ایک حالیہ واقعہ اور تیس سال پہلی نظم
بریگیڈئیر بلاّ جسے کچھ بھنائے ہوئے کالمسٹ بھاگڑ بلا بھی کہنے لگے ہیں ٹی وی شوز کی رونقیں بڑھانے کے بعد، پوری قوم کو آئینہ دکھانے کے بعد یا 170 ملین لوگوں کو دور فٹے منہ کہنے کے بعد آہستہ آہستہ میڈیا سے غائب ہو جائیں گے۔
انہوں نے غلطیاں کی ہیں لیکن قوم سے معافی نہیں مانگیں گے کیونکہ اپنے ضمیر کی عدالت میں وہ بےگناہ ہے۔ جس ضمیر کی پرورش خفیہ اداروں کے خفیہ فنڈوں پر ہوئی ہو، جو ضمیر سرکاری ٹارچر سیلوں میں معصوم نوجوانوں کا خون پی کر پلا بڑھا ہو وہ ایسا ہی فیصلہ سنائے گا، اور چونکہ ان کا ضمیر فیصلہ سنا چکا اس لیے کہنے کو کچھ زیادہ نہیں بچا۔ اس لیے کراچی کے ایک نیوز روم میں پیش آنے والا ایک حالیہ واقعہ اور تیس سال پہلے لکھی گئی ایک نظم۔
بالی وڈ کی اصطلاح میں اپنے آپ کو ہر ٹیلیویژن چینل پر 'ایکسپوز' کرنے کے بعد جب بریگیڈئیر بلا کراچی کے ایک بڑے ٹی وی سٹیشن پر پہنچے تو انٹرویو کرنے والے صاحب نے کہا کہ 'بریگیڈئیر صاحب کوئی ایسا انکشاف کر دیں جو آپ نے پہلے نہ کیا ہو۔' بریگیڈئیر بلا نے ایسے صحافیوں کی ایک فہرست سنا دی جو ان کی ایجنسی کے پےرول پر تھے۔ اس فہرست میں پاکستان کے ایک موجودہ سفیر کا نام بھی شامل تھا۔ چینل کے مالک نے ادارتی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ فہرست رکوا دی۔
اگست 1980 میں کرنل امتیاز کے ہاتھوں گرفتاری، اور اس کے بعد عقوبت خانے میں موت کے بعد نذیر عباسی کے بارے میں سندھ ہائی کورٹ کو بتایا گیا، وہاں فہمیدہ ریاض بھی موجود تھیں۔ اے کاش کوئی ٹی وی میزبان بریگیڈئیرامتیاز کو ان کی یہ نظم سناتا۔
ایوان عدالت میں
پتھرائی ہوئی آنکھیں
پتھرائے ہوئے چہرے
پتھرائی ہوئی سانسیس
چمڑے کی زبانوں پر
پتھرائی ہوئی باتیں
فریاد کٹہرے میں
رو رو کے تڑپتی تھی
قانون کے رکھوالے
کل لے کے گئے جس کو
اب اس کو یہاں لائیں
وہ نعش تو دکھلائیں ۔۔۔
پتھرائے ہوئے چہرے
پتھرائی ہوئی آنکھیں
چمڑے کی زبانوں پر
لچکی ہوئی کچھ باتیں
پتھر کہ جو چکنے تھے
ہاتھوں سے پھسلتے تھے
قانون کے نکتے تھے
کیا لوگ سمجھتے تھے
'سنگیں مجبوری ہے
درخواست ادھوری ہے‛
پتھرائے ہوئے دلوں میں تو
بس ریت برستی تھی
ہر آنکھ کہ پتھر تھی
اشکوں کو ترستی تھی
یکدم کوئی دل دھڑکا
شعلہ سا کہیں بھڑکا
جب تک کوئی سمجھے
لو پھوٹ بہے دھارے
آوازیں ملیں باہم
اور گونج اٹھے نعرے
معصوم سی جانوں کے
بے تاب جوانوں کے
کیا شور لہو کا تھا
کیا گونج تھی نعروں میں
ایوان عدالت میں
پتھرائے ہوئے کمرے
دم روک کے سنتے تھے
جب سرخ سلام آیا
مقتول کا نام آیا
گھونسہ سا لگا دل پر
آنکھوں سے لہو پھوٹا
جیتے رہو دل والو
پتھر تو کوئی ٹوٹا

~RS~q~RS~~RS~z~RS~18~RS~)
تبصرےتبصرہ کریں
‘میں کس کے ہاتھوں پہ لہو تلاش کروں
کہ سارے شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے‘
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
افسوس نيوز چينلز والوں پر، ان کے ضمير کيا تيل لينے گئے ہیں؟ نذیر عباسی کی بيوہ کی نيوز کانفرنس تو دکھائی نہیں اور دکھائی بھی تو تيزگام کی طرح، شرم کرو۔۔۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
’اے کيس آف ايکسپلوڈنگ مينگوز‘ کے علي شگري کی درگت کے مناظر ياد آ گئے۔ اب تو مان ليجيۓ وہ ناول نہيں بلکہ ايک سچي داستان خونچکاں ہے، جناب محمد حنيف صاحب۔۔۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
’چینل کے مالک نے ادارتی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ فہرست رکوا دی۔‘
چینل مالکان کی ادارتی ذمہ داری اس وقت کہاں چلی جاتی ہے جب سیاستدانوں، فوجیوں، فنکاروں وغیرہ کی ٹی وی پر پگڑیاں اچھل رہی ہوتی ہیں۔۔۔ ساری پردہ پوشی کے حقدار بس صحافی ہی ہیں؟
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
اس گنگا ميں سب ايک ہيں۔ شريف صرف وہ ہے جس کو چوری کا موقع نہيں ملا يا بڑے چوروں نے لفٹ نہيں کروائی۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
ويسے ايک بات کا آج پتا چلا کہ غلطياں صرف دوسروں ميں ہی نظر آتی ہيں اگر دوسرے کريں غلطی تو اُن کی پگڑی اچھالنا صحافتی ذمہ داری اور اگر خود کريں تو اس کو چھپانا بھی صحافتی ذمہ داري۔ بڑي بات ہے جی۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
آپ کيوں نہيں يہ لسٹ بريگيڈير امتياز سے لے کر چھاپ ديتے؟ اگر ’صحافتی ذمہ دارياں‘ آڑے نہ آئيں تو۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
پاکستانی سسٹم ميں فوج يا پوليس ميں سپاہی بننے کا مطلب ہے کہ آپ ہی سب سياہ و سفيد کے مالک ہيں، کوئی آپ کو چيلنج نہيں کرسکتا يعنی آپ چلتا پھرتا قانون ہيں۔ اس ليے بلا صاحب نے جو کيا وہ اس پہ کيوں پچھتاوا يا معافی مانگيں۔ کبھی ديوتاؤں نے بھی معافی مانگی ہے۔ قصور تو ہم لوگوں کا بھی ہے جو کہ فرقوں ميں بٹے ہوئے ہيں اور ملاؤں کو اپنا رہبر مانتے ہيں۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
صحافی برادری کا احتساب وقت کی ضرورت ہے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard