| بلاگز | اگلا بلاگ >>

عابد علی پھر ملیں گے

عارف شمیم | 2006-12-19 ،12:37

عابد علی کے متعلق کیا لکھوں۔ بس یہ کہ وہ میرا بچپن کا دوست تھا۔ ایسا دوست جو کہ ہر کام میرے مشورے سے کرتا تھا۔ کرکٹ سے لے کر سکول بدلنے تک اس نے مجھ سے پوچھا تھا۔ بس نہیں پوچھا تو پولیس میں جانے کا۔ کاش وہ مجھے اس وقت مل جاتا۔ لیکن اب بہت دیر ہو گئی ہے۔ abid_ali158.gif


منگل کو دفتر آ کر جو پہلی بری خبر ملی وہ اپنے اس بچپن کے پیارے دوست کی ہلاکت کی تھی۔ خبر کچھ اس طرح سے تھی ڈی آئی جی بنوں عابد علی بنوں سے پشاور آ رہے تھے کہ پشاور کی حدود میں داخل ہوتے ہی سورنہار کے علاقے کے قریب ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی جس میں وہ اور ان کا ڈرائیور ہلاک ہو گیا۔

ایک دم ایسا لگا کہ عابد کے ساتھ بچپن کے ایک دور کو گولی مار ہلاک کر دیا گیا ہے۔ عابد سے میرا تعلق تیسری چوتھی جماعت سے ہے۔ ہم دونوں کا ایک سکول تھا، قریب قریب گھر تھے اور دونوں نے ہی اکٹھے کرکٹ کھیلنا شروع کیا۔ عابد کو کرکٹ کا بڑا جنون تھا۔ جب بیٹ بلا خریدا اس وقت اسے کرکٹ کھیلنا اتنا اچھا نہیں آتا تھا۔ لیکن ہم سب یار دوست اس کے گھر جا کر کرکٹ کھیلتے اور ہمسایوں کے گھروں میں گیند پھینکتے۔ اس بات کو شاید بیس پچیس سال سے زائد ہو گئے ہیں جب ہم نے آخری مرتبہ اکھٹے کرکٹ کھیلی ہو۔

عابد کو دانتوں سے ناخن کاٹنے کی بھی عادت تھی۔ میں نے بہت کوشش کی کہ وہ یہ چھوڑ دے۔ پتہ نہیں وہ اب بھی ایسا کرتا تھا کہ نہیں۔

پھر وہ دن بھی آیا جب عابد نے مجھے بتایا کہ وہ سکول بدل رہا ہے۔ اس نے مجھے بھی مشورہ دیا کہ میں بھی بدل لوں۔ لیکن میں نے ایسا نہیں کیا۔ میرے پاس ابھی تک وہ ڈائری ہے جس میں اس نے میٹرک کی تیاری کے دوران مجھے کچھ مضامین لکھ کر دیے تھے۔ میٹرک کے بعد عابد نے انجینئرنگ کی اور پھر مقابلے کا امتحان یعنی سی ایس ایس پاس کر کے پولیس میں بھرتی ہو گیا۔

چند ماہ پہلے میری سکول کے ایک پرانے دوست اور پھر سرحد کے ایک پولیس افسر سے ملاقات ہوئی تو اس نے بتایا کہ عابد بنوں میں ہیں۔ انہیں سے معلوم ہوا کہ عابد نے سرحد میں میں شادی کر لی ہے اور اس کے دو بچے ہیں۔ میرا ارادہ تھا کہ اس سے بات کروں، اسے شادی اور بچوں کی مبارکباد دوں گا۔ مجھے اس کا نمبر بھی ابھی ملنا تھا کہ بس اب دیر ہو گئی ہے۔

اس وقت مجھے جو بات یاد آ رہی ہے وہ بچپن میں عابد کی سالگرہ ہے۔ وہ اصرار کر رہا تھا کہ میں اس کی سالگرہ میں آؤں پر میرے پاس اسے دینے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ وہ اپنے ڈرائیور کے ساتھ میرے گھر آ گیا تھا اور کہہ رہا تھا کہ تم ساتھ نہیں چلو گے تو میں بھی نہیں جاؤں گا۔ یہیں بیٹھا رہوں گا۔ آخر ماں جی نے مجھے کچھ پیسے دیے اور میں بھاگ کر بازار گیا اور اتنے پیسوں میں جو تحفہ لا سکتا تھا وہ لایا۔ آج سوچ رہا ہوں کاش وہ تحفہ نہ دیتا۔

وہ ایک چابی کے چھلے میں لگا چھوٹا سا پستول تھا۔ اسی طرح کا ہتھیار جو عابد کی جان لینے کا سبب بنا۔

عابد علی پھر ملیں گے۔

تبصرےتبصرہ کریں

  • 1. 14:12 2006-12-19 ,Imran Khalid :

    بہت افسوس ہوا آپ کے بچپن کے ساتھی کی ناگہانی وفات کا۔ اللہ انہیں اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر دے۔

  • 2. 14:28 2006-12-19 ,hayatafridi :

    میں انہیں 2005 میں ملا تھا۔ وہ بہت اچھے افسر تھے۔ وہ بہادر اور ایماندار تھے۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم اتنا اچھا ڈی آئی جی کھو بیٹھے ہیں۔

  • 3. 14:35 2006-12-19 ,حميد :

    عا بد علی آپ کا دوست اور ہمارا محافط تھا۔ ہم ان کے غم میں آپ کے ساتھ شریک ہیں۔

  • 4. 14:58 2006-12-19 ,سيد رضا ، برطانيہ :

    محترم عارف شميم صاحب ، سلام عرضِ خدمت ہے ۔
    خدا کسی کو نہ دے يادِ رفتگاں کا جنوں۔۔
    بہت ہی دکھ بھرا بلاگ جس کے پڑھنے سے آنکھيں نم ہو گئيں ۔ سب سے پہلے تو اپنے عزيز دوست کی دردناک ہلاکت پر ميری طرف سے تعزيت قبول فرمائيں اور اگر ہو سکے تو ان دو يتيموں کے سر پر دستِ شفقت رکھ کر انہيں گلے سے لگا کر کچھ تسلی کچھ دلاسہ دے ديجيۓ گا اور اس دکھياري بيوہ کو تسلی و تشفی اور صبر کی تلقين مگر مجھے نہيں معلوم کہ آپ کچھ کہہ بھی پائيں گے۔ شايد نہيں کيونکہ صرف آنسو اور آنسو ہی رواں ہوں گے ۔
    يہ بلاگ پڑھ کر مجھے ڈاؤ ميڈيکل کالج کے دو پيارے دوست ياد آگۓ ۔ بلال اور فضہ ،جو دردناک حادثوں ميں عين عالمِ شباب ميں ہم سے جدا ہوگۓ ۔ مگر ان کی ياديں دل و دماغ سے محو ہی نہيں ہوتيں اور شايد کبھی ہو بھی نہ سکيں ۔
    جناب عابد علی کی المناک موت ہم سب سے بہت سے سوال کررہی ہے اور ميں يہ سوچ رہا ہوں کہ ايسی موت صرف ’عابدوں‘ کے لیے ہی کيوں لکھی ہوتی ہے ؟
    سہما سہما ڈرا ڈرا سا رہتا ہے
    جانے کيوں جی بھرا سا رہتا ہے
    ايک پل ديکھ لوں تو اٹھتا ہوں
    جل گيا سب ذرا سا رہتا ہے
    آپ نے درست کہا ۔۔ عابد پھر مليں گے ۔ يقيناً ايک دن ضرور مليں گے۔
    اپنا بہت خيال رکھيۓ گا ۔
    ملتمسِ دعا
    سيد رضا

  • 5. 15:18 2006-12-19 ,تنوير احمد کوھاٹ پاکستان :

    عابد علی کا شمار اعليٰ ترين پوليس افسران ميں ہو تا تھا۔ جہاں بھی جرم کی شرح بڑھتی لوگ عابد کی مانگ کرتے۔ دير، مردان، کوھاٹ، چارسدہ، پشاور کے لوگوں کی آنکھوں کا تارہ تھے۔ وزير اعليٰ سرحد ان کو خود بنوں لے کر گئے۔

  • 6. 15:26 2006-12-19 ,jehangir :

    میں تیئس سال کا ہوں۔ میں نے عابد علی کے متعلق کوئی چار چھ سال پہلے سنا تھا۔ ان کی بہادری کے متعلق، جرم کو ختم کرنے کے ان کے عزام کے متعلق۔ مجھے ان سے عقیدت تھی۔ میں نے انہیں نہیں دیکھا لیکن میں پھر بھی ان سے عقیدت رکھتا ہوں۔ اب جبکہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں، جو کہ پاکستان میں بہادر لوگوں کا مقدر ہے، میں رونا چاہتا ہوں۔ گو کہ میری آنکھیں نہیں رو رہی ہیں، پر میرا دل رو رہا ہے۔

  • 7. 15:38 2006-12-19 ,pir sheraz :

    ہم کو آپ سے بھی زیادہ افسوس ہوا ہے۔ کیونکہ وہ بہت بااصول افسر تھا۔ وہ اس سے پہلے مردان میں ایس ایس پی تھی۔ پورے مردان میں وہ اپنی ایمانداری کے لیے بہت مشہور تھا۔ اس کے جانے کے بعد مردان کے تمام اچھا لوگ اس کے پیچھے بہت رو رہے ہیں۔ مردان کے لوگ اسے بہت عرصے تک یاد رکھیں گے۔ خدا ان کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔ آمین۔ پیر شیراز شاہ، مردان

  • 8. 15:47 2006-12-19 ,شاہد مقصود :

    جب میں نے انہیں پہلی مرتبہ دیکھا تھا میں نے اپنے ایک دوست سے پوچھا کہ یہ کون جوان آدمی ہے جو سڑک کے کنارے جوگگنگ کر رہا ہے اور دوسرے پولیس والے اس کے پیچھے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ اس نے کہا کہ یہ عابد علی ایس ایس پی مردان ہے۔ یہ عابد علی کے دور میں ہی ہوا تھا کہ مردان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک سو پچاس مطلوب افراد نے اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کیا۔ہم ایک ایماندار اور بہادر پولیس افسر سے محروم ہو گئے ہیں۔

  • 9. 15:50 2006-12-19 ,Muhammad Tariq :

    جب میں یو ای ٹی پشاور میں تو اس وقت میں نے پہلی مرتبہ عابد علی کا نام سنا تھا۔ وہ اپنی بہادری اور ایمانداری کی وجہ سے بہت مشہور تھے۔ خدا انہیں جنت عطا فرمائے۔ آمین

  • 10. 15:56 2006-12-19 ,اے رضا - ابوظبی :

    آپ کے دوست ايک ذمہ دار افسر ہونے کےناطے غالباً کسي طاقتور کے پہلو ميں کانٹا بن چکے ہوں گے ورنہ پوليس والے کو کون مارسکتا ہے۔ پوليس والے تو خود سب کو لٹکا ديں۔ اس سانحے پر دلی رنج ہوا۔ خداوند کريم مرحوم کي بيوہ اور کمسن بچوں پر زندگی آسان کرے اور آپ جيسےدوستوں کو صبر جميل عطا فرمائے۔

  • 11. 16:14 2006-12-19 ,Sajjadul Hasnain :

    شميم بھائی ہم نے تو اس خبر کو محض ايک خبر جانا تھا مگر آپ کا بلاگ پڑھا تو احساس ہوا کہ قيا مت کيسے ٹوٹتی ہے۔ دوست کی موت کا درد کيسا ہوتا ہے يہ ميں بھی جانتا ہوں۔ بارہويں جماعت ميں ميرا ايک دوست ہوا کرتا تھا شوکت جو کلاس فيلو تو تھا ہی اس کے ساتھ ہی ساتھ کالج کے ميدان ميں ميرا ٹيم ميٹ بھی تھا۔ايک دن نہانے کے لیے وہ دريا ميں گيا اور پھر اس کا ادھ کھايا جسم ہم نے اپنے کندھوں پہ اٹھايا تھا۔ اس دور ميں جب کہ ہم دوست کھلنڈرے لا پرواہ شرير اور بے فکرے ہوا کرتے تھے زماں و مکاں اور معاش جيسے حالات سے کوسوں دور مگر جب دوست کا جنازہ کندھے پہ رکھا تھا تو پہلی بار پھوٹ کر روئے تھے اور پتہ چلا تھا کہ بچھڑنا کيا ہوتا ہے۔ آج آپ بھی ايک درد سے گذر رہے ہيں۔ ايسا درد جو سينے ميں سماتا تو ہے ساتھ ہي اپنی ٹيسيں ہميشہ کے لیے چھوڑ جاتا ہے۔ اس درد کو آج پھر ايک بار ميں نے محسوس کيا ہے۔ خدا عابد علی کو اپنی جوار رحمت ميں جگہ دے اور لواحقين کو صبر جميل عطا کرے۔ آمين ثم آمين

  • 12. 16:30 2006-12-19 ,فھيم اللہ حان :

    عابد علی کے موت کی خبر سن کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ اور روئے کيوں نہ۔ کہ ميرا وطن ايک ايماندار شخصيت سے محروم ہوگيا ہے۔ جب سے يہ حکومت آئی ہے کبھی بھی ميڈيا پر کوئی اچھی خبر نہی سني۔ ميرے نزديک وہ شہيد ھےکہ اس دور ميں ھمارے ملک ميں ايماندار لوگوں کا يہی انجام ہوتا ھے۔ خدا ان کو مغفرت نصيب کرے۔

  • 13. 16:34 2006-12-19 ,shahidaakram :

    عارف شميم بھائی ايک ايسا بلاگ ہے جسے پڑھ کر احساسات پر برف سی جمتی ہُوئی محسوس ہو رہی ہے۔ کُچھ رشتے ايسے ہوتے ہيں جو اُن رشتوں سے بھی بعض اوقات بہت زيادہ قريب محسوس ہوتے ہيں جن کو ہم خونی رشتے کہتے ہيں کيونکہ خون کے رشتوں سے کُچھ اور طرح کی توقعات ہوتی ہيں اور پيار بھي اور طرح کا ہوتا ہے، ليکن ميرے خيال ميں دوستی کے لیے جس طرح کی توقعات کی ضرورت ہوتی ہے وہ صرف اور صرف انڈر سٹينڈنگ ہوتی ہے گو ان باتوں کا اطلاق باقی کے رشتوں ميں بھی ہوتا ہے مگر دوستی کے رشتے ميں اس کی ضرورت کُچھ زيادہ اس لۓ بھی ہوتی ہے کہ ہم بعض باتيں جو کسی سے بھی نہيں کر سکتے صرف دوستوں سے کر سکتے ہيں۔ اور ميرے خيال ميں يہی وہ بات ہے جو اس رشتے کی خوبصورتی ہے کہ خون کے رشتے ہميں اللہ تعاليٰ کی طرف سے انعام ملتے ہيں اور اُن ميں آپ کی اپنی کوئی مرضی شامل نہيں ہوتی جبکہ دوست آپ اپنی مرضی سے بناتے ہيں۔ بات مشہور ہے کہ انسان اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے يعنی ہم اُن سے ہی دوستی کرتے ہيں جن ميں ہميں اپنا آپ نظر آتا ہے اپنے جيسی باتيں دکھتی ہيں اور ايسے ميں جب اچانک ايسی خبر سُننے کو ملے تو دل کا وہی حال ہوتا ہے جو اس وقت شميم بھائی آپ کا ہے کہ بہت دل چاہتا ہے اُن پرانے دوستوں سے ملا جائے جن کے ساتھ بہت پيارا بچپن گزرا يا گزارا ليکن زندگی کی ہماہمی ہميں اُن دنوں کو دوہرانے کا موقع ہی نہيں ديتی اور وقت اپنا وار کر کے چلتا بنتا ہے اور ہم بس سوچتے ہی رہ جاتے ہيں جو بعد ميں پچھتاوا ہی بن جاتا ہے۔ مُجھے بھی اس وقت، وقت کی گرد ميں کھوئے ہُوئے ايسے بہت سے پيارے دوست ياد آ رہے ہيں جن کے بغير کبھی لگتا تھا ايک سانس بھی لينا دُشوار تھا بچپن کے لا اُبالی دن ،گڑيوں کے کھيل امی سے چُھپ کر سڑی دُھوپ ميں نيم کے نيچے جُھولا جُھولتے ہُوئے اور نا جانے کيا کُچھ جو ياد آئے جا رہا ہے
    ذکر سے جن حادثوں کے سانس رُکتی تھی کبھی
    وقت کی مجبوريوں نے سب گوارا کر دیے۔
    دعا ہے کہ شميم بھائی کہ وہ آپ کو دوست کا غم برداشت کرنے کا حوصلہ دے کہ وقت کی ايک بات پتہ نہيں اچھی ہے يا بُری کہ ہر حال ميں گزر جاتا ہے يہ سوچے بغير کہ ہو سکتا ہے جو لمحہ يا وقت اس وقت کسی کے لیے خوشی کا ہو وہ کسی کے لیے انتہائ دُکھ کی گھڑی ہو بس يہ دُعا کريں کہ ہم جو بھی کوئی فيصلہ کريں اُ س پر عمل کرنے ميں دير نا لگائيں کيونکہ بعض اوقات يہ ديری ہميشہ کا دُکھ بن جاتا ہے۔ خوش رہيں اللہ سب کو اپنی امان ميں رکھے
    دعاگو
    شاہدہ اکرم

  • 14. 17:37 2006-12-19 ,وہاب اعجاز خان :

    محترم عارف شمیم صاحب، مجھے آج بھی یاد جب پہلی مرتبہ وہ بنوں میں پوسٹ ہوئے تھے۔ اس دور میں جب ہر طرف جرائم کا دور دورہ تھا اس جیسا بااصول شخص آیا اور پھر اس نے ایسی جادوکی چھڑی چلائی کہ علاقے سے جرائم پیشہ افراد بھاگنے پر مجبور ہوئے۔

    پھر ان کا تبادلہ سرحد کے کسی اور علاقے میں ہوگیا ۔ پھر حالات خراب ہوئے۔ وزیراعلی کی فرمائش پر وہ دوبارہ اس علاقے میں پوسٹ ہوئے اور لوگوں نے ایک دفعہ پھر سکھ کا سانس لیا۔

    محترم عابد علی اگر مجرموں کے لیے دہشت کا نام تھا تو عام عوام میں وہ ایک ہردلعزیز اور نرم دل انسان کے طور پر مشہور تھے۔ ان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے۔ کہ بنوں کا شہری نہ ہونے کے باوجود بنوں کے ہر عام شہری کی آنکھ ان کے غم میں اشکبار ہے۔ اور ہر بچہ مرد عورت ان کے قتل پر ماتم کر رہا ہے۔
    وہ ایک ایسے افسر تھے جن کو دیکھ کرمحسوس ہوتا تھا کہ ابھی پولیس میں اچھے لوگ موجود ہیں۔ میں انھیں سلام پیش کرتا ہوں۔ ان کی شہادت رائگاں نہیں جائے گی۔ اللہ ان کے بچوں کو صبر دے ہم سب ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

    مرے چارہ گر کو نوید ہو صف دشمناں کو خبر کرو
    جو وہ قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا

    کرو کج جبیں پہ سر کفن مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو
    کہ غرور عشق کی بانکپن پس مرگ ہم نے بھلا دیا

    جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم جو چلے تو جاں سے گزر گئے
    رہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا

  • 15. 19:22 2006-12-19 ,فرخ شھزاد :

    شميم صاحب کا مضمون اور احباب کے تبصرے گواھي ديتے ھيں کہ مرنے والا ديانت دار اور فرض شناس انسان تھا۔ بقول نعيم صديقی
    مقتول يقيناً مجرم تھا کيون حسن سے اس نے پيار کيا۔

  • 16. 20:27 2006-12-19 ,محمد صبور :

    يہی تو ھمارے ملک کی بد قسمتی ہے کہ اچھے آدمی کو رھنے ھی نہی ديتے پہلے دیر میں اعجاز احمد لنگڑ يال کو شھيد کيا اور ابھی انکو پشاور ميں۔ خد ا پاک ا ن کے گھر و الو ں صبر جميل عطا فرمائے۔ آمين

  • 17. 20:29 2006-12-19 ,Ahmed Hasan :

    عابد کی دیانت کا میں بھی گواہ ہوں۔ کاش میں اپنے بچے کو بھی عابد جیسا بناؤں۔ ہم سب اس کے لیے دعا گو ہیں۔

  • 18. 21:51 2006-12-19 ,فريدی :

    محترم عارف شمیم صاحب، ہم کو آپ سے بھی زیادہ افسوس ہوا ہے۔ کيوں کہ موت ہے ہي بري چيز۔ مگر آپکے محترم عابد علی کچھ ماورائے عدالت قسم کی کارروائی کے لیے بھی مشہور تھے۔ وزیراعلی کی فرمائش پر ان کی دوبارہ پوسٹنگ ہوئی۔ کيا ادارے فرمائشوں پر چلتے ہيں۔ وزیر اعلیٰ کو اپنے علاقے کے لیے افسر چاہيے يا ڈانڈا مار۔

  • 19. 0:12 2006-12-20 ,Shah F :

    يہی تو اس قوم کی بدقسمتی ہے، کہ يہاں ايماندار لوگوں کو يا بھگا ليا جاتا ہے يا مار ديا جاتا ہے۔ کبھی مرحوم عابد علی سے ملاقات نہ ہوئی تھي، مگر جب سے ان کی موت کے بارے ميں سنا ہے دل اور آنکھيں دونوں ہی رو رہی ہيں۔ کيوں ہم اپنے محسنوں کے ساتھ ايسا سلوک کرتے ہيں اور کب تک سور نہار کے لچھے لفنگے اغواء برائے تاوان کے ليے لوگوں کو مارتے رہئں گے۔

  • 20. 0:57 2006-12-20 ,جاويد گوندل :

    زمین کھا گئي آسمان کيسے کيسے۔ شميم بھائي! اللہ تعالٰی مرحوم عابد علي اور انکے ڈرائيور کو جنت الفردوس ميں جگہ دے اور اُنکے بيوی بچوں، لواحقين اور آپ کو عابد علی کے دوست ہونے کے ناطے صبر عطا کرے۔ کوئی تو وجہ ہوگی جو اللہ تعالٰی اچھے لوگوں کو جلد اپنے پاس بلا ليتا ہے۔ دنيا بھر ميں جرائم پيشہ افراد سے مقابلے کے دوران پوليس کے لوگوں کی اموات ہوتی رہتی ہيں مگر جس طرع عابد علی جيسے سنئير پوليس افيسراور انکے مرحوم ڈرائيور کو قتل کيا گيا اس سے سازش کی بُو آتی ہے کہ لگتا ہے کہ قاتلوں کو مرحوم ڈی آئی جی کی نقل و حرکت اور ٹائمنگ کا درست علم تھا اور قاتل بھی کچھ ايسےنشانہ باز لوگ ہوئے جو رات کے اندھيرے ميں مرحوم عابد علی کو انکے ڈرائيور سميت شہيد کرنے ميں کامياب رہے۔ آخر يہ تمام درست معلومات قاتلوں تک کسی نے پہنچائی ہونگي؟ کيا پوليس ميں بھی اپنے ھي ساتھيوں کے خلاف کام کرنے والی کالی بھيڑيں موجود ہيں؟ آخر قتل کے مقاصد کيا تھے اور يہ قتل کس کے ايماء پہ ہوا؟ ضروري ہے کہ ان سب عوامل سے پردہ اُٹھے اور مجرم کيفرِ کردار کو پہنچيں کہ قحط الرجال کے اس عالم ميں ايک نيک خصلت سنئير پوليس افسر کا قتل ايسا سنگين واقعہ ہے جس سے ہمارا پورا نظام سواليہ نشان بن گيا ہے۔

  • 21. 2:03 2006-12-20 ,اکبر ناصرخان :

    مجھے ان کے ساتھ کام کرنے کا اتفاق ہوا ہے۔ اور جس نے بھی ان کے ساتھ کام کیا وہ ان کے بارے میں ہمیشہ ایک ہی رائے رکھے گا کہ وہ ایک بہادر انسان اور انتہائی فرض شناس آفیسر تھے۔ سرحد کی پولیس میں عابد علی ایک لیجنڈ کی حیثیت سے یاد رکھے جائیں گے اور پولیس سروس اور پاکستان ان پر ہمیشہ فخر کرے گا۔ عارف شمیم صاحب سے میں ہمیشہ شرمندہ رہوں گا کہ میں ان تک عابد علی صاحب کا فون نمبر وقت پر نہیں پہنچا سکا۔ دعا گو۔ اکبر ناصر خان

  • 22. 3:38 2006-12-20 ,قاری محمد عتیق الرحمن۔ٹورنٹو :

    محترم شممیم صاحب السلام علیکم و رحمۃ اللہ۔ بہت افسوس ہوا۔ شہید عابد علی مرحوم کے بارے میں میں نے بہت کچھ سن رکھا تھا وہ واقعی مردِ ہن تھے۔ اللہ پاک مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے نیک درجات کو بلند فرمائے اور ان کی فیملی کے تمام ممبران کو صبرجمیل نصیب فرمائے آمین۔ قاری محمد عتیق الرحمن۔جامعہ محمدیہ ٹورنٹو کینیڈا

  • 23. 5:47 2006-12-20 ,جاويد اقبال ملک :

    محترمی ومکرمی عارف شميم صاحب
    اسلام عليکم ! کے بعد عرض يہ ہے کہ ايک محنتی ، اور فرض شناس پوليس آفيسر کی اچانک موت کا سن کر بہت دکھ ہوا ، آپ کےتو پھروہ لنگوٹيے يار تھے۔ آپ کو تو اس سے کہيں ذيادہ دکھ ہوا ہوگا۔ يقينی طور پر ہمارے ملک کی يہی بد قسمتی ہے کہ ہم لوگ ديانت دار، فرض شناس لوگوں کو برداشت ہی نہيں کرتے، ہمارے ملک ميں ايسے بہت سے واقعات ہوئے جب اس طرح کے لوگوں کو گولی کا نشانہ بنايا گيا اور مزے کی بات يہ ہے ان کا کچھ پتہ بھی نہ چلا۔ يہ لمحہ فکريہ ہے۔ اور اس پر يقيناً ہمارے ارباب اختيار کو نوٹس لينا چاہيے ورنہ پھر ہمارا معاشرہ جرائم کی آماجگاہ بن جائے گا۔
    جاويد اقبال ملک
    E . mail mjiap Q yahoo .com

  • 24. 6:16 2006-12-20 ,احتشام فيصل چوہدری :

    اگر برے آدمی کو بھی قتل کيا جائے تو افسوس ہوتا ہے مگر يہ تو نہايت شريف اور ايماندار افسر تھے۔ ميرے بھائی صاحب جب پوليس افسر تھے تو اکثر و بيشتر پوليس کو درپيش مسائل اور ناپيد وسائل ميں عوامی توقعات پوری نہ کر سکنے پرفکر مند رہتے۔ انہی کی وساطت سے مجھے پوليس کو قريب سے ديکھنے کا موقع ملا۔
    حيرت و افسوس تو اس بات کا ہے کہ اگر کسی پوليس والے سے کوئی خون ناحق ہو جائے تو سڑکيں و بازار بند کر کے احتجاج کيا جاتا ہے اور اگر کسی پوليس والے کا خون ہو تو يہ سب تو درکنار لفظ ’شہيد‘ لکھنا بھی شايد گوارہ نہيں ہوتا۔ اچھے برے لوگ ہر محکمے ميں ہوتے ہيں بلکہ ان محکموں ميں بھی جن کا نام لينا گويا زندگی سے بيزاری کا اعلان ہے مگر نفرت صرف پوليس کو ہی ملتی ہے شايد يہ پاکستان کا مظلوم ترين طبقہ ہے۔

  • 25. 6:22 2006-12-20 ,محمد ر حمان لودھی اف مردان :

    جب عابد علی کے بارے ميں سنا تو بہت افسوس ہوا۔ کيونکہ وہ ايک ايماندار اور غريبوں اور مظلوموں کی مدد کرنے والا افسر تھا۔ مردان ميں ایس ایس پی رہا۔ ميرا ايک دفعہ ملاقات ہوا تھا۔

  • 26. 7:24 2006-12-20 ,رحمان لندن :

    جناب شميم صاحب! عابد علی مرحوم کی شہادت سے وطن عزيز ايک ايماندار، بہادراور فرض شناس پوليس افسر سے محروم ہوگياّ ہے۔ صوبہ سرحد ميں تنوير سپرا، ملک محمد سعد، صفت غيور، ظفراعظم جيسے چند ناموں ميں عابد علی کا نام سرفہست رہے گا۔ جرائم پيشہ افراد کے لیے عا بد علی دہشت کی علامت تھا۔ مجھے خد شہ ہے کہ عا بد علی کی موت بھی کہيں حفيہ والوں کی کار ستا نی نہ ھو۔

  • 27. 10:00 2006-12-20 ,shahid :

    عارف شمیم صاحب آپ کا دوست پورے سرحد کے عوام کا دوست تھا جو ان سے چھین لیا گیا۔ اللہ ان کے لواحقین کو صبر دے اور سرحد کے عوام کو حوصلہ دے کہ وہ اپنے دوست اور بھائی کے قاتلوں کو گرفتار کر کے اپنے انجام تک پہنچائیں۔میں سرحد کے گورنر سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اگر ان میں کوئئ دم ہے تو وہ شہید کے قاتلوں کو پانچ دن میں گرفتار کریں۔

  • 28. 10:10 2006-12-20 ,محمد زبير مروت (صحافي) :

    وہ بہت اچھے اور قا بل انسان تھے۔ ان کی خاص با ت یہ ہے کہ وہ خدا کی زمین پر ہر قسم کے برے لوگوں کو نہیں چھوڑ تے تھے۔

  • 29. 10:35 2006-12-20 ,Bilal from Toronto :

    يار آپ نے تو آج صبح صبح ہمیں بھی رولا ديا۔ خدا ان کو اپنی جوار رحمت ميں جگہ دے۔ آمين

  • 30. 12:35 2006-12-20 ,iftikhar :

    وہ اپنے ارادوں کے پکے تھے۔ جب وہ مردان میں ایس ایس پی تھے انہوں نے وہاں پر امن ماحول دیا۔ اللہ انہیں جنت دے۔

  • 31. 13:20 2006-12-20 ,ا سد صد يفی :

    میں پشاور کے گورنمنٹ ٹریننگ انسٹیٹیوٹ میں کام کرتا ہوں۔ میں عابد علی سے اس وقت ملا تھا جب وہ ٹریننگ کے لیے آئے تھے۔ ٹریننگ کے دوران انہوں نے کبھی بھی یہ ظاہر نہیں ہونے دیا کہ وہ کوئی اعلیٰ درجے کے آفیسر ہیں۔ انہوں نے ہماری بہت عزت کی۔ بطور استاد میں نے ان میں بہت سی خوبیاں دیکھیں، مثلاً جب بھی انہیں سگریٹ پینا ہوتا وہ واش روم چلے جاتے جبکہ دوسرے راہداری میں کھڑے ہو کر سگریٹ پیتے تھے۔ میں اور کیا کہہ سکتا ہوں اللہ انہیں جنت دے۔

  • 32. 15:57 2006-12-20 ,naif sultan :

    کبھی وہ ہمارے ضلعے صوابی میں آئے تھے، آج وہ اس دنیا میں نہیں ہیں۔ لیکن وہ ہمیشہ ہمارے دلوں میں رہیں گے۔ ان کا تعلق لاہور سے تھا اب ایسا لگتا ہے کہ وہ ہمارا پختون خون تھا اور ہم اس علاقے کے نوجوان ان کے راستے پر چلیں گے۔

  • 33. 21:24 2006-12-20 ,محمد ايوب :

    آج دل بہت رويا اس پوليس افسر کے لیے۔ خدا ان لوگوں کو ہدايت دے۔ اگر ہدايت ان کی قسمت ميں نہيں تو خدا اس زمين کو ان سے پاک کردے کہ يہ ناسور کسی اور اچھے انسان کی جان لے ليں گے۔ خدا عابد کو بخشے اور لواحقين و دوستوں کو صبر دے۔ آمين۔

  • 34. 4:59 2006-12-21 ,irfan khalid :

    عابد علی ایک بہت ہی شاندار پولیس آفیسر تھا۔ ہم کو اس کی موت کا بہت دکھ ہوا ہے۔ اللہ اس کو جنت میں جگہ دے۔

  • 35. 5:15 2006-12-21 ,Mian Asif Mahmood, MD U.S.A :

    آپ کا مضمون کافی زيادہ اداس کر گيا۔ اچھے انسانوں ميں ايک اور کم ہو گيا۔ قانون نافد کرنے والا لاقانونيت کی نظر ہو گيا۔ ويسے عام شہری روزانہ ہی ان کی کارروائیوں کا نشانہ بنتے ہيں۔

  • 36. 12:48 2006-12-21 ,Dr. Sajid Shah :

    میں کبھی شہید عابد علی سے نہیں ملا لیکن بنوں ان کی اتنی تعریف سنی تھی کہ ان کا شیدائی ہو گیا۔ آج بنوں میں ہر ایک غمناک ہے۔ اور لوگ رو رہے ہیں کہ کیسا شیر جوان چلا گیا۔ وہ یقیناً ایک بہادر اور بااصول انسان تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔

  • 37. 14:20 2006-12-21 ,from mardan akhtar munir :

    مجھے اس بات سے دکھ نہيں کہ تمھارا دوست مرا ہے ميرا دل کبھی بھی پوليس کے ليے نہيں رويا اور مجھے شہيد عابد کی موت ميں بھی پوليس کی بو آتی ہے۔ ميرا دل اگر رو رہا ہے تو اس غريب نواز انسان دوست اور بہادر مرد کے ليے جو مظلوم کيساتھ اسی وقت خود روانہ ہو جاتے، مجھے ايسا لگ رہا ہے کہ مظلوموں کا بادشاہ مر گيا۔ اب دوبارہ ظالموں کے بادشاہ کی بادشاہت ہوگی۔ اگر کوئی اور مرتا تو مجھے اتنا دکھ نہيں ہوتا جتنا عابد کی موت سے مجھے اور مردان کے لوگوں کو ہوا۔ اس کو ميں اکثر نماز جمہ ميں ديکھ ليتا تھا جب وہ مردان ميں تھے۔ اس نے ہمارے شہر کو بہت کچھ ديا ليکن ہم اس کے ليے صرف دعا کرسکتے ہيں۔ اللہ ان کو جنت نصيب فرماے۔ آمين، ثم امين اور لواحقين کو صبر عطا فرمايں اورہم سب ان کے ساتھ اس غم ميں برابر کے شريک ہيں۔ کيوں نہ ہوں گے ہمارا بھی بھائی تھا۔

  • 38. 9:12 2006-12-22 ,فاروق خان انسپکٹر پوليس :

    نگل گئی زمين آسمان کيسے کيسے

  • 39. 11:04 2006-12-25 ,عبدالمالک :

    عابدعلی صاحب مردان میں کچھ عرصہ گزار چکے تھے۔اور مردان جو بدمعاشوں کا گڑھ بن چکا تھا عابد علی صاحب نے تمام کا صفایہ کر دیا تھا۔اور مردان کا بچہ بچہ ان کی سخصیت سے واقف تھا۔ اور آج مردان کے عوام اتنی ہی دکھی ہے جتنا کوئی اپنے بھائی کیلئے ہوتا ہے۔ خدا ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین۔

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔