کوے کو شور میں مزہ
کئي دن ہوئے کہ اخبار 'فرنٹیئر پوسٹ' میں کارٹونسٹ ظہور کا ایک کارٹون چھپا تھا کہ ایک مفلوک الحال چیتھڑوں میں ملبوس فاقہ کش آدمی کے منہ تک آتے آتے کانٹے میں لگی روٹی کا ٹکڑا ایک فوجی ہاتھ چھین رہا ہے۔ یہ کارٹون نواز شریف دور حکومت میں سول اداروں کو فوج کے حوالے کرنے پر ایک طنز تھا۔
پھر آپ نے دیکھا کہ اخبار 'فرنٹیئر پوسٹ' کے مالک رحمت شاہ آفریدی کو کچھ دنوں بعد جیل بھجوانے والے وزیر اعظم نواز شریف خود بھی تختہ دار کو چھوتے چھوتے واپس 'چلے' گئے۔
کہتے ہیں کہ رحمت شاہ کا اصل جرم ان کے اخبار کے وہ پنگے تھے جو وہ ضیاالحق کی فوجی آمریت سے لے کر نواز شریف کی سول آمریت تک لیتے آئے تھے۔ اب نواز شریف جمہوریت کے بھولو پہلوان بنے ہوئے ہیں۔ لیکن غریب عوام کے منہ تک آتے نوالے پر فوجی ہاتھ اب بھی ایک سوال بنا ہوا ہے۔
وہ کارٹون مجھے حال ہی میں امریکہ کی طرف سے پاکستان کو کیری لوگر بل کے نام پر ملنے والی غیر فوجی امداد پر اٹھنے والے طوفان پر یاد آیا۔
کور کمانڈروں کی پارلیمینٹ نے امریکہ کی طرف سے پاکستان کی غیر فوجی امداد کے کیری لوگر بل پر اپنے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے یعنی کہ وہ افسانہ جس کا ذکر پوری دنیا میں ہے اس کی بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے۔
ناگوار گزرتی ہے آپ کو آپ کے پڑوسی کی بات کہ اس کے بچے کو آّپ کے کتے نے کاٹا ہے اور آپ اسے زنجیر میں باندھ کر رکھیں۔
غیرت کا تقاضا ہے کہ امریکی ڈالر چاہيں لیکن غیر مشروط۔ ایٹم بم فیکٹریاں غیر مشروط۔ ممبئی تک مار کرنے والے فلاحی ادارے غیر مشروط۔ لگتا ہے ٹرپل ون بریگيڈ، ملا بریگيڈ اور میڈيا بریگيڈ 'ہم سب ہوں گے کامیاب ایک دن' گانے میں لگے ہوئے ہیں۔ سندھی میں کہتے ہیں کوے کو شور میں مزہ آتا ہے۔
ایوب خان کے دنوں میں جب غریب سکولوں کے بچوں میں امریکی خشک دودھ بانٹا جاتا تھا تو یہ مولوی کہتے تھے کہ 'یہ دودھ بچوں کو مت لینے دو کہ یہ سورنی کا دودھ ہے۔' ایٹم بم کے برابر خطرناک آبادی کے بم کو روکنے کے لیے جب امریکی امداد سے خاندانی منصوبہ بندی کی گئی تو کہتے تھے کہ 'قوم کے مردوں کو خصی بنانے کی سازش ہے۔' جب ذوالفقار علی بھٹو نے سوشلزم کا نعرہ دیا تو کہتے تھے 'سوشلزم کا مقصد بھائی کی بہن سے شادی' اور اب کیری لوگر بل ایک اور سقوط ڈھاکہ۔

~RS~q~RS~~RS~z~RS~10~RS~)
تبصرےتبصرہ کریں
محترم حسن مجتبٰی صاحب، اسلام علیکم!
(یہ تبصرہ صرف یہ چیک کرنے کے لیے بھیجا جا رہا ہے کہ آیا بی بی سی تک پہنچتا بھی ہے یا رستے ہی میں ‘طالبانوں‘ کے ہاتھ لگ جاتا ہے کہ اس سے پہلے کیری لوگر بل پر اور بلاگز پر تبصرے بھیجے گئے لیکن وہ نظر نہیں آ رہے)
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
حسن صاحب اپنی تو حسرت ہی ہے کہ کبھی کوی کام کا بلاگ آپ کی طرف سے پڑھنے کو ملے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
بھائی جان آپکی ڈکشنری میں غیرت کا بھی کوئی لفظ ہے کہ نہیں؟ میں آپ کو انگلش کے کتنے محاورے بتائوں جن سے میں گوروں کی بھی طبعیت صاف کرسکتا ہوں ۔ برائے مہربانی اس شیشے کی ایک سائیڈ کو۔ ہی نہ دیکھیں
اس شیشے کی دوسری سائیڈ سے منظر کچھ اور ہی نظر آتا ہے۔
عرفان شوکت
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
زیر بلاگ دو ایک تبصرے اسی جہالت کا زبردست مظہر ہیں جسکا ذکر آپ نے نے اپنے اسی بلآگ میں کیا ہے۔ کچھ روز قبل اپنے ایک دوست سے میں نے تشویش سے پوچھا تھا کہ پاکستان کا بنے گا کیا ؟ تو پتہ ہے میرے دوست کا جواب کیا تھا؟ میرے دوست نے کہا تھاکہ اس ملک کو ایک بار سرے سے ہی ختم کر کرکے پھر سے بنانا پڑے گا۔ لیکن حیرت اس بات کی ہے کہ پاکستان جس افسوسناک صورت حال سے گذر رہا ہے اس سےوہ کچھ سیکھنے کو تیار نظر نہیں آتا۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
حسن صاحب! آپ کبھی کسی چيز ميں سے کوئی مثبت پہلو بھي نکالنے کی کوشش کريں۔ براہِ مہربانی يہ سمجہنا بھی چھوڑ ديں کہ آپ کے علاوہ کسی کے دل ميں اس ملک اور قوم کا درد نہيں ہے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
پتہ نہیں اس اللہ کے بندے کا یہ سب کچھ لکھنے کا مقصد کیا تھا اور اس کو بی بی سی پر اس طرح کی بے تکی بات لکھنے کی اجازت کس نے دی ؟ بالکل ہی بے مقصد اور بےتکا۔۔۔اللہ ہی حافظ ہو ان کا۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
ڈکٹیٹر مشرف کے آٹھ سالہ دور حکومت میں میں فوج نے تمام امداد حاصل کی اور اس نے ایک لحظے کیلیے بھی نہیں سوچا کہ اس سے پاکستان کے غریب عوام میں غیریقینی اور نا اتفاقی پیدا ہوسکتی ہے جس سے لوگوں کے مصائب مسائل اضافہ ہوگآ۔ اور اب جب انہوں نے خود پر ذرا سا بھی 'چیک و بئلینس' محسوس کیا ہے تو اب وہ کیری لوگر بل میں سے ایک بڑا ایشو بنا رہے ہیں جو کہ پاکستان کے لوگوں کے ساتھ بڑی نا ناصافی ہوگي اگر انہیں اس بڑی غیر فوجی امداد سے محروم کر دیا جائے۔فوج جو چیز بھی جاہے لے رہی ہے چاہے پھر ایسی امداد ہی کیوں نہ ہو جسکی بیناد پورے ملک کیی تباہی پر
رکھی ہو
لیکن جب کوئی چيز انکی منشا کے بغیر ہور ہی ہو تو پھر فوج اسے پاکستان کی سالمیت کلیے خطرہ قرارد دے دیتی ہے۔ کیا نہ دوہرا معیار ہے؟
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
جناب مودبانہ گزارش ہے کہ جس کیری لوگر بل کی اپ اتنی تعریف کر رہے ہیں وہ ہمیں ہی نہیں دنیا کی کسی بھی قوم کو موجود شرائط کے ساتھ قبول نہیں ہو گا۔ اس بل کی مخالفت اس کے غیر فوجی ہونے پر نہیں بلکہ اس کے تحت لگائی گئی غیر قانونی شرائط کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں جنھہیں خود امریکی سفیر نے اپنے ٹی وی انٹرویو میں غلط تسلیم کیا ہے۔ اور آپ یہ بھی یاد رکھیں کہ اس رقم کا بڑا حصہ تو خود امریکی اداروں کی فیسوں کی مد میں خرچ ہو جائے گا اور پاکستان کو کچھ نہیں ملے گا حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نے ہمیں دھوکہ دیا ہے۔ قومی غیرت کا تقاضا ہے کہ ہم اس امداد کو ٹھوکر مار دیں۔ ویسے بھی ہم نے امریکہ کیلئے جو کچھ کیا اس کے بدلے میں یہ رقم اونٹ کے منہ میں زیرے سے بھی کم ہےاوریہ رقم تو افغانستان مںں امریکی فوج کا صرف ایک ہفتے کا خرچہ ہے۔ کیری لوگر بل کے ذریعے پاکستان کوذلیل کیا گیا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ ایک بے اعتبار ملک ہے ہم یہ توہین برداشت نہیں کر سکتے۔ ذرا بتائیے حسن صاحب ! اسرائیل کو امریکہ ہر سال تئیس ارب ڈالر امداد دیتا ہے اور بدلے میں کوئی شرائط نہیں لگاتا وہ امریکہ کا نان نیٹو اتحادی ہے اور ہم بھی پھر ہمارے ساتھ یہ دوغلا سلوک کیوں؟ ذرا غور کیجئے گا
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا بی بی سی میں اس سچ کو شائع کرنے کا حوصلہ ہے یا نہیں۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
اگر يہ اتنی ہی مخلصانہ کوشش تھی تو بس اتنا کافی تھا کہ يہ سولين امداد فوج پر خرچ نہیں کی جاے گی انڈيا کے ساتھ معاہدے ميں يہ کيوں نہیں کہتے کہ وہ پاکستان ميں دخل اندازی نہیں کرے گا- اب يہ مت کہنا کہ ايسا ہوتا ہی نہيں۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
آپ نے مجھے لکھنے پر مجور کیا لیکن آپ نے لکھنے آپ نے
اسکے بعد لکھنے کیلیے کچـھ چوڑا ہی نہیں جب آپ نے یہ تین الفاظ
ملٹری بریگیڈ، ملاں بریگيڈ اور میڈیا بریگیڈ استعمال کیے ہیں۔ ان تینوں کے بعد کوئي ب پیچھے بچتا ہی نہیں جسکا ملک کی تباہی کے پیچھے ایک فی صد بھی ہاتھ ہو۔ یہ تینوں آپس میں نتھی ہیں۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
جن لوگوں کو یە بلاگ سمجه میں نہیں آتا ان سے گزارش ہے کە وە معاشرتی علوم کی کتابیں چهوڑ کر پاکستان کی اصلی تاریخ کا مطا لعە کریں کیونکە اس بلاگ کی ہرایک سطرمیں پاکستان کی تاریخ کی کئی کئی دہائیوں کے ایسے راز چهپےہیں جو سرکاری نصابوں میں نە تو کبهی چهپے ہیں اور ہی چهپیں گے۔ مسلسل انکار کی کیفیت میں رہنے والے یە لوگ اس بلاگ کو نەیں سمجه سکتے۔ 'ممبئی تک مار کرنے والے فلاحی ادارے' ایک دن انہی لوگوں کے گهروں میں گهس کر ان کو دوبارە سے مسلمان کریں گے تو شاید تب سمجه میں آئے کە مذہب کے نام کیوں پالا تها انہیں جن کےمنە کو خون لگا ہواہے۔ جن بهی لوگوں کے دلوں میں اچانک سے کیری لوگر بل پر پاکستان کے لئے پیار جاگا ہےکیا انہوں نےوە بل پڑہے ەیں جو مشرف دور میں پاس کئے گئے تهے۔ ہرایک بل میں بالکل یہی شرائط موجود ہیں ایک سادە سا سوال اس وقت یە کروڑ کمانڈر کہااں تهے؟؟؟؟؟؟
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
ہميشہ کی طرح بہت اعلی و زبردست بلاگ۔ جسے نہيں پتہ کيری لوگر بل کا صرف يہ پڑھ ليں ايک بلاگ ہی کافی ہے سمجھنے کيلۓ، آئ لو يو مجتبی انکل
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
سلام وعیلکم
لوگو اصل میں حسن مجتبی جیسے لوگوں کا مسئلہ یہ ہےکہ وہ اپنے ادارے کے ساتھ ساتھ کسی اور کے بھی پے رول پر ہوتے ہیں۔ انکو یہ ٹاسک ملا ہوتا ہے کہ اس طرح کی تحریر سے لوگوں کا مائنڈ سیٹ پاکستان خاص کر کر اسلام کیخلاف بنایا جائے یہ کوئي فرسٹ ٹائم
نہیں ہورہا۔ تاریخ بھری پڑی ہے اسطرح کے آستین کے سانپوں سے۔پاکستان میں بھی ایسے بہت لوگ مل سکتے ہیں۔ اور تاریخ بھی انکو کبھی نہیں بھولی۔افسوس مسلمانوں کو جب بھی شکست ہوئی ہے ایسے لوگوں کی وجہ سے ہوئي ہے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard