھو يہ مر رہا ہے اور يہ تڑپ تڑپ کر مر گيا ہے۔ حکومت کا کوئی اہلکار نہيں پہنچاـ ہم سب سے پہلے پہنچے ہيں اور ہم نے آپ کو يہ سب براہ راست دکھا ديا ہے۔ آپ نے خود اپنی آنکھوں سے ديکھا کہ يہ شخص کيسے تڑپ تڑپ کرمر گيا۔ دوبارہ ديکھيے اسکی روح کس طرح اسکے جسم سے نکلي۔ ليکن حکومت کا کوئی اہلکار ابھی تک نہيں پہنچا۔ شايد حکومت بھی مرگئی ہےـ
چوبيس گھنٹے لگا تار ايسا ہی کچھ ہوتا رہے تو ۔۔۔ شايد کبھی کوئی ذہنی امراض کا ماہر کہہ دے کہ پاکستانی ميڈيا نے کمال کر ديا ہے۔ لوگوں کے دلوں سے تمام خوف نکال ديے ہيں۔ ميڈيا کی اس آذادی پر کوئی حرف نہيں آنا چاہيے۔ يہ تو سچ کےرکھوالے ہيں ۔جسکو سچ نہيں پسند وہ ہر طرح کے ميڈيا سے دور رہے۔ بار بار نئےدھماکے کی تلاش ميں بي بی سی کی ويب سائيٹ ريفريش نہ کرے۔ ميانہ روی اختيار کرے اور سارا دن پريشان رہنا چھوڑ دے۔
معاف کرنا دل کی بھڑاس ہے کہ نکلتی ہی نہيں۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
آپ تو خوش نصيب ہے جو اتنے سمجھدار بچے ہيں کيونکہ ميں خود بھی انتہائ شوقين ہوں بلکہ اس سی آئ ڈی کی سيريئل واچر ہوں، غلطی جس کی بھی ہے ليکن اس ميں سی آئ ڈی اور سر پرتومن کا کوئ قصور نہيں، يہ سوال ان کيمرمين اور رپورٹرز سے کريں جن کا بس چلے تو خودکش بمبار کے دھماکہ کرنے سے پہلے اسکی نوعيت پوچھ ليں ہلاکتوں سميت اگر ہم لوگوں سے ہی سوال پوچھنے ہيں تو پھر ماہر تجزيہ نگار و دفاعی امور کيا کريں گے ؟
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
اسلام ميں اس بات کا حکم نہيں ديا گيا ہے کہ بقرعيد پر جانوروں کی قربانی معصوم بچوں کے سامنے کريں
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
ہارون مسلہ تب شروع ہوتا جب آپ حد کراس کرتے ہیں۔ پاکستانی میڈیا نے تمام حدیں کراس کر لی ہیں۔ ہر میزبان سمجھتا ہے کہ وہ تمام پاکستان کی نمائندگی کر رہا ہے۔ لوگ ان ٹاک شوز سے تنگ آچکے ہیں۔
اکثر پاکستانیوں کو نہیں معلوم ان کا میڈیا کس جانب جا رہا ہے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
دونوں ان چینلوں سے پرہیز کرو۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
یہ بات درست ہے کہ ٹی وی چینلز پر آج کل خون خرابے کے علاوہ کچھ نہیں ہے اخبارات اور ٹی وی چینلز ٹینشن کے علاوہ کچہ نہیں اگرچہ میرا تعلق بھی اس شعبے سے ہے لیکن گھر جانے کے بعد تفریح چینل ہئ دیکھتے ہیں میرے خیال میں میڈیا سے تعلق رکھنے والوں کو ضابطہ اخلاق بنانا چاہیے تاکہ آج کل حالات میں عوام خبروں کے زریعے خوف کم دیں
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
پاکستان کا میڈیا آزادی کے اس مقام پر جا پہنچا یے جہاں اب سب کچھ دیکھانا ممکن یے۔ افسوس کی عوام ابھی زہنی طور پر بالغ نہ ہوے تھے کہ آزاد میڈیا نے اکژیت کے ازہان کو قابو کرلیا،اب جس موقف کا پرچار کیا جاے گاسادہ لوح عوام اس سچ کو ہی سچ مانیں گے۔
اب یہ کون طے کرے کہ کیا سچ ہے اور کیا سچ کہ نام پر دھوکا۔۔۔۔۔۔۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
میرے خیال میں آپ اپنے بلاگ کے لیے مناسب موضوع نہیں تھا اس لیے اپنی روزی روٹی کی خاطر یہ لکھا؟
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
یہ جو پاکستان میں ہو رہا ہے اس کا ذمہ دار زرداری ہیں، بھارت ہے یا پھر پاکستانیفوج؟ پیپلز پارٹی کو تو ہر وقت پھنسا کر رکھا جاتا ہے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
‘قصوروار نہ طوفان تھا، نہ پانی ہے
کہ ان کا شہر ہی دریا کی رہ گذر پر تھا‘
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
ہارون رشید صاحب بلکل درست فرمایا آپ نے، میڈیا ناظرین کی توجہ حاصل کرنے کے لئے تمام ضابطہ اخلاق کو بالاطاق رکھتے ہوے اکثر اوقات بہت کچھ دکھا جاتا ہے، اور اس عمل سے دہشت گرد دھرا فائدہ اٹھاتے ہیں، وہ اپنے ایک عمل سے بیک وقت پورے ملک کے اوم کو دہشت ذدہَ کرنے مے کامیاب ہو جاتے ہیں،،، اسے بند ہونا چاہئے،،،
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
ٹی وی کا قصور ہے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
جناب کچھ اسی قسم کی صورت حال کا سامنا کچھ ہميں بھی تھا-رات ميں جب وقت ملتا تو ہمارے گھر کو بھی ميرے اور چھوٹے بھائ کے درميان محاز آرائ کا سامنا ہوتا - ميں کہتا کہ نيوز چينل پر ”لال پٹي” چل رہی ہے تو جواب ملتا کہ وہ تو ہر وقت چلتی ہے -بہر حال اب صورت حال کنٹرول ميں ہے اور اب ہم دونوں مل کر سی آئ ڈی ديکھتے ہيں اور وقفے کے دوران ميں جلدی جلدی نيوز چينل لگاديتا ہوں کہ” کتنے ہوگۓ”- ويسے بھی اے سی پی کيس حل تو کرتا ہے اور آخر ميں ” تمھيں ضرور پھانسی ہوگي” کہہ کر فيصلہ بھی صادر کرديتا ہے- يہاں تو سرے سے کيس حل ہی نہيں ہوتے،بلکہ شروع ہی نہيں ہوتے اللہ اللہ کرکے مناواں حملے والا ايک کيس حل ہوا اور شدت پسند کو ملی ”دس سجل قيد بامشقت” وہ بھی قانونی موشگافيوں کے نتيجے ميں پانچ سال ہوجاۓ گی -
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard