پاکستان انڈیا بیان بازی
انڈیا پاکستان میں بیان بازی کا رکا ہوا سلسلہ جب بھی شروع ہوتا ہے دماغ میں خطرے کے سائرن بج اٹھتے ہیں۔ خدشہ یہ ہے کہ بیان بازی کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے لوگوں میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی شدید خواہش کی آبیاری شروع ہو جاتی ہے۔
قیمتی وقت اور وسائل اپنا کام کرنے کی بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور دوسرے کی ہار کی تمنا میں ضائع ہو جاتے ہیں۔ نقصان اس میں دونوں کا ہوتا ہے، لیکن اس وقت پاکستانیوں کی نسبت انڈیا والے شاید یہ بوجھ اٹھانےکے زیادہ متحمل ہیں۔
سیاسی عمل جاری رہنے کی وجہ سے انڈیا کے ادارے مضبوط ہوتے گئے اور
انڈیا میں اب اقتدار ان طبقات تک بھی پہنچ چکا ہے جو ہزاروں سال سے پچھڑے ہوئے تھے۔ پاکستان میں سن پچاسی کے بعد سے آٹھ بار انتخابات ہوئے لیکن ایک بار کے سوا ہمیشہ حکومت کا تختہ الٹا گیا اور کبھی لوگوں کو فیصلہ سنانے کا موقع نہیں ملا۔
انتخابات کی وجہ سے انڈیا میں لوگوں کو ساتھ رکھنے کے لیے سیاستدانوں نے غیر معمولی اقدامات کیے اور لوگوں کا فائدہ ہوتا چلا گیا۔ پاکستان میں بیرونی سازشوں سے نمٹنے کے نام پر لوگوں نے سیاست میں ہر مداخلت برداشت کی۔انڈیا کی مختلف ریاستوں میں فلاحی کاموں کی مختلف مثالیں ملتی ہیں۔
انڈیا میں انتخابات کے دوران تمل ناڈو میں مجھے بتایا گیا کہ ماضی میں قانون بنایا گیا تھا کہ ہر اس طالب علم کو جس کے گھر میں پہلے کوئی پڑھا لکھا شخص نہیں مقابلے کے امتحان میں پانچ اضافی نمبر ملیں گے۔ ایک پروفیسر نے بتایا کہ یہ قانون بعد میں ہائی کورٹ نے ختم کر دیا لیکن اس دوران ایک یا دو مقابلے کے امتحان ہوئے جس میں پچھڑی ہوئی ذاتوں کے بچوں کو بہت فائدہ ہوا۔
اسی طرح خواتین کی صورتحال میں بہتری کے لیے کسی ریاست میں لڑکی پیدا ہونے پر والدین کو پیسے ملتے ہیں، کہیں اس کے سکول میں داخلے پر اور کہیں شادی پر بھی پیسے دیے جاتے ہیں۔ کیرالہ میں ریاستی حکومت کی تعلیمی میدان میں مراعات کے سبب وہاں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شرح خواندگی ترانوے فیصد ہے۔ تمل ناڈو میں یہ شرح تہتر فیصد ہے۔
کیرالہ میں لوگوں نے بتایا کہ 'ہم ہر بار حکومت بدل دیتے ہیں تاکہ سیاستدان لاپروا نہ ہو جائیں'۔ کانگریس کی حالیہ انتخابات میں کامیابی کے لیے ان کی روزگار سکیم کا ہاتھ ہے جس کے تحت ریاست دیہات میں ہر شخص کے لیے روزگار فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے۔
ملک کی کسی ریاست میں ریٹائرمنٹ کی عمر میں پہنچنے پر یورپ کی فلاحی ریاستوں کی طرح لوگوں کو پنشن ملتی ہے تو کہیں انتخابی وعدے کے مطابق آٹا چاول اتنا سستا کے ہر شخص کی قوت خرید میں ہے۔ اسی طرح بچوں کو سکول میں کھانا بھی مفت ملتا ہے۔
انڈیا میں جہاں کسانوں کی خودکشیوں کی خبریں ملتی ہیں وہیں پنجاب میں کسانوں کے لیے بجلی پانی مفت ہے۔ پنجاب میں ایک پروفیسر نے بتایا کہ سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے کوئی حکومت یہ مراعات واپس لینے کا نہیں سوچ سکتی۔
انڈیا میں اقتدار کی تقسیم سیاسی میدان تک محدود نہیں بلکہ انتظامی امور میں بھی ہر طبقے کی شمولیت بنائی جا رہی ہے اور اب کئی برسوں سے وہاں سول سروس کا امتحان انگریزی کے علاوہ دوسری زبانوں میں بھی دیا جا سکتا ہے۔ اس طرح افسر بننے کے لیے انگریزی میڈیم ہونا ضروری نہیں رہا۔
پاکستان میں عوام کیونکہ حقیقت میں طاقت کا سرچشمہ نہیں بن سکے اس لیے انہیں کسی چیز میں حصہ نہیں ملا۔

~RS~q~RS~~RS~z~RS~58~RS~)
تبصرےتبصرہ کریں
چودھری صاحب ، قائدين نالائق ہوں تو انجام کار يہي ہوتا ہے کہ اِدھر ہاتھ پير جوڑے کھڑے ہيں اُدھر مزاج ہي نہيں ملتا ہے - چين نے ہانگ کانگ واپس ليا يا نہيں عزت وآبرو کے ساتھ - سمجھ سکيں تو اسی ميں سب کچھ رکھا ہے -
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
چوہدری صاحب، آپ نے اس بلاگ میں پاک بھارت کا جو تقابلی جائزہ لیا ہے وہ بہت ہی موزوں ترین اور عین درست ہے۔ یہ بھی بجا کہ پاکستانی قومی سلامتی کے نام پر آمریت برداشت کرتے رہے ہیں، لیکن دوسری طرف یہ بھی غلط نہیں ہے کہ انڈین دانستآ یا ناداستآ ‘جمہوریت‘ کے نام پر ‘پاکستان دشمنی‘ بھی کشید کرتے رہے ہیں جو کہ خطہ کے لیے کوئی نیک شگون نہیں بلکہ ‘استعمار‘ کے لیے کسی ‘خوشخبری‘ سے کم نہیں ہے۔ یہ بات بھی ‘انڈین‘ کی ‘ڈپلومیسی‘ کو آشکار کرتی ہے کہ وہ ایک زمانہ میں ‘سرمایہ دار‘ (امریکہ) کے دشمن ‘سوشلزم‘ (روس) سے ‘دو جسم مگر اک جان ہیں ہم‘ کی طرز پر وابستہ رہا ہے لیکن آج اس کے دشمن ‘سرمایہ دار‘ کا سب سے بڑا اتحادی ہے۔ اس صورتحال میں یہ کہنا آسان ہو گیا ہے کہ انڈیا کی ‘سیاسی نظریاتی سرحدیں‘ نامکمل، ناپختہ اور ادھوری ہیں اور اس کے نزدیک سیاست ‘چلتی کا نام گاڑی‘ ہی کی حیثیت ہی رکھتی ہے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
بہت اچھا لکھا ہے ، ایک حساس ادارے نے پاک لوگوں کو ھندوستان کے ساتھ مقابلے بازی میں ڈال دیا هوا ہے ـ لیکن یه مقابلے بازی صرف اسلحے تک محدود هے کیا ہی اچھا هو که لکھنے والے اس طرح لکھیں که انڈیا کے ساتھ جمہوری اداروں کا مقابله هونے لگے ـ
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
آپ نے بجا طور پر صحيح لکہا ہے جب تک عوام کو اپنے فيصلے کرنے کا مو قع نہيں ديا جاتا اور تمام فيصلے ايجنسياں يا ان کے ملاں کريں گے تو ملک ميں افراتفری اور لاقانونيت ہی کی پينشن ملے گي۔ احترام آدميت ختم ہو جائے گا ـ ايسے ميں کوئی اپنے ملک سے پيارکيسے کرے گاـ نيم ملاں نے نہ صرف فوجي انقلاب کي راہ ہموارکي بلکہ اسلام کی تبليغ ايسے کی کہ ہر عقيدے کا مسلمان دوسرے عقيدے والے کو کافر کہنے لگاـ ہندؤں ميں بہی ذات پات ہے ليکن وہ ايک دوسرے کو کافر نہيں کہتے اور اپنے ملک سے محبت کرتے ہيںـ يقين کريں يہاں پرديس ميں پاکستانی بتاتے ہوئے بہت شرم آتی ہےـ مجبوران ہميں بہي اکثر اوقات انڈين کہنا پڑتا ہےـ
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
ميں نہيں مانتی کےدونوں ملکوں کےبيچ ميں عوامی مکا لات شروع ہے ايک دوسرے کو نيچا دکھانے کيلۓ ليکن دونوں ملکوں کےسياستدانوں ميں ضرور يہ وائرس عام ہے،ممبئی ميں تو انگلش ميڈئيم سينٹس اسکولز بھی سرکاری ہيں اورکي اچاہيۓجب بہترين تعليم وہ بھی مفت ليکن اس کےبرعکس يہاں انٹرنيشنل ليول يہ معياری تعليم مڈل کلاس تک کيلۓ خواب ہے،ہم نےصرف ايٹمی طاقت بننے کی کاپی کی انڈيا سے پر اچھا کچھ نہيں سيکھا افسوس
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
‘بات تو سچ ہے لیکن بات ہے رسوائی کی‘
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
جنا ب آپ کا بلاگ پڑھ کر تو ایسے لگتا ہے جیسے انڈیا میں یورپ سے بھی زیادہ خوشحال ہیں -
اپنے سے پانچ گنا چوتھے ملک سے مقابلہ کر کے تو انڈیا کی برائی ظاہر کرنے کی ناکام کوشش ہے .
ایسے چند ایک کارنامے سنا کااحساس کمتری کی مری پاکستانی قوم کو مرعوب تو کیا جا سکتا ہے مگر انڈیا کی حالت آج بھی قبل رحم ہے .
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
چودھری صاحب خير سے ہمارے ملک ميں بھی عوام ہی طاقت کا سر چشمہ ہيں مگر ووٹ کے ذريعے نہيں بلکہ صرف لانگ مارچ کے ذريعے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
اس بات ميں دو آرا نہيں ہو سکتيں کہ انڈيا سياسی طور پر ہم سے آگے ہے اور مسلسل آگے بڑھ رہا ہے يہ بنيادی فرق ہے جب تک ايک مخلص قيادت پاکستان کو ميسر نہيں ہوتی ہم تنزلی کا شکار رہيں گے موجودہ قيادت اپوزيشن سميت اپنی نسلوں کا مستقبل سنوارنے ميں مصروف ہيں اس صورتحال ميں کسی اوردشمن کی ضرورت نہيں ہے ہم خود اس کام کو بخوبی کر ليں گے
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
دیکھنا یہ ہے کیا ان اقدامات کے نتیجے میں ایک عام انڈین کی حالت تبدیل ہوئی۔ ورنہ اس قسم کے اقدامات یا اعلانات تو یہاں بھی بہت ہوتے ہیں۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard