صلیبیں اٹھائے لوگ
مجھے اختر کالونی کراچی کا وہ ٹین ایج لڑکا یاد ہے جس کے والدین اسے گھر سے بن سنور کر اچھے کپڑے پہن کر باہر نکلنے سے منع کرتے تھے کہ کہیں پڑوسی مارے حسد کے اس پر 'توہین رسالت' کی آڑ لے کر حملہ نہ کرديں۔ یہ وہ دن تھے جب اختر کالونی جیسی بستی میں بھی سپاہ صحابہ والے آن پہنچے تھے۔
میں ان دنوں وائی ایم سی اے، کراچی میں رہتا تھا جہاں کے سکول کی بچیوں کو قریب کے آرٹلری تھانہ میدان کے لڑکے اور برنس روڈ کے پہلوان روز آکر چھیڑا کرتے تھے۔ ایک دن کسی ایسے اوباش نے وائی ایم سی اے سکول سے چھٹی کے وقت نکلتی لڑکی کے گال پر تھپڑ مار دیا تھا۔ جب کسی راہ گیر نے نوجوان کے اس اقدم پر مداخلت کرنا چاہی تو اسے کہا گیا 'تمہارا کیا! لڑکی تو عیسائی ہے۔' لڑکی کی مدد کو آنے والے عیسائی نوجوانوں کو 'توہین رسالت' کی دھمکی دے کر خاموش کردیا گیا۔
کراچی وائی ایم سی اے ایک عجیب نگر تھا۔ اب سنا ہے وائی ایم سی اے کے سو سال کی لیز ختم ہونے پر اس پر لینڈ مافیا اور ایک 'نامعلوم' گروپ نے قبضہ کرلیا ہے۔
مجھے اس وقت حیرت ہوئی جب مجھے ایک عیسائی ٹیکسی ڈرائیور سلیم مسیح نے بتایا تھا کہ رشوت نہ دینے پر ٹریفک اے ایس آئی اس کے چالان پر لکھنے لگا تھا 'ملزم ڈرائيور نے سلمان رشدی کے کتاب کی تعریف کی۔'
سلیم مسیح ڈرائیور نے مجھے بتایا تھا کہ وہ تو بھلا ہو ٹریفک پولیس افسر کے دوسرے ساتھیوں کا جنہوں نے اسے 'توہین رسالت' کے قانون کے غلط استعمال سے روک دیا تھا۔
صدر میں جہانگیر پارک کے سامنے تاریخی سینٹ اینڈریو چرچ کی بیرونی دیوار کو بھائی لوگوں نے آتے جاتے ایک اوپن ایئر پیشاب گھر میں بدل دیا تھا۔ جب چرچ کے پادری نے ایسا کرنے والوں سے احتجاج کیا تو اسے کہا گیا 'یہ مسجد نہیں چرچ ہے۔'
ان دنوں بینظیر بھٹو کی حکومت تھی اور وائی ایم سی اے کے مسیحی چوکیدار نے مجھ سے کہا 'حسن بھائی، حکومت ان پر کیوں توہین رسالت نہیں لگاتی جو کہتے ہیں بھٹو یسوع کی طرح صلیب پر چڑھ گیا تھا'۔ بشیر بھائی چوکیدار عجیب آدمی تھا۔ ایک رات اس نے مجھے اپنی جیب سے کسی مدرسے کی ایک سند نکال کر دکھائی کہ جو اس کے عیسائی مذہب تبدیل کر کے مسلمان ہونے کی تھی۔ پھر وہ کہنے لگا 'کیا کریں، کل اگر کوئی ایسی ویسی بات ہو جائے تو بچا تو جائے'۔

~RS~q~RS~~RS~z~RS~25~RS~)
تبصرےتبصرہ کریں
آداب! ملک میں اقلیتں چونکہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں لہذا یہ ممکن نہیں کہ اِکا دکا اقلیتی افراد، اکثریت کو کوئی نقصان پہنچا سکیں۔ اسی طرح اکثریت کو اقلیتوں سے کسی قسم کا خطرہ و خدشہ و خوف پیدا ہونےکا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لہذا جب سیاستدان ’مُردوں‘ پر سیاست چمکا سکتے ہیں تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ ملک کی کرتا دھرتا اور ملک پر بالعموم جبکہ نظام تعلیم پر بالخصوص مکمل کنٹرول رکھنے والی ’ملائیت‘ گوجرہ جیسے واقعات کی آڑ میں اپنی ’سیاست‘ چمکانے کے لیے کرتی ہو یا کرواتی ہو۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
کسی قانون کا غلط استعمال نہيں کيا جاتا ہے بلکہ پاکستان ميں شائد قانون بنتے ہی کمزوروں اور غريبوں کے خلاف استعمال کرنے کے ليے ہيں۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
حسن بھائی! محو حيرت ہوں کہ آپ نے بلاگ کے ليے يہ موضوع چن کر کيا کيا انکشافات کر ديے اور ساتھ عقل مند کو اشارہ کافی ہے کے مصداق يہ بھی آشکار کرديا ہے کہ لوگ کس طرح معمولی باتوں، نجی معاملات و لڑائی جھگڑے کی آڑ ميں يہ قانون کيسے استعمال کرتے ہيں۔ اب معاملات اس حد تک بڑھ چکے ہيں کہ اس کی زد سے کوئی بھی محفوظ نہيں۔ اب تک کئی مثاليں سامنے آچکی ہيں جن ميں لوگوں نے قانوں اپنے ہاتھ ميں لے کر تباہی و بربادی مچائی اور الزام کی صحت جانچے بغير کئی لوگوں کی جان بھی لی جاچکی ہے۔ آپ نے درست و بروقت نشاندہی تو کردی اس قانون کے غلط استعمال پر لیکن کيا ہی اچھا ہوتا کہ حاليہ سانحے پر بھی دو سطريں لکھ ديتے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
حسن مجتبيٰ صاحب کيا پاکستان صرف برائيوں کا گھر ہے يا اپ صرف تاريک حصہ ديکھنے کے قابل ہيں۔ جو ہوا صحيح نہيں ہوا مگر اپ پر افسوس ہے صد افسوس۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
يہ نہ مضمون، نہ ارٹيکل اور نہ خبروں پر تبصرہ ہے بلکہ ايک خوبصورت بلاگ نويسی ہے جو پاکستانيوں کے ہاں تعصب کو اجاگر کرتا ہے۔ ہاں يہ اور بات ہے کہ کوئی مانتا نہيں۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
توہین رسالت کے غلط استعمال پر بھی موت کی سزا ہونی چاہیے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
اس قسم کی حرکتیں وہی لوگ کر سکتے ہیں جنہیں خود اسلام کے بارے میں نہیں پتا، نہ ہی ان کے دل میں خوف خدا ہوتا ہے۔ اللہ ہمیں سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق دے، آمین۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
شکریہ آپ کے اس اقدام کا ورنہ ہم تو روز اپنی صلیب اٹھاتے ہیں اور اگلے دن کا انتطار کرتے ہیں۔ حالات اچھے تو نہیں ہیں لیکن ’امید‘ بڑی ہے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
اقلیتوں کے خلاف تشدد ناقابل برداشت اور خلاف اسلام فعل ہے۔ جو لوگ قوانین کے غلط استعمال کے ذریعے اقلیتوں کو پریشان کرتے ہیں ان کے خلاف انتہائی سخت کارروائی ہونی چاہیے اور یہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس سلسلے میں قانون سازی کرے۔ اس کے علاوہ ہمارے معاشرے کو بھی اس سلسلے میں اپنا رویہ بدلنا چاہیے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
حسن صاحب آپ نے يہ کافی کڑوی بات لکھی ہے۔ میرا خیال ہے کہ زیادہ لوگ تبصرہ نہیں کریں گے کیونکہ ہم حقوق العباد بھول چکے ہیں کہ اسلام میں اس کی بھی کوئی اہمیت ہے۔ اگر ہم لڑائی کی بجائے ایک دوسرے کی عزت کرنا سیکھ جائیں تو سب کی عزت ہوگی۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
حسن صاحب، ہمارے ايمان ميں جلوس تو بہت ہے مگر خلوص کا فقدان ہے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
اگر ہمارے رہبر حقوق العباد کا درس دينے لگے تو ان کی دکان کيسے چلے گی
اس لیے تو ہم دکھاوے اور برادری ميں ناک اونچی کرنے کے لیے لاکھوں لگا ديتے ہيں مگر پڑوسی بھوکے مر جائيں پرواہ نہيں کرتے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
جناب ميری سمجھ ميں يہی نہيں آيا کہ آپ کہنا کيا چاہ رہے ہيں۔ ميرے خيال ميں تو جگہ بھرنے کے لیے ايک ايويں سی تحرير لکھ ڈالی، اس لیے اس پر کيا کہيں سمجھ نہیں آتا۔ البتہ ايک مسئلہ قابل تصحيح ہے، جناب نے کالعدم سپاہ صحابہ کو مسحيوں کا دشمن ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جو سراسر غلط ہے۔ سپاہ صحابہ کا مقصد ناموس صحابہ کی حفاظت اور ملک دشمن عناصر کو معيشت اور ديگر قليدی عہدوں پر قابض ہونے سے روکنا ہے جس ميں وہ کافی حد تک کامياب رہی ہے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard