قاہرہ کا 'خطبہ'
براک اوباما کے خطبہ قاہرہ پر بھانت بھانت کے تبصرے چھ آباد براعظموں میں اگلے سات دن تک جاری رہیں گے۔ نہ میں اس خطبے کے متن پر فی الحال کوئی تبصرہ کرنا چاہتا ہوں اور نہ ہی اس خطبے پر ہونے والے تبصروں پر کوئی تبصرہ کروں گا۔
بس ایک بات۔۔۔۔۔بش جونیئر کی ہکلاتی ، حمق زدہ ، طفلانہ معصومیت آمیز انگریزی ( کہ جسے بشریزی کہنا مجھے زیادہ اچھا لگتا ہے) سن کر پنجابی کی وہ کہاوت اکثر یاد آتی تھی کہ 'منہ چنگا نہ ہووے پرگل تے چنگی کرو۔۔۔۔۔۔'
بشریزی کی آٹھ سالہ اذیت کے بعد اوباما کا فنِ تقریر لسانی بےراہروی کے چلچلاتے صحرا میں چشمہ آبِ شیریں کے مانند لگتا ہے۔
براک اوباما کے بقول ایک تقریر سے تو حالات و حقائق نہیں بدل سکتے لیکن بیس جنوری کی حلفِ وفاداری والی تقریر سے لے کر چار جون کےقاہرہ کے خطبے تک یہ بات تسلسل سے کہی جاسکتی ہے کہ ' گڑ نہ دے گڑ جیسی بات تو کر' کا محاورہ اوبامہ نے گھول کر پی رکھا ہے۔

~RS~q~RS~~RS~z~RS~35~RS~)
تبصرےتبصرہ کریں
خان صاحب اب کيا کہيں! آپ نے تو ايک محاورے ميں ہی اوباما ماموں کو نچوڑ کر رکھ ديا ہے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
بات گڑ کی طرح ميٹھی تو ہے ليکن بے اثر ہے۔ گڑ کے شربت کے بعد کام ہوتا نظر بھی آنا چاہيے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
جہاں گڑ سے کام چلتا ہو وہاں زہر کیا دینا، کیا خیال ہے وسعت صاحب۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
واہ کيا اچھے طريقے سے کوزہ ميں بند کی ہے بات آپ نے۔ مجھے پنجابی کا ايک اور محاورہ ياد آ رہا ہے۔ ’منہ چماں، ٹُک نا دواں، کھا بچا بتھيرياں‘۔ اس کا مطلب ہے کہ منہ چوموں مگر روٹی نہ دوں اور کہوں کہ بيٹا جتنی مرضی کھاؤ۔ بس کچھ ايسا ہی حساب ہمارے ساتھ ہو رہا ہے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
چلیں کسی امریکی صدر کو بات کرنے کا ڈھنگ تو آیا۔ ورنہ تو بش خاندان کی باتیں سن کر ہی جی خوش ہو جاتا تھا۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
چلو برف پگھلنے کا آغاز تو ہوگیا۔۔۔۔۔گو کہ ’گلاں نال نہیں رتبے ملدے‘ یعنی باتوں سے مرتبے نہیں ملتے۔۔۔۔۔لیکن جب امریکی صدر کچھ کہہ رہے ہوتے ہیں تو وہ ایک طرح سے پالیسی بیان ہی ہوتا ہے۔ سو کچھ اور انتظار کہ دودھ کو دہی بننے کے لیے بھی آٹھ پہر درکار ہوتے ہیں۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
وسعت اللہ خان صاحب میں تو کم از کم آپ کے محاورے (گڑ نہ دے گڑ جیسی بات تو کر) سے اتفاق نہیں کرتا کیوں کہ براک حسین اوباما ایک طلسمی شخصیت والا آدمی ہی نہیں بلکہ عملی کام کرنے والا اور کچھ کر دکھانے والی شخصیت ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ بہت جلد فلسطین اور اسرائیل دو آزاد ریاستیں ہوں گی۔انشااللہ۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
تمہی کہو يہ انداز گفتگو کيا ہے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
اوباما کی تقریر سے یہ بات عیاں ہے کہ چاہے جو بھی امریکہ کا صدر بنے مسلمانوں اور ان کے ممالک کے لیے حالات بدلنے والے نہیں ہیں۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
اوباما ايک تاريخ ساز شخصيت ہے۔ ان جيسا ذہين اور قابل شخص بہت کم ہی قوموں کو نصيب ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ مجھ سے اتفاق کريں گے مگر يہ حقيقت ہے کہ اوباما ايک لازوال اور مدلل بات کرنے والا انسان ہے۔ اس شخص ميں اميد اور بلا کا حوصلہ ہے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
ہم نے سن رکھا تھا کہ یہ براک اوباما مسلمان تھا، شاید اسی وجہ سے ان کی خطابت میں مولویانہ رنگ کہیں کہیں نظر آتا ہے ۔۔۔۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
محترم ايسا لگتا ہے کہ آپ کو صرف طنز کا تير ہی چلانا آتا ہے۔ اس وقت امريکہ ميں بڑے بڑے ادارے ديواليہ ہو رہے ہيں۔ گاڑيوں کی دنيا پر حکمرانی کرنے والا جنرل موٹر بھی ديواليہ ہوگيا ہے ليکن يہ امريکہ ہی ہے جو سوات اور دوسرے علاقوں کے پناہ گزينوں کی دل کھول کر مدد کر رہا ہے۔ کيا اس وقت ان تيس لاکھ پناہ گزينوں کی کسی اسلامی ملک نے اتنی امداد کی ہے جتنی اوباما ايڈمنسٹريشن نے کی ہے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
اگر واقعی ايسا ہے تو اوباما کے اگلی سيڑھی پر قدم کا انتظار کرتے ہيں کہ ونڈ کھا، کھنڈ کھا‘ ( بانٹ کے کھانا ايسے ہے جيسے چينی کھانا)
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
واقعی یہ بات تو ماننے کی ہے کہ بالآخر کہیں سے مسلمانوں اور اسلام کے حوالے سے تو ہمدردانہ الفاظ سامنے آئے۔ یہ بات الگ ہے کہ ابھی تک ان دعووں اور باتوں کو عملی جامہ پہنانا باقی ہے۔ ابھی اوباما نے بہت کام کرنا ہے خصوصاً امریکہ کے حوالے سے دنیا بھر میں پائی جانے والی نفرت کو ختم کرنے کے لیے سنجیدہ اور حقیقی اقدامات اٹھانا۔ اس کے بعد ہی مستقبل کا مورخ انہیں ایک تاریخی شخصیت قرار دے گا۔ فی الحال ہے تو زبانی جمع خرچ ہی لیکن باد بہاری جیسا لگتا ہے :)
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
براک اوباما صرف مسلمانوں کو دلاسا دے رہا ہے۔ يہ کسی نہ کسی طريقے سے پاکستانی ايٹمی طاقت چھیننا چاہتے ہیں۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
سوائے منافقت کے اس تقرير ميں اور کچھ نہ تھا، اللہ ہميں ان چالوں کو سمجھنے کی توفيق دے۔ قرآنی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے فرماتے ہيں کہ ’جس نے ايک انسان کو قتل کيا اس نے ساری انسانيت کو قتل کيا‘، تو جن کو آپ نے افغانستان، عراق اور پاکستان ميں قتل کيا وہ تو شايد انسان ہی نہ تھے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
اوباما کے فن خطابت سے تو کوئی کلام نہيں مگر۔۔۔ خوشی سے مر نہ جاتے گر اعتبار ہوتا۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
ان کی تقرير محض لفظوں کی بہار تھی۔ انسانيت کا قتل کرنے والے ہميں قرآنی آيات کے ذريعے انسانيت کی عظمت کا درس ديتے رہے۔ جناب حقيقت يہ ہے کے امريکہ کو اسلام اور مسلمانوں کی طاقت کا ادراک ہو چکا ہے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
بجا فرمايا آپ نے وسعت صاحب لوگ کہتے ہيں کہ کئی برسوں کے بعد پہلی بار ايسا ہوا ہے کہ کسی صدر نے اسلامی دہشت گردی کا لفظ استعمال نہيں کيا اور نہ ہی ’ٹيررازم‘ کی رٹ لگائی بلکہ اس کے لیے ’اکسٹريم وائيلنس‘ کا متبادل لفظ استعمال کيا گيا۔ الفاظ کا بے دريغ نہيں بلکہ محتاط استعمال قابل ستائيش ہے ليکن تشنگی اس وقت تک رہے گی جب تک يہ باتيں عملی شکل نہيں اختيار کرليتيں۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
چليں وسعت بھائی آپ گڑ جيسی بات کا مزہ ليں ہم ديکھتے ہيں کہ يہ صاحب بہادر کرتے کيا ہيں يعنی ’تيل ديکھو، تيل کی دھار ديکھو‘ اور ’يہ اُونٹ کِس کروٹ بيٹھتا ہے‘ وغيرہ وغيرہ۔ اور بھی بہت سے محاورے ہيں جو کہيں تو پيش کروں۔ ايسی صورتِحال کے عين مطابق ہيں اور بر محل بھی۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
براک اوباما کی باتوں پر جو یقین کرے گا وہ اس دور کا احمق ترین شخص ہوگا۔ ان میٹھی میٹھی باتوں سے مسلمانوں کو گرویدہ بنانے کے سوا کچھ نہیں کیا جاسکتا۔ اگر امریکہ اپنی مسلم دوستی میں سچا ہے تو مسلمانوں کی سرزمین سے فوراً اپنے گھر چلا جائے۔ اور یار دوستوں کو اب سمجھ لینا چاہیے اور ان کے ساتھ اتنا ہی تعاون کرنا چاہیے کہ قومی مفادات پر ضرب نہ آئے، نیز عزتِ نفس بھی مجروح نہ ہو۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
کہيں اوباما نے يہ محاورہ تو نہیں سن رکھا کہ ’جو گُڑ سے مر جائے اسے زہر کيوں ديا جائے‘۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard