اٹھارہ فروری کو ہوا کیا تھا؟
پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ اٹھارہ فروری کے عام انتخابات میں عوام نے پیپلز پارٹی کو ملک چلانے کا مینڈیٹ دیا تھا اور محترمہ بینظیر بھٹو کی پالسیوں اور نظریے کی حمایت کی تھی۔ تاہم اب ان انتخابات کو بائکاٹ کرنے والے کچھ 'رہنماؤں' نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ اٹھارہ فروری کو تو لوگوں نے دراصل اس رائے کا اظہار کیا تھا کہ وہ صدر مشرف کو صدارت سے باہر دیکھنا چاہتے ہیں۔
تو اٹھارہ فروری کو ہوا کیا تھا؟ کیا عوام نے اپنے نمائندوں کو ووٹ دیا تھا یا انتخابات کو ریفرنڈم سمجھ کر صرف ایک مسئلے پر اپنی رائے کا اظہار کیا تھا؟
انتخابات سے یہ واضح ہوا تھا کہ لوگ عوامی سیاستدانوں کو سرکاری پروپاگینڈا کے باوجود رد نہیں کرنا چاہتے اور عوام مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کو بدنام کرنے کی جنرل مشرف کی تمام تر کوششوں کے باوجود اب بھی قاف لیگ جیسے گروہ پر ترجیح دیتے ہیں۔
لیکن کیا عمران خان کی یہ بات صحیح ہے کہ اٹھارہ فروری کو عوام نے صدر مشرف کو نکالنے کا فیصلہ سنایا تھا؟ کیا آپ صرف یہ سوچ کر ووٹ ڈالنے گئے تھے کہ یہ میرا مشرف مخالف ووٹ ہے۔
عمران خان ایک سیاسی جماعت چلا رہے ہیں لیکن ان کی زیادہ تر حرکتوں اور بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی پاکستان کے نظام اور سیاسی حقائق سے بہت زیادہ واقفیت نہیں ہے۔
وہ سیاستدان ہیں اور انہیں ایک منتخب سیاسی حکومت کے خلاف کام کرنے والوں کے ساتھ نہیں ملنا چاہیے۔ اس وقت تمام سیاسی جماعتوں کو سوچ لینا چاہیے کے ان کی حرکتوں سے پاکستان میں جمہوریت کا مستقبل وابسطہ ہے۔
ججوں کی بحالی کا مسئلہ دیکھ لیں۔ ججوں کو بحال کرنا بہت ضروری ہے لیکن یہ تو دیکھیے کہ وکلاء تحریک کو کس قسم کے گروہ ہائجیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب ججوں کی بحالی پر جنرل حمید گل اور جنرل اسلم بیگ جیسے سابق فوجی بیانات دینا شروع ہو گئے ہیں۔
یہ افراد ماضی میں (خدا نخواستہ) جمہوریت پسند یا جمہوریت دوست کے طور پر نہیں جانے جاتے تھے۔ بلکہ یہ اور ان کے سابق فوجیوں کی تنظیم کے بیشتر افراد جمہوری حکومت اور عوامی پالسیوں کے خلاف کام کرتے رہے۔ جنرل اسلم بیگ کے فوج کے سربراہی کے زمانے میں ہی فوج کے ادارے آئی ایس آئی نے منتخب حکومت کو ختم کرنے کے غرض سے ووٹ آف نو کانفیڈنس کرانے کےلیے اراکین اسمبلی ک خریدنے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ اس 'غدار' حرکت کے لیے کروڑوں روپے کی رقم خرچ کی گئی۔
تو اگر اس طرح کے لوگ کسی معاملے پر با آوازِ بلند بولنا شروع کر دیں تو ان کے مقاصد(اور ان کی ساکھ) کے بارے میں ہمیں کچھ غور تو کرنا چاہیے۔
ادھر جماعت اسلامی ایک دم سے آزاد عدلیہ کی حامی بن گئی ہے اور وہ بھی اس تحریک کو اپنائے ہوئے ہے۔ اور عمران خان جیسے لوگ جماعت کی ہاں میں ہاں ملاتے جا رہے ہیں اور اپنے مبینہ اصولوں پر بات کرتے جا رہے ہیں۔ نہ عمران خان اسمبلی میں ہیں، نہ جماعت اسلامی اور نہ ہی متنازع سابق فوجی جرنل۔
ہمیں ان کی باتیں ضرور سننی چاہئیں لیکن تھوڑا سوچ سمجھ کر۔
ہمیں منتخب افراد کے حوالے کچھ فیصلے کرنے ہونگے۔ ججوں کے معاملے میں عوام کو اپنی رائے کا اظہار کرتے رہنا ہوگا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ غیر جمہوری قوتوں کو وکلا تحریک استعمال کرنے کا موقع دیں۔

~RS~q~RS~~RS~z~RS~35~RS~)
تبصرےتبصرہ کریں
آپ کی يہ بات صحيح ہے کہ ہميں منتخب نمائندوں کے حوالے کچھ فيصلے کرنے چاہيں۔ ہم نے تو سارے فيصلوں کا اختيار ہی ان منتخب نمائندوں کے حوالے کيا ہے ليکن جيسے نمک کی کان جانے والے بھی نمک ہی بن جاتا ہے، اس ليے يہ منتخب نمائندے بھی بامشرف ہو چکے ہيں اور کوئي کام نہ کرنے پر طرح طرح کی فضول تاويليں ہی گھڑتے رہتے ہيں۔ اب مشرف کون سے منتخب ہيں، جو اتنی سوچ بچار ہو رہی ہے۔ مشرف نے تو خود ايک ٹی وی انٹرويو ميں کہا تھا کہ منتخب تو ہو گئے ہيں ليکن اعتماد کا ووٹ نئی اسمبلی سے ليں گے۔ اسی طرح ان فضول بہانوں کی بھی کوئی ٹھوس بنياد نہيں کہ ججوں کے مسئلے سے زيادہ اہم روزی روٹی کا مسئلہ ہے، لہذا احتجاج نہ کيا جائے۔ تو کيا يہ نمائندے روزی روٹی کا مسئلہ حل کر رہے ہيں۔ بالکل نہيں، بس دونوں کام نہ کرنے کے بہانے بناتے ہيں۔ بھائی معيشت کا مسئلہ ٹھيک کرنا ہے تو کرو، روکا کس نے ہے۔ اور جنرل حميد گل اور اسلم بيگ پر تنقيد اس ليے واجب ہے کہ انہوں نے خفيہ طور پر کچھ اقدامات کيے تھے تو ان سب کا احتساب ہونا چاہيے اور ابتدا مشرف سے ہونی چاہيے۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
آداب! بمطابق خاکسار، اٹھارہ فروری کو نہ ملک کي آج تک سب سے بڑی سياسی اور واحد نظرياتی پارٹی پاکستان پيپلزپارٹي جيتي اور نہ سرمايہ داروں کے ٹولوں پر مشتمل اور بيک وقت آمريت وملائيت کي پيداوار ن ليگ جيتي بلکہ اس دن طالبانائزيشن، ملائيت، شدت پسندي، دہشتگردي، اور اسٹيبليشمنٹ کی جہاں شکست ہوئی تھی وہيں پر عوام نے جو مينڈيٹ اپنی پارٹيوں کو ديا اس سے صدرپاکستان جناب محترم پرويزمشرف صاحب پر پاکستانی تاريخ کا مضبوط ترين اعتماد کا اظہار کيا گيا ہے- کيونکہ صدرصاحب کی پاليسيوں کی وجہ سے ہی ملک کو ديمک کی طرح کھانے والے 'شتونگڑوں' کو شکست ہوئی تھی اور يہی بات صدرمشرف کا ٹارگٹ تھی جس سے پتہ چلتا ہے کہ بھٹو کے بعد صدر مشرف ہی پاکستان کے صحيح معنوں ميں خيرخواہ ہيں، سبحان اللہ- رہی بات معطل عدليہ کی تو پاکستانی تاريخ ميں ان کے کرتوت اس قدر کالے ہيں کہ ميرا بس چلتا تو ميں تين نومبر کا اقدام نو مارچ کو ہی کرديتا کيونکہ 'فرسٹ امپريشن از دي لاسٹ امپريشن'- يہ تو صدر صاحب کی دريا دلی ہي تھی جو کالے کوٹ کو تين نومبر تک برداشت کرتے رہے بالکل جيسے لال مسجد اپريشن سے قبل صر صاحب نے دہشتگردوں کو ھتيار ڈالنے کے ليۓ ان گنت مواقع ديۓ تھے-
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
آپ نے ساری سياسی جماعتوں اور بندوں کی بات کی ليکن ايم کيو ايم کو بھول گئ اچھا ہی کيا ويسے صرف عمران خان ہی کيوں غير جمہوری حرکتيں کرتے نظر آرہے ہيں اگر يہ نئ حکومت منتخب ہونے سے پہلے کی اپنی باتوں پر عمل کرليتی تو يہ وکلاء تحريک شروع ہی نہ ہوتا اب جسے بھی مقبول ہونا ہے وہ حکومت کے خلاف اور وکلاء کا ہمدرد بن کر ٹی وی چينلز پر اپنے خيالات کا اظہار کر رہا ہوتا ہے ہم عوام کوئ دودھ پيتے بچے نہيں بلکہ بچے تو زيادہ ہوشيار ہوتے ہيں عدليہ آزاد ہو بس
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
ووٹ تو واقعی مشرف مخالف تھا بی بی جی آپ يہ کيوں بہيں سوچتيں کہ اب ہم اس پيپلز پارٹی کی حماعت کريں جو خود بی بی مرحومہ کے قول کی حماعت نہيں کرتی ہر طرف سے اين آر او نے انہيں جکڑ رکھا ہے يا نواز شريف جو آج تک يہ نہ بتا سکے کہ ڈيوٹيشن کے بعد وہ کيسے چپکے سے تشريف لے آئے اور عمران خان ايک سچا اور زبان کا پکا آدمی ہے جو جھکتا نہيں اور جتنا علم اس کے پاس ہے اتنا کسی سياسی شحصيت کے پاس نہيں
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
قطعي غيرسنجيدہ کردار کي حامل جماعت اسلاني اور يہ چلے ہوۓ کارتوس ہمارے سابق جرنيل تو لائق تبصرہ ہي نہيں ليکن عمران پر بے حد افسوس ہوتا ہے - شوکت خانم اسپتال جيسے ناممکن کو ممکن بنا دينا صرف انہي کا کام تھا - انہي فلاحي کاموں ميں مصروف رہتےتو ا س سے بڑي خدمت کيا ہوسکتي تھي ليکن برا ہو ليلاۓ سياست کا جس نے کہيں کا نہ رکھا - سياست کرنا ہي تھي تو پارٹی کا بنيادی ڈھانچہ کھڑا کرکے ووٹ بينک کا تعين اور پھر اس کے حصول کی حکمت عملی بنائي جاتي جو آج تک نہ ہوا - اس پر طرہ يہ کہ مداحوں کے اصرار کے باوجود انتخابات کا بائکاٹ کر ديا ورنہ کم از کم آج پاريمان کے فلور سے تو بات کر رہے ہوتے جو صحيح طريقہ تھا - سچ تو يہ ہے يہاں کوئي ايک شخص بھي مطلوبہ قيادت فراہم کرتا نظر نہيں آتا - نظام چلنے ديا گيا تو ايک دو نسلوں ميں شائد بہتر چہرے نظر آنے لگيں - ورنہ خدا ہي حافظ ہے ہم سب کا -
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
بہت اچھے!
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
آسان جواب - 18 فروری کو پاکستانی عوام نے ان پارٹيوں (عمران خان اور جماعت اسلامي) کو مسترد کرديا جنہيں آج عدليہ کے مروڑ اٹھ رہے ہيں - سيدھی بات ہے امريکہ مشرف کو فارغ کر کے نۓملا زم لانا چاہتا ہے- اسکے ليے جمہوری حکومت کو گرانے کا کام ايک بار پھر قاضی صاحب کو سونپا گيا ہے - نيا جال لاۓپرانےشکاری
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
کيا يہ کوئ بتا سکتا ہے کہ پی پي پی نے کہا ہوکہ ہم کو ؤوٹ دو ہم ججز کو بحال کريں گے ججز کے نام پر ؤوٹ تو ان لوگوں نے ليا جو آج وکلاء تخريک ميں اہم کردار ہيں آگر يہ نہيں کرينگے تو ان کو کيا جواب دينگے جن لوگوں نے ججز بحالی پر ان کو ؤوٹ ديا جب وزارتيں اتنی پياری ہوں تو کاندھوں پر سياہ پٹياں کيوں
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
سندھي مين کھاوت ہے کہ بارات پراۓ احمق ناچی
عمران اور قاضی بھی اس طرح ہے ھی
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
ان سارے ججز جرنيلوں وکيلوں سياستدانوں کو بذريعہ ہيلی کاپٹر برازيل کے جنگلات ميں پھينک دينا چاہيے کيونکہ ادھر والوں نے بڑا عرصہ سکون کی زندگی گزار لی اب ہميں تھوڑے سکون کی ضرورت ہے پر وہ بيچارے جو زکام نہيں برداشت کر پائے ان کو کيسے برداشت کريں گے
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
افسوسناک بات يہی ہے کہ وکلاء تحريک اب ان تانگہ پارٹيوں نے ہائجيک کرلی ہے جنہوں نے نہ صرف اليکشن کا بائکاٹ کيا بلکہ عوام کو بھی بائکاٹ کی کال دي- عوام نے اس کال کو سراسر مسترد کرديا- اب ان تمام تانگہ پارٹيوں نے وکلاء تحريک کو پی پی پی مخالف تحريک کا مرکز بنا ليا ہے- ان کے ساتھ سا تھ ان تمام ريٹائرڈ جينرلز کے پيٹ ميں بھی جمہوريت کا مروڑ اٹھ رہا ہے جن کے ہاتھ جمہوری حکومتوں کے خون سے رنگے ہوۓ ہيں - وکلاء تحريک شروع دن سے کوئی ايسی حکمت عملی نہ مرتب کرسکی جو عوام کی مناسب فکری رہنمائی کرسکتي- اسی لۓ عوام نے تانگہ پارٹيوں کی کال کو مسترد کيا- موجودہ صورتحال برقرار رہی تو وکلاء تحريک اپنے مقاصد کے حصول ميں بھی ناکام نہ صرف ناکام رہے گی بلکہ مجھے خدشہ ہے کہ جنرل پرويز مشرف کے لۓ مزيد تقويت کا باعث بھی بن سکتی ہے-
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
عنبر جی آپ نے اور ہم نے ناجانے ايسے کتنے اليکشن ديکھے ہوں گے اور آخرکار وُہی بات کہ اُونٹ رے اُونٹ تيری کون سی کل سيدھی کے مصداق ہر بار چاہے ووٹ آف کنفيڈ ينس لے ليا گيا يا نہيں ليا گيا ايمانداری سے بتائيں ہم کس کس بات کے لۓ کس کس کو جواب دہ ہيں کاش کہ ہم کبھی اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچيں کيا مسئلہ صرف وُکلاء تحريک ہے وُہ بات اس وقت صرف اس لۓ کُھل کر ہر طرف چھاگئ ہے کہ جب اور جس مُلک ميں انصاف کی فراہمی ہی نا ہو جو ہر بات کی رُوح ہے تو خالی جسم کيا کر پاۓ گا وُہ تو سڑ جاۓ گا ليکن ميں آپ کی اس بات سے سو فيصد اتفاق کرُوں گی کہ
„غير جمہُوری قُوتوں کو وُکلاء تحريک کو استعمال نہ کرنے ديں„
ليکن ہوتا ہميشہ يہی ہے کہ کبھی بھی کوئ تحريک جب شُرُوع ہوتی ہے تو اُس ميں بڑا دم خم ہوتا ہے ليکن کُچھ وقت کے بعد تحريک وہيں کی وہی ہوتی ہے اور بات کہيں کی کہيں جا پہنچتی ہے سوکوشش اس امر کی ہونی چاہيۓے کہ فيصلوں کے لۓ مُنتخب افراد اہنا رول کب اور کيسے ادا کرنا شُرُوع کريں گے ہم مُنتظر ہيں باقی سب کی طرح يعنی
wait and see
مع السلام
شاہدہ اکرم
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
عنبر خيری آپ کا کالم پڑھ کر آپ کی عقل پر ماتم کرنے کا جی چاھا، آپ جو اوٹ پٹانگ لکھتی رھيتی ھين پليز انھين پر لکھتی رھيے ان موضوعات کو رھينے ھی ديجيے کے يے آپ کے بس کی بات نھين ھے
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
صحیح کہا۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
سبحان اللّٰہ ، کس انداز سے جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کی دشمنی کا حق ادا کیا۔ کہیں ایم کیو ایم سے سے دوستی تو نہیں۔ بہت خوب
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
آپ نے صرف تھوڑا سوچنے کا مشورہ ہی ديا اور زيادہ سمجھدار لوگ غصہ کر رہے ہيں- کيا آپ نہين جانتيں کہ يہاں عفل کی بات کرنا يا مشورہ دينا بھی ايک گناہ ہے؟
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
عمران خان اور جماعت اسلامی تو اول روز سے وکلا تحریک کے ساتھ ہیں۔ آپ نے پوچھنا ہے تو پی پی پی اور زرداری صاحب سے پوچھیں کہ وہ کیوں اپنا موقف روزانہ کی بنیاد پر تبدیل کر رہے ہیں۔ جن لوگوں کا خیال ہے کہ انتخابات مشرف پر عوام کے اعتماد کا اظہار ہیں ان سے درخواست ہے کہ حقائق کی دنیا میں واپس آجائیں اورکم سے کم آج ملتان سے شروع ہونے والے لانگ مارچ میں ہی عوام کی شرکت اور جوش وخروش دیکھ لیں جو کسی بھی سیاسی جماعت کے پروگرام سے زیادہ ہے۔ اور ایسے حالات میں جب سیاسی جماعتیں بہت طویل عرصے سے عوام کو کسی بھی ایشو پر سڑکوں پر لانے میں ناکام رہی ہیں۔ پھر کیا فرمائیں گے علمائے دین بیچ اس مسئلے کے ۔۔۔ یہ صرف عمران خان اور جماعت اسلامی کی وجہ سے تو نہیں ہے۔ اگر قانون کی بالا دستی کے لیے عوام نے باشعور ہونے کا ثبوت دے کر اس تحریک میں اپنا حصہ ڈال ہی دیا ہے تو عمران خان اور جماعت اسلامی والوں کو آپ کم سے کم پاکستانی شہری ہونے کے ناطے ہی رعایتی نمبر دے کر پاس کر دیں۔ ہم بھی عجیب لوگ ہیں۔ جب جرنل کچھ بولتے نہیں تھے تب بھی وہ نشانہء تنقید تھے، اورا اب اگر ریٹائرڈ جرنیلوں نے ہی کچھ سچ بولنا اور عوامی امنگوں کے مطابق بات کرنا شروع کر ہی دیا ہے تو اب بھی وہ گردن زدنی ہیں۔ رہی بات ایم کیو ایم کی تو آپ اس سے تو صاف پہلو بچا گئی ہیں۔ کراچی میں 12 مئی کو جو کچھ ہوا اور جس کے براہ راست مناظر تک گرفت میں لائے گئے۔ وہاں آپ 42 جانوں کا خون پینے والے آشوب سے صاف کنارہ کر گئیں۔۔ اس کا ذکر تک گوارا نہیں کیا۔
جاں بیچنے کو آئے تو بے دام بیچ دی
اے اہل مصر، وضع تکلف تو دیکھیے
ویسے آپ کا کالم کسی ایشو سے زیادہ ان دو پارٹیوں کے خلاف لکھا گیا لگتا ہے۔ ۔۔
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard
ہمارے چند ليڈران نہ صرف ظالم اور بيوقوف ہيں بلکہ وہ انتہائ حساس معاملات ميں غير سنجيدہ رويوں کے بھی حامل ہيں - ہماری ساری تاريخ اس بات کی گواہ ہے - 1960 ء کی دہائ کے بعد تقريباُ ہر اليکشن پيپلز پارٹی نے جيتا ہے اور يہ بھی عجيب اتفاق ہے کہ ہر اليکشن سے نہ صرف پہلے تمام استحصالی قوتيں يکجا ہو جاتی ہيں بلکہ پی پی پی کے اليکشن جيتنے کے بعد اس کے خلاف سازشيں عروج پر پہنچ جاتی ہيں - يہی تاريخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے - کبھی مذہب کے نام پر ، کبھی حب الوطنی کے نام پر ، کبھی غريب ان پڑھ جاہل عوام کا طعنہ دے کر - سب سے حيرت ناک امريہ ہے کہ عوام اور پی پی پی کا رومانس اب تک قائم ہے - اس کو ختم کرنا حميد گل قماش کے جرنيلوں ، قاضی حسين احمد جيسے مولويوں ، عمران خان جيسے کھلنڈرے سياستدانوں اور اس قبيل کے دوسرے مکروہ چہروں کے بس کی بات نہيں - جب کبھی بھی جنرل اليکشن ہونگے ، جب کبھی بھی عوام سے آزادانہ راۓ مانگی جاۓگی عوام پی پی پی کے حق ميں نکلے گی اور جوق در جوق نکلے گی اور يہ عوام کو بيوقوف بنانيوالے،مذہب کے نام پر استحصال کرنے والے،پنجاب کے نام پر لوٹنے والے منہ ديکھتے رہ جايئں گے - تاريخ کا سبق يہی ہے اگر يہ لوگ اس سے کوئ نتيجہ اخذ کرنے کی صلاحيت رکھتے ہيں-
تبصرے کے بارے میں شکایت کریں
Virtual keyboard